Daily Ausaf:
2025-03-31@22:34:05 GMT

رمضان شو میں ’بانجھ پن‘ کا علاج پوچھنے کی ویڈیو وائرل

اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT

کراچی(نیوز ڈیسک)اداکارہ و ٹی وی میزبان جویریہ سعود کے رمضان شو میں مرد کالر کی جانب سے خاتون ماہر غذائیت سے بانجھ پن کا علاج پوچھنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

مرد کالر کی جانب سے بانجھ پن کا علاج پوچھنے کی کال آنے پر میزبان جویریہ سعود، مہمان مایا علی اور ماہر غذائیت بھی پھوٹ پھوٹ کر ہنسنے لگیں۔

مرد کالر نے پروگرام میں کال کرکے اپنا مسئلہ بتایا اور ساتھ ہی ماہر غذائیت سے اس کا حل بھی پوچھا۔

کالر کا کہنا تھا کہ ان کی شادی کو کافی عرصہ گزر چکا ہے لیکن ان کے ہاں اولاد نہیں ہو رہی، جس وجہ سے وہ پریشان ہیں۔

کالر کے مطابق انہوں نے متعدد ڈاکٹرز اور حکیموں سے بھی علاج کروایا لیکن انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ماہر غذائیت انہیں کوئی اچھی غذا بتائیں، جس سے ان کا مسئلہ حل ہوجائے۔

مرد کالر کے سوال پر پروگرام میں بطور مہمان شریک ہونے والی اداکارہ مایا علی بھی پھوٹ پھوٹ کر ہنس پڑیں جب کہ میزبان جویریہ سعود بھی ہنستے ہوئے اسکرین سے دور ہوگئیں۔

مرد کالر کی فون پر ماہر غذائیت نے انہیں بتایا کہ وہ اس طرح کا علاج نہیں کرتیں، البتہ وہ انہیں کچھ غذائیں تجویز کرتی ہیں، ان کا مسئلہ ڈپریشن کا ہے، وہ اپنے ڈپریشن پر قابو پائیں۔

مرد کالر کے سوال پر جویریہ سعود نے سوال اٹھایا کہ وہ اپنے مسئلے کا حل پوچھ رہے ہیں یا اپنی بیگم کا ؟

اسی بات پر جویریہ سعود نے ہنستے ہوئے اسکرین سے دوری اختیار کرلی اور کہا کہ ان کا سوال کرنے اور جواب دینے والوں سے کوئی واسطہ نہیں۔

مرد کالر کی بات پر اداکارہ مایا علی ہنستے ہوئے فرش پر بیٹھ گئیں جب کہ ان کے ہنسنے اور مرد کالر کی جانب سے بانجھ پن کا علاج پوچھنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس پر صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔

ویڈیو وائرل ہونے پر صارفین نے تبصرے کرتے ہوئے پروگرام کی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کالر کی بات پر ہنسنے والی کیا بات ہے؟ انہوں نے ایک مسئلے کا حل پوچھا ہے اور یہ ان کا مذاق اڑا رہے ہیں؟

بعض صارفین نے جویریہ سعود اور مایا علی کو بدتمیز بھی قرار دیا جب کہ کچھ نے پروگرام کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ رمضان المبارک جیسے مہینے میں ایسے پروگرامات کیے جا رہے ہیں۔

View this post on Instagram

A post shared by Express TV (@entexpresstv)


مزیدپڑھیں:لاہور کی مساجد میں عیدالفطر کی نمازوں کے اوقات کار جاری

.

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: جویریہ سعود ویڈیو وائرل ماہر غذائیت مرد کالر کی مایا علی

پڑھیں:

سینئر سٹیزن کے حقوق کا خیال رکھا جائے

قارئین! جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے رمضان کا آخری روزہ ہوگا، رمضان المبارک میں سب سے زیادہ مہنگائی آپ کو ٹھیلے والوں کی جانب نظر آئے گی، انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں اگر آپ ٹھیلے کے قریب گاڑی کھڑی کردیں تو یہ جھگڑا اور فساد برپا کرتے ہیں۔

دکانوں کو تو چھوڑدیں ٹھیلے والے جو روٹ پر قبضہ کیے ہوئے ہیں وہ تربوز 200 روپے کلو، خربوزہ 200 روپے کلو، سیب300 روپے کلو،کیلے عام سے 250 روپے درجن اگر آپ ان سے صرف یہ کہہ دیں کہ’’ بھائی! یہ تو بہت مہنگا ہے صحیح قیمت لگا لو ‘‘ تو جواب سن لیں ’’ جاؤ، دماغ نہیں خراب کرو‘‘ اور جن کو یہ کہہ دیا ہے۔

ان میں عام آدمی کے علاوہ Phd ڈاکٹر، ایم بی بی ایس ڈاکٹر، MBA، CA، اکاؤنٹینٹ شامل ہیں۔ یہ اس قوم کے لیے المیہ ہے کہ ان داداگیروں پر کسی کا کنٹرول نہیں، نہ جانے اس شہر میں کیا ہو رہا ہے؟ کوئی پرسان حال نہیں اور معاف کیجیے گا، یہ یہاں ہو رہا ہے۔

پنجاب میں کسی حد تک کنٹرول ہے میں پھر یہی کہوں گا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کہاں تک حالات کو دیکھیں گے یہ کام تو پرائس کنٹرول والوں کا ہے۔ ادھر مرغی فروشوں نے سرکاری ریٹ ماننے سے صاف انکار کردیا ہے، ان کا کہنا ہے 640 روپے ہم مرغی کا گوشت فروخت نہیں کرسکتے۔

اب یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ انتظامیہ یا دکاندار دونوں میں سے کون قصور وار ہے۔ اخبارات میں اشتہارات جو صدقہ، زکوٰۃ کے حوالے سے آج کل آ رہے ہیں۔ اس میں نیکی، سادگی اور لوگوں کی مدد کے تذکرے ہوتے ہیں، ساری خدمت رمضان میں سینہ کھول کر آ جاتی ہے، ایسے ایسے اداروں کے نام آتے ہیں کہ عقل حیران و پریشان ہو جاتی ہے۔ اشتہارات کی مد میں چندہ لیا جاتا ہے اور یہ صرف رمضان میں ہوتا ہے۔

آج کل کینسر کے علاج میں 55 سے 60 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت لکھی ہے جب کوئی پریشان غربت کا مارا کینسر میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا علاج کرانے والا کوئی نہیں ہوتا۔

مجبوری کے تحت جب اس کے لواحقین کچھ تنظیموں سے رابطہ کرتے ہیں جو اشتہارات بھی صرف رمضان میں دیتے ہیں ان سے جب رابطہ کرو تو ان کے پاس بجٹ (پیسے) نہیں ہوتے جب کہ اشتہارات کی مد میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور اگر کوئی مریض 50 سال سے زیادہ کا ہو تو بڑی آسانی سے جان چھڑا لیتے ہیں کہ ان کی عمر اب زیادہ ہوگئی ہے، ہم ایسے مریض نہیں لیتے یعنی کے 50 سالہ شخص کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

کم درجہ والے کینسر کا علاج بھی 40 لاکھ سے کم نہیں ہے، اس میں اسپتال کی فیس اور سہولت شامل نہیں ہے اور مزے کی بات دیکھیں اکثر اسپتال میں تو بغیر اے سی کا روم ہوتا ہی نہیں ہے۔ بے شک وہ چھوٹے سے چھوٹا اسپتال کیوں نہ ہو جناح اور سول اسپتال کے علاوہ کینسر کے علاج کی سہولت کسی اسپتال میں نہیں۔

پرائیویٹ اسپتال کے اخراجات اتنے ہوتے ہیں جو غریب کے لیے ناقابل برداشت ہیں ذیابیطس (شوگر) اب ہر تیسرے گھر میں ڈیرے ڈال چکی ہے غریب تو جیتے جی مر گیا وہ علاج کیسے کرائے شوگر کے بعد چند اور بیماریاں بھی شوگر کی وجہ سے ہو جاتی ہیں، اس کا علاج بھی کرانا پڑتا ہے۔

 ادھر آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس اصلاحات کریں۔ گزشتہ 30 سال سے ہم آئی ایم ایف کے بارے میں سنتے اور پڑھتے آ رہے ہیں، دکھ اس بات کا ہے کہ پاکستان میں سیاسی طور پرکبھی سیاست دانوں نے یہ کوشش نہیں کی کہ ہمیں آئی ایم ایف کے سہارے کے بغیر چلنا ہوگا۔ مزے کی بات دیکھیں، گیس کے نئے ذخائر اکثر نمودار ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سب سے پہلے گیس کے ذخائر 1952 میں بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی کے قصبے سوئی سے دریافت ہوئے تھے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمارے سیاسی حضرات نے گیس کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ڈاکٹر قدیر خان نے کہا تھا کہ حکومت میرا ساتھ دے تو میں بجلی تیاری میں آپ کا مکمل ساتھ دے سکتا ہوں اور فی یونٹ 4 روپے بجلی تیار کرکے دے سکتا ہوں مگرکسی بھی سیاست دان نے ان کی بات پر توجہ نہیں دی اور وہ اپنے رب کی طرف لوٹ گئے۔

معروف سائنس دان ثمر مبارک نے حکومت کو باورکرایا کہ حکومت میرا ساتھ دے میں بہت ہی سستی بجلی تیار کرکے آپ کو کوڑیوں کے مول دے سکتا ہوں، یہ بیان انھوں نے غالباً ایک سال پہلے دیا تھا مگر اس پر ہماری کسی سیاسی شخصیت نے توجہ نہیں دی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جنھیں توجہ دینی ہے انھیں تمام مراعات مفت میں مل جاتی ہیں تو اس جھگڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟

گزشتہ دنوں ایک خبر اخبارات میں نمایاں طور پر شایع ہوئی جس میں وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ایک سماجی تقریب میں سینئر سٹیزن کارڈ کے اجرا کا اعلان کیا گیا۔ سماجی بہبود کے وزیر میر طارق علی خان تالپور اپنے کام کو بہت خوبصورتی سے انجام دیتے ہیں اور امید ہے کہ وہ اس مسئلے کو بھی سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس ملک کو سینئر سٹیزن نے ہمیشہ خوبصورت سہارا دیا۔ کیا ہم ان عمر رسیدہ افراد کی خدمات کو نظرانداز کرسکتے ہیں جیسے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، نوابزادہ نصراللہ خان، سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی۔

بلاشبہ سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پوری کوشش کررہے ہیں کہ سینئر سٹیزن کو حکومت سندھ کی جانب سے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ماضی میں سینئر سٹیزن نے کولہو کے بیل کی طرح اس ملک کی خدمت کی ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک میں سینئر سٹیزن کو بہت سہولتیں دی جاتی ہیں، راقم دنیا کے بیشتر ممالک میں گیا اور ہم نے وہاں جو عمر رسیدہ لوگوں کو سہولتوں کے ذریعے خوشحال زندگی گزارتے دیکھا بلکہ یہ جملہ زیادہ بہتر ہے کہ وہاں عمر رسیدہ افراد کے چونچلے اٹھائے جاتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ صوبے کی بہتری کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں اب وہ سارے اداروں کی چھان بین تو کرنے سے رہے، لوگ اپنی ذمے داریوں کو خود محسوس کریں ۔ گزشتہ دنوں بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا۔ میری مودبانہ گزارش ہے حکومت سے کہ ایئرپورٹ پر سینئر سٹیزن کے کاؤنٹر ہی الگ بنائے جائیں اور ریلوے میں بھی یہی سلسلہ کیا جائے۔

25 فروری کے اخبارات میں یہ خبر نمایاں طور پر موجود تھی کہ حکومت اگلے دو ماہ تک بجلی کی قیمت میں 6 سے 8 روپے فی یونٹ کمی کرے گی اچھی خبر تھی اب دیکھنا یہ ہے کہ اپریل میں کچھ دن رہ گئے ہیں، پاور ڈویژن کب اس پر عمل کرتی ہے ۔
 

متعلقہ مضامین

  • ریمپ واک کے دوران ایشان کھتر کے کپڑے اتارنے پر لوگوں کی تنقید، ویڈیو وائرل
  • خلوص اور محبت سے بھرے عید کارڈ سے واٹس ایپ تک
  • عید مبارک۔۔۔۔۔ !
  • جاپانی طلبہ کاکلاس روم میں شاندار ڈانس، ویڈیو وائرل
  • ریمپ واک کے دوران ایشان کھتر کے کپڑے اتارنے پر لوگ مشتعل، ویڈیو وائرل
  • جاپانی طلبہ کا کلاس روم میں شاندار ڈانس، ویڈیو وائرل، ملین ویوز مل گئے
  • سینئر سٹیزن کے حقوق کا خیال رکھا جائے
  • پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان رپورٹر چاند نواب بن گئیں
  • وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کے بھتیجے کی شیر کے بچے کے ساتھ ویڈیو وائرل