عرفان ملک: افغان باشندوں کے انخلا کی مہم کو ایک بڑا چیلنج درپیش ہے کیونکہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں ہزاروں افغان باشندے روپوش ہو گئے ہیں۔ 

حکومتی مشینری 67 ہزار 825 افغان باشندوں کی نشاندہی کرنے کیلئے متحرک ہو گئی ہے تاہم کئی اضلاع میں افغان باشندوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

راولپنڈی میں 37 ہزار 577 افغان باشندوں کا کوئی پتہ نہیں چل سکا جبکہ گوجرانوالہ میں 12 ہزار 438 افغان باشندوں کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔ سرگودھا میں 8318 غیر قانونی مقیم افغان باشندے روپوش ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ لاہور میں بھی 7341 افغان باشندے روپوش ہیں۔

افغانیوں کا انخلا، لاہور میں افغانی باشندوں کی تعداد کتنی؟

پولیس ذرائع کے مطابق غیر تصدیق شدہ یا روپوش ہونے والے 55 ہزار 26 بالغ افراد میں سے اکثریت کا پتہ نہیں چل سکاجبکہ روپوش ہونے والے افغان بچوں کی تعداد 12 ہزار 799 ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ سے بچ کر روپوش ہونے والے غیر ملکیوں کی نشاندہی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور پولیس اس حوالے سے مسلسل تحقیقات کر رہی ہے۔
 
 
 

.

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: افغان باشندے روپوش افغان باشندوں

پڑھیں:

خیبرپختونخوا سے کسی افغان باشندے کو زبردستی نہیں نکالوں کا، علی امین کا واضح اعلان

اسلام آباد:

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت افغان باشندوں کو زبردستی نہیں نکالے گی تاہم اگر کوئی رضاکارانہ طور پر جانا چاہے تو ہم ان کو بھجوا دیں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان میں جب تک امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔

ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان لوگوں نے ہتھیار اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعتماد کا رشتہ بنانا پڑے گا، جب تک افغانستان اور بارڈر ایریاز میں امن نہیں ہوتا حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کے پی میں ہم زبردستی لوگوں کو افغانستان نہیں بھجوائیں گے، صوبے کی پولیس اور صوبے کی انتظامیہ کسی کو بھی زبردستی نہیں نکالے گی، ہم کیمپ لگائیں گے جو رضاکارانہ طور پر جانا چاہے ان کو بھجوائیں گے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ دفترخارجہ کے کہنے پر ہی ہم افغانستان کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں، افغان مہاجرین کے حوالے سے وفاق کی پالیسی غلط ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان میں اس لیے ہے کہ یہ اسلامی ملک ہے، جہاں سے غزوہ ہند ہونی ہے وہ یہی خطہ ہے، امریکا اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں لکھا ہے اس خطے میں معدنیات ہیں اور  اس کے بعد سے یہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات پاکستان کے لیے ہوں گے، اگر کوئی راستہ نکلتا ہے تو مذاکرات ہونے چاہئیں،

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ پریشانی امن و امان اور دہشت گردی کا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • افغان باشندوں کےانخلاکی مہم ؛ پنجاب سے 1085 افراد کو واپس بھجوایا،ہزاروں کی آج واپسی
  • پنجاب میں افغان مہاجرین کے انخلاء کی مہم کو بڑا چیلنج، کئی روپوش
  • بلوچستان ہائیکورٹ کا پی او آر کارڈ ہولڈر افغان مہاجرین کو واپسی کے لیے وقت دینے کا حکم
  • خیبر پختونخوا سے کسی افغان باشندے کو زبردستی نہیں نکالوں کا، علی امین گنڈاپور
  • خیبرپختونخوا سے کسی افغان باشندے کو زبردستی نہیں نکالوں کا، علی امین کا واضح اعلان
  • افغانیوں کا انخلا، لاہور میں افغانی باشندوں کی تعداد کتنی؟
  • پنجاب سے افغان مہاجرین کے انخلاء کیلئے مہم شروع کر دی گئی
  • افغان سیٹزن کارڈ والے باشندوں کی واپسی:اب تک کتنے افغان باشندے واپس جاچکے ہیں؟
  • ڈیڈ لائن ختم، 8 لاکھ 85 ہزار افغان باشندے وطن لوٹ گئے