لڑکی کی گلاکٹی لاش؛ قتل سے پہلے 5 افراد نے اجتماعی زیادتی کی
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
لاہور:
لڑکی کی گلا کٹی لاش ملنے کے معاملے میں افسوسناک انکشاف ہوا ہے کہ اس کے قتل سے پہلے 5 افراد نے اجتماعی زیادتی کی تھی۔
پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں قبرستان سے گلا کٹی لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق گلا کاٹ کر قتل کی جانے والی لڑکی کے ساتھ پہلے گینگ ریپ کیا گیا ۔
قتل کی گئی لڑکی بسی موڑ باغبانپورہ کی رہائشی اور منشیات کی عادی تھی، جسے 5 افراد نے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں فیضان،فیاض،شان، علی عرف بھولا اور علی رضا شامل ہیں ۔ ایس ایچ او کے مطابق قبرستان سے ملنے والی لڑکی کی لاش کی شناخت نگینہ کے نام سے ہوئی تھی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی واردات میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف مضبوط چالان مرتب کرکے سخت سزا دلوائی جائے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کے مطابق لڑکی کی قتل کی
پڑھیں:
راولپنڈی: افغان سٹیزن کارڈرکے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع، 50 سے زائد افغان شہری رفیوجی کیمپ منتقل
راولپنڈی: افغان سٹیزن کارڈرکے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع، 50 سے زائد افغان شہری رفیوجی کیمپ منتقل WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(آئی پی ایس ) حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونیکے بعد افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز کردی گئی۔پولیس ذرائع کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ کے حامل افراد کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں اور 50 سے زائد افغان شہریوں کو رفیوجی کیمپ منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کوبھی تحویل میں لیکرکیمپ منتقل کیاجائیگا، کارڈ کے حامل افراد کوکیمپ سے افغانستان بھجوایا جائیگا۔ذرائع کے مطابق پولیس کا مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور یہ روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کی 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور حکومت نے گزشتہ روز سے ان کی بیدخلی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق عید کی تعطیلات کے باعث یہ عمل یکم اپریل کو شروع نہیں ہو سکا تھا لیکن اب ملک بھر میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں جب کہ وزارت سیفران کے ذرائع کے مطابق 14 لاکھ افغان مہاجرین قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں اور 8 لاکھ افغان شہری ایسے ہیں جو افغان سٹیزن کارڈ رکھتے ہیں لیکن ان کے قیام کو اب غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔