Islam Times:
2025-04-03@12:08:12 GMT

بھارت بھی میانمار کی راہ پر گامزن ہے، محبوبہ مفتی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

بھارت بھی میانمار کی راہ پر گامزن ہے، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ اگر ملک کے لوگ چاہتے ہیں کہ بھارت میانمار نہ بنے یا کشمیری پنڈتوں کیساتھ جو ہوا وہ کسی اور کیساتھ نہ ہو، تو انہیں آواز اٹھانی ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کئے جانے کے بعد جموں و کشمیر کی تقریباً سبھی غیر بھاجپا سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف متحد ہو کر احتجاج کیا ہے۔ حکمران جماعت نیشنل کانفرنس (این سی) نے کہا ہے کہ اس کے ارکان پارلیمنٹ اس بل کی سختی سے مخالفت کریں گے، جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے اسے مسلمانوں کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ پی ڈی پی کی صدر اور جموں کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر لوگ خاموش رہے تو بھارت بھی میانمار کے راستے پر چل پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلایا جانا چاہیئے، نہ کہ بی جے پی کے ایجنڈے کے تحت۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر ملک کے لوگ چاہتے ہیں کہ بھارت میانمار نہ بنے یا کشمیری پنڈتوں کے ساتھ جو ہوا وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو، تو انہیں آواز اٹھانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاموش رہے، تو کوئی بھی اس ملک کو بکھرنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کو بے اختیار کرنا ہے اور دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک دہائی سے مسلمان مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ بی جے پی سے ہمیں کوئی امید نہیں، کیونکہ گزشتہ 10-12 برسوں میں مسلمانوں کو سرعام پیٹ پیٹ کر مارا گیا، ان کی مساجد مسمار کی گئیں اور قبرستانوں پر قبضہ کیا گیا۔

جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بھی وقف بل کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک اور دائیں بازو کی مداخلت سے تعبیر کیا۔ سجاد لون نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ وقف، اپنی تعریف کے مطابق، مسلمانوں کی اجتماعی ملکیت والی جائیداد کا محافظ ہے، یہ ایک اسلامی تصور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے مجوزہ ترمیم ہمارے عقیدے میں کھلم کھلا مداخلت اور وقف کے اصل ذمہ داروں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ گزشتہ روز سرینگر میں خواتین کے لئے مفت بس سروس کی تقریب کے حاشیہ پر عمر عبداللہ نے بھی واضح کیا کہ ان کی جماعت اس بل کو قبول نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ایک خاص مذہب کو نشانہ بنانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مذہب کے اپنے ادارے اور فلاحی شعبے ہوتے ہیں، ہماری فلاحی سرگرمیاں وقف کے ذریعے انجام پاتی ہیں اور اس ادارے کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کیا کہ کہ اگر

پڑھیں:

وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف قانونی اعتبار سے امتیازی سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے، جماعت اسلامی ہند

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 26 کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جو مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو سنبھالنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر سید سعادت اللہ حسینی نے وقف ترمیمی بل پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی قابل مذمت اقدام قرار دیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف قانونی اعتبار سے امتیازی سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس بل میں وقف ایکٹ 1995 کی اہم دفعات کو منسوخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جو پہلے مسلمانوں کو دوسرے مذہبی برادریوں کی طرح کے حقوق دیتے تھے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کے اوقافی قوانین مذہبی گروہوں کو اپنی جائیدادوں کا خصوصی طور پر انتظام کرنے کی اجازت دیتے ہیں، یہ ایک اصول ہے جو دوسری برادریوں کے لئے برقرار ہے۔ اس کے مقابلے میں مندر اور دیگر مذہبی ٹرسٹ مختلف قانونی فریم ورک کے تحت اسی طرح کے تحفظات کے زیر اثر آتے ہیں، جو مجوزہ ترامیم کی امتیازی نوعیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ بل منتخب طور پر وقف املاک کو نشانہ بناتا ہے، مسلمانوں سے ان کے حقوق چھینتا ہے جبکہ دیگر مذاہب کے اسی طرح کے ڈھانچے کو اچھوتا چھوڑتا ہے۔

سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس بل میں وقف املاک کے انتظام میں زبردست تبدیلیاں، حکومتی مداخلت میں اضافہ اور ان کے مذہبی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 26 کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جو مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کو سنبھالنے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے لاکھوں اعتراضات موصول ہونے کے باوجود حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے مشاورتی عمل کو محض رسمی بنادیا۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر نے مزید کہا کہ بل کی منظوری کا فیصلہ پہلے سے طے شدہ لگتا ہے، جس سے رائے عامہ غیر متعلق ہے۔ انہوں نے بعض میڈیا اداروں پر جھوٹے بیانیے کے ساتھ عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں بدعنوانی، غیر قانونی قبضے یا وقف املاک کے غلط استعمال پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس کے بجائے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ وقف انتظامیہ کو کمزور کرتا ہے جبکہ کوئی حقیقی اصلاحات پیش کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے صدر نے تمام سیکولر جماعتوں، اپوزیشن لیڈروں، اور یہاں تک کہ حکمراں این ڈی اے کے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف مزاحمت کریں جسے وہ غیر منصفانہ بل کہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ ایسی جماعتوں پر مایوسی کا اظہار کیا جو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں پھر بھی اس قانون کی حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ انہیں بی جے پی کے سیاسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکنا چاہیئے اور فرقہ وارانہ سیاست میں ملوث نہیں ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس بل کی مخالفت کرنے میں ناکام رہے تو تاریخ ان کی دھوکہ دہی کو یاد رکھے گی۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وقف املاک مذہبی اوقاف ہیں، سرکاری اثاثے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقف گورننس کو کمزور کرنے اور ریاستی کنٹرول بڑھانے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل غیر جمہوری طریقے سے منظور ہوتا ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء اور دیگر مسلم تنظیموں کی قیادت میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی ہند کے صدر نے اس بل کو تمام آئینی، قانونی اور پرامن طریقوں سے چیلنج کرنے کا عزم کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی مسلمانوں کا معاشی قتل
  • مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضے کی سازش، بھارت میں متنازع وقف قانون منظور
  • بھارت متنازعہ جموں و کشمیر میں عالمی قوانین اور اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑا رہا ہے، حریت کانفرنس
  • ٹرمپ کی تجارتی جنگ تیز، دنیا بھر کی درآمدات پر جوابی ٹیرف، پاکستان پر 29 ، بھارت پر 26 فیصد ٹیکس
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے لایا گیا، محبوبہ مفتی
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کو بے اختیار کرنے کے لیے لایا گیا، محبوبہ
  • وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے خلاف قانونی اعتبار سے امتیازی سلوک کی راہ ہموار کرتا ہے، جماعت اسلامی ہند
  • بھارتی ہٹ دھرمی، تنازعہ کشمیر کے حل میں بڑی رکاوٹ, حریت کانفرنس
  • وقف پر قبضہ کرنے والے لوگ ہی احتجاج کر رہے ہیں، کرن رجیجو