مریکی جریدے فوربز نے 2025 کے لیے دنیا کے امیرترین افراد کی فہرست جاری کر دی ہے اور ٹیسلا کے مالک ایلون مسک ایک بار پھر دنیا کے امیر ترین فرد قرار پائے ہیں۔ایلون مسک کی دولت میں 2024 کے دوران 75 فیصد اضافہ ہوا اور اس طرح وہ ایک بار پھر فوربز کی فہرست میں دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے۔

اس سے قبل 2024 میں فرانس سے تعلق رکھنے والے برنارڈ آرنلٹ دنیا کے امیر ترین شخص قرار دیے گئے تھے۔اب نئی فہرست میں ایلون مسک نے 342 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص بننے کا اعزاز حاصل کیا اور یہ پہلی بار ہے جب کوئی فرد اتنی زیادہ دولت کے ساتھ دنیا کا امیر ترین شخص قرار پایا۔

فوربز کی 39 ویں سالانہ فہرست کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت 3028 ارب پتی موجود ہیں جو تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ایک سال کے دوران 247 افراد ارب پتی بنے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کے ارب پتی کی دولت میں ایک سال کے دوران 2 ہزار ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا اور وہ مجموعی طور پر 16 ہزار ارب ڈالرز سے زیادہ کے مالک ہیں۔

فہرست میں میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ 2016 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے دوسرے جبکہ ایمازون کے بانی جیف بیزوز 2015 ارب ڈالرز کے ساتھ تیسرے امیر ترین شخص قرار پائے۔اوریکل کے شریک بانی لیری ایلیسن 192 ارب ڈالرز، برنارڈ آرنلٹ 178 ارب ڈالرز، وارن بفٹ 154 ارب ڈالرز کے ساتھ چھٹے، گوگل کے شریک بانی لیری پیج 144 ارب کے ساتھ 7 ویں جبکہ دوسرے شریک بانی سرگئی برن 138 ارب ڈالرز کے ساتھ 8 ویں نمبر پر رہے۔

کچھ لوگوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات میں منصوبہ بندی کی کہ عمران خان کا میسج باہر نہ آئے، فیصل چوہدری کا دعویٰ
سپین سے تعلق رکھنے والے ایمانسیو اورٹیگا کے حصے میں 9 واں نمبر آیا جو 124 ارب ڈالرز کے مالک ہیں جبکہ مائیکرو سافٹ کے سابق چیف ایگزیکٹو اسٹیو بالمر 118 ارب ڈالرز کے ساتھ 10 ویں نمبر پر رہے۔

ماضی میں برسوں تک دنیا کے امیر ترین شخص رہنے والے مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس اب کافی نیچے آگئے ہیں اور 108 ارب کے ساتھ 13 ویں نمبر پر رہے۔بھارت کے مکیش امبانی 92.

5 ارب ڈالرز کے ساتھ ایشیا کے امیر ترین شخص قرار پائے جبکہ مجموعی طور پر وہ دنیا کے 18 ویں امیر ترین شخص ہیں۔

دنیا کی امیر ترین خاتون امریکا سے تعلق رکھنے والی ایلس والٹن ہیں جو 101 ارب ڈالرز کے ساتھ 15 ویں نمبر پر موجود ہیں۔ان کے بعد فرانس کی Francoise Bettencourt Meyers دنیا کی دوسری امیر ترین خاتون قرار دی گئی ہیں جو 81.6 ارب ڈالرز کی مالک ہیں۔

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: دنیا کے امیر ترین شخص ارب ڈالرز کے ساتھ ویں نمبر پر شریک بانی

پڑھیں:

عید کی روایات اور ماضی کے حسین رنگ کہاں کھو گئے؟

عید الفطر دنیا بھر میں پھیلے اربوں مسلمانوں کا اہم ترین مذہبی تہوار ہے، جو ماہ مقدس یعنی رمضان کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔

خوشی اور شکر گزاری کے جذبات سے لبریز مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہو کر اس روز کا آغاز کرتے ہیں اور پھر سارا دن بچوں سے لے کر خواتین اور بوڑھوں تک سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھری رہتی ہیں۔ عید عربی زبان کا لفظ ہے، جو 'عود' سے مشتق ہے، جس کا لغوی معنی 'بار بار آنا' ہے۔ اصطلاحی طور پر عید کا مطلب خوشی اور مسرت کا دن ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں، نزولِ قرآن، لیلۃ القدر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش کے بعد عید مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن قرار دیا گیا ہے۔

اس دن بچے، جوان اور بزرگ نئے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں اور مرد حضرات عیدگاہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، جہاں وہ شکرانے کے طور پر دو رکعت باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔ نمازِ عید کے بعد مبارکبادیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے معافی طلب کرتے ہیں، اور پھر کھانے پینے کا دور شروع ہوتا ہے۔

دیہی اور شہری علاقوں میں عید کے طریقے

وطن عزیز کے دیہی اور شہری علاقوں میں عید منانے کے انداز میں نہ صرف طرزِ زندگی بلکہ ثقافتی روایات کے فرق کی وجہ سے بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں عید کی تیاریاں سادگی اور خلوص پر مبنی ہوتی ہیں۔ لوگ گھروں کو مٹی اور چونا لگا کر صاف کرتے ہیں، خواتین خود گھروں میں سویاں اور دیگر روایتی پکوان تیار کرتی ہیں، اور مرد حضرات قرب و جوار کے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرتے ہیں۔ دیہات میں عید کی نماز کے بعد پورا گاؤں ایک دوسرے کو مبارکباد دیتا ہے، اور عید کی خوشیاں بانٹنے کا رجحان زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

دوسری طرف، شہری علاقوں میں عید ایک جدید طرزِ زندگی کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ چاند رات کو بازاروں اور شاپنگ مالز میں رش ہوتا ہے، اور لوگ مہنگے کپڑے، جوتے اور دیگر لوازمات خریدنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ گھروں میں روایتی پکوانوں کی جگہ ریستورانوں اور آن لائن ڈیلیوری کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ پہلے جہاں عید پر خاندان کے سب افراد اکٹھے ہوتے تھے، اب زیادہ تر نوجوان دوستوں کے ساتھ باہر جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ شہری زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے رشتہ داروں سے ملنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے، اور زیادہ تر مبارکبادیں سوشل میڈیا یا فون کالز تک محدود ہو گئی ہیں۔ اگرچہ شہری علاقوں میں سہولیات زیادہ ہیں اور لوگ جدید انداز میں عید مناتے ہیں، لیکن دیہی علاقوں میں خلوص، اپنائیت اور روایتی میل جول آج بھی برقرار ہے۔

مہندی اور چوڑیاں: عید کی روایتی خوشیوں کے استعارے

عید الفطر پر خواتین کی خوشی خصوصاً دیدنی ہوتی ہے۔ اس موقع پر مہندی اور چوڑیاں خواتین کی تیاری کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ مہندی کا استعمال قدیم زمانے سے برصغیر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

مہندی کی تاریخ قدیم مصر سے شروع ہوتی ہے، جہاں قدیم مصری فرعون کی ممی بناتے وقت نعش کے ہاتھوں اور ناخن پر مہندی لگاتے تھے تاکہ موت کے بعد ان کی شناخت بطور فرعون ہوسکے۔ مغل بادشاہوں نے بارہویں صدی میں برصغیر میں مہندی کو متعارف کروایا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ رواج عام ہوگیا۔ پنجاب میں سب سے زیادہ مہندی بھیرہ اور میلسی جبکہ سندھ میں نواب شاہ میں کاشت ہوتی ہے۔ خواتین کے لیے چوڑیوں کے بغیر عید کی تیاری ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ چاند رات میں چوڑیوں کے اسٹالز پر خواتین کا بے پناہ رش اس کی واضح دلیل ہے۔ تاریخی اعتبار سے چوڑیوں کا رواج موئن جو دڑو (2600-BC) سے شروع ہوا۔ پاکستان میں حیدرآباد کی چوڑیاں اپنے خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

معدوم ہوتی روایات

وقت کے ساتھ ساتھ عید کی روایات اور ان سے منسلک خوشیوں میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ سماجی رویوں، معاشی حالات، اخلاقی اقدار، سہل پسندی اور جدید ٹیکنالوجی کے اثرات نے عید کی روایتی خوشیوں کو متاثر کیا ہے۔ تقریباً 30 سال قبل تک عید کارڈز کے ذریعے عزیزواقارب کے ساتھ خوشی کا اظہار کیا جاتا تھا۔ دوستوں، رشتہ داروں اور اساتذہ کے لیے عید کارڈز کی خریداری کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا۔ پہلے سادہ، پھر رنگ برنگے اور بعدازاں الیکٹرانک ڈیوائسز والے عید کارڈز محبت کی شدت کا احساس دلاتے تھے۔

تاہم، آج موبائل فون کے ذریعے فارورڈ ایس ایم ایس یا واٹس ایپ پیغام بھیج کر یہ ذمہ داری پوری کرلی جاتی ہے۔ ماضی میں عید کے کپڑوں کی سلائی گھروں پر ہوتی تھی، جس میں مردانہ کپڑے بھی شامل ہوتے تھے۔ کپڑوں کی سلائی کے لیے گھر میں موجود ماں، بہن اور بیوی کو خاص مقام حاصل ہوتا تھا۔ آج پیشہ ور درزیوں کے سلے کپڑوں سے بھی بات آگے نکل چکی ہے، اور نوجوان نسل برانڈڈ کپڑوں کو ترجیح دیتی ہے۔ نئے کپڑوں کے ساتھ پورے خاندان کا گروپ فوٹو آج ترجیحات میں شامل نہیں، کیونکہ ہر جیب میں موبائل کی صورت میں ہر وقت کیمرہ موجود ہے۔

سماجی رویوں میں تبدیلی اور عید کی خوشیوں کا فقدان

ترقی نے راستے سمیٹنے کے بجائے مزید بڑھا دیے ہیں۔ اب عید کے روز شہری مصنوعی خوشیوں کی تلاش میں حقیقی عزیز و اقارب سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ تین، چار دہائی قبل عید کے رنگ نرالے تھے۔ صبح سویرے نمازِ عید کے بعد رشتے داروں کا ایک دوسرے کے گھروں کا چکر لگانا، بچوں کی عیدی کے لیے ضد، تحائف کا تبادلہ اب کہیں کہیں ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ مہنگائی کو اس کی ایک وجہ قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر سماجی رویوں نے ہمارے اطوار میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔

اجتماعی خاندانی نظام کا زوال اور جدید ٹیکنالوجی کا اثر

ہمارا اجتماعی خاندانی نظام زوال پذیر ہونے سے اب عید تہوار پر ہی خاندان اکٹھے ہو پاتے ہیں۔ اس دوران بھی خاندان کے بیشتر نوجوان اور بچے موبائل اور کمپیوٹر پر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ بڑے بوڑھے پرانے وقتوں کو یاد کرکے کڑھتے نظر آتے ہیں۔ رمضان المبارک کے آخری روز چھتوں پر چڑھ کر مشترکہ طور پر چاند دیکھنے کی رسم بھی معدوم ہو چکی ہے۔ اب گھر والے اکٹھے ہو بھی جائیں تو ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر باقاعدہ اعلان ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔  چاند رات کو رشتہ داروں اور ہمسایوں کے گھروں میں عیدی لے کر جانے کا رواج دم توڑ چکا ہے۔ 

اب جیسے ہی چاند نظر آنے کا اعلان ہوتا ہے، پورا خاندان بازاروں کا رخ کرتا ہے تاکہ خریداری میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تو اسے پورا کرلیا جائے۔  پہلے چاند رات کو خصوصی اہتمام کے ساتھ گھروں میں مٹھائیاں اور دیگر لوازمات تیار کیے جاتے تھے، لیکن اب زیادہ تر لوگ تیار شدہ مٹھائیاں اور کھانے خرید کر وقت بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ساری رات بازاروں میں گزارنے کے بعد زیادہ تر لوگ صبح دیر تک سوتے رہتے ہیں اور محلے یا شہر کی عیدگاہ میں جاکر اجتماعی نماز پڑھنے کی بجائے گھروں میں نیند پوری کرتے ہیں۔

بچوں کے لیے عید کی خوشیاں کم کیوں ہو گئیں؟

ماضی میں عید بچوں کے لیے سب سے زیادہ خوشیوں بھرا تہوار ہوتا تھا۔ بچے عیدی کے پیسوں سے جھولے جھولنے، کھلونے خریدنے، گول گپے، قلفیاں، چورن کھانے، تانگے کی سیر کرنے، کرائے پر سائیکل حاصل کرنے اور لاٹری نکالنے جیسے معصومانہ شوق پورے کرتے تھے۔ لیکن آج کے بچوں کے لیے ان تمام سرگرمیوں کی جگہ موبائل گیمز، آن لائن انٹرٹینمنٹ اور مہنگے تحائف نے لے لی ہے۔ والدین بھی اب بچوں کو باہر جانے کی اجازت دینے میں ہچکچاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ گھر میں بیٹھ کر ہی عید گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

عید کی خوشیاں واپس کیسے لائی جا سکتی ہیں؟

یہ ضروری ہے کہ ہم عید کی اصل خوشیوں کو واپس لانے کے لیے خود سے پہل کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو ان روایات سے روشناس کرائیں جو ہمارے بڑے ہمیں سکھاتے تھے۔ عید کے موقع پر زیادہ سے زیادہ وقت خاندان کے ساتھ گزاریں، گھروں میں مل بیٹھنے اور خوشیاں بانٹنے کا سلسلہ دوبارہ زندہ کریں۔ عید کے دن مصنوعی خوشیوں کے بجائے حقیقی خوشیاں تلاش کریں، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں، اور اپنے گھروں کے دروازے دوسروں کے لیے کھولیں۔

عید الفطر مسلمانوں کے لیے ایک خاص تہوار ہے جو محبت، اخوت اور خوشی کا پیغام لاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ بدلتے سماجی رویوں، ٹیکنالوجی کے غلبے، اخلاقی گراوٹ، اور سہل پسندی نے ان خوشیوں کو مدھم کر دیا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ عید کی حقیقی خوشیاں واپس آئیں تو ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ اپنے بچوں کو عید کی اصل روایات سے روشناس کرائیں، عزیز و اقارب سے جڑنے کی کوشش کریں اور دوسروں میں خوشیاں بانٹنے کا جذبہ پیدا کریں۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم اپنی پھیکی پڑتی عیدوں میں دوبارہ رنگ بھر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مارچ 2025 میں دہشتگردوں کے حملوں کی تعداد 11 سال بعد پہلی بار 100 سے متجاوز
  • بجٹ 2025-26 کی تیاری کیلئے آئی ایم ایف کا وفد 4 اپریل سے پاکستان کا دورہ کرے گا
  • ایس پی عائشہ بٹ ایکسی لینس پرفارمنس ایوارڈ 2025 کیلئے منتخب
  • 2025 کے لیے فوربز کی امیر ترین افراد کی فہرست جاری
  • بھارت کے امیرترین مسلمان، جو بڑے تائیکون کی کمائی کے برابر رقم عطیہ کرتے ہیں
  • گزشتہ ہفتے کے مقبول اسمارٹ فونز کی فہرست جاری
  • ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے
  • عید کی روایات اور ماضی کے حسین رنگ کہاں کھو گئے؟
  • عید پر عوام کیلئے بری خبر ،گیس کی قیمت میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری