خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو عوام نے دیکھ لیا ہے، پی پی پی سے فیض عوام کو ان کے لوگوں کو پہنچتا ہے، عام پاکستان پارٹی عوام میں مقبول ہو رہی ہے، مئی یا جون میں کراچی میں جلسہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ اور عام پاکستان پارٹی کے سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا (کے پی) اور بلوچستان کے مسائل کا حل یہ ہے کہ وہاں حقوق دیے جائیں اور غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات ہوں اور مسائل آپریشن سے نہیں مذاکرات سے حل کیے جائیں۔ کراچی میں پارٹی کے صوبائی سیکرٹیریٹ میں ذرائر ابلاغ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کراچی میں حادثات یا ٹریفک کا مسئلہ ناکام حکمرانی کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 18 سال سے صوبے میں برسراقتدار ہے، روز حادثات ہو رہے ہیں، حاملہ خواتین سمیت شہری جاں بحق ہو رہے ہیں، یہ حکومت کی لاپرواہی ہے، اگر حکومت سندھ چاہے تو یہ مسئلہ تین سے چار روز میں حل ہوسکتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا سکہ فارم 47 کی وجہ سے ہے، ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کے لوگوں کو مایوس کیا ہے اور کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کا ووٹ ختم ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی کو عوام نے دیکھ لیا ہے، پی پی پی سے فیض عوام کو ان کے لوگوں کو پہنچتا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عام پاکستان پارٹی عوام میں مقبول ہو رہی ہے، مئی یا جون میں کراچی میں جلسہ کریں گے۔ معاشی صورت حال کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک کی معاشی صوت حال کا اندازہ عوام کے مجموعی حالات دیکھ کر پتا چلتا ہے، لوگوں کو معاشی مسائل کا سامنا ہے، مہنگائی بڑھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال سے لوگوں کی آمدنی کم ہو رہی ہے، حکومت کی لاپرواہی سے چینی کی قیمت 115 سے 180 روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت کیوں دی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچساتان کے لوگ ہم سے ناراض ہیں، ان کے مسائل مذاکرات سے حل ہوسکتے ہیں، آپریشن مسائل کا حل نہیں، بلوچستان اور کے پی کے مسائل کا حل یہ ہے کہ وہاں عوام کو خودمختاری دی جائے اور غربت کم کی جائے، دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مفتاح اسماعیل ایم کیو ایم کراچی میں لوگوں کو مسائل کا

پڑھیں:

دہشت گرد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں،رانا ثناء اللہ

ماہرنگ اور پختون خواہ کے لوگوں کو دہشت گرد نہیں کہتے، انہیں دہشت گردی کی مذمت کرنی چاہیے
بلوچستان کی ترقی کا ہر مطالبہ پورا کیا جائیگا، جوآئین اور قانون تسلیم کرتے ہیں ان کی بات مانیں گے

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہاہے کہ بے گناہ معصوم شہریوں کو شہید کرنا، ٹرین کو یرغمال بنانا اور بسوں سے لوگوں کو عام شہریوں کو اتار کرشناخت کر کے قتل کرنا کسی طور پر قبول نہیں،ماہرنگ بلوچ اور خیبر پختون خواہ کے لوگوں کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے، ان لوگوں کو دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے،ملک معاشی بحران سے نکل چکا ہے،مہنگائی کی رفتار رک چکی ہے، اب مہنگائی مزید نیچے آئے گی اور غریب کو ریلیف ملے گا،بلوچستان کی ترقی کا ہر مطالبہ پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی بھی دہشت گرد کامطالبہ پورا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ معصوم شہریوں کو شہید کرنا، ٹرین کو یرغمال بنانا اور بسوں سے لوگوں کو عام شہریوں کو اتار کرشناخت کر کے قتل کرنا کسی طور پر قبول نہیں ہے،ہر عوامی احتجاج قابل قبول ہوگا، لوگ مظاہرہ کریں یا کوئی بھی مطالبہ کریں، ان کا مطالبہ نہ صرف مانا جائے گا بلکہ پورا بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہی ایک حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دہشتگرد ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہیں اور افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان کو علیحدہ کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہورہی ہے اور ایسے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی لیکن جو لوگ پاکستان کے آئین اور قانون کو تسلیم کرتے ہیں ہم ان کی بات مانیں گے، ان کے ناز نخرے بھی اٹھائیں گے، ان کے مطالبات بھی پورے کریں گے تاہم وہ ایسا رویہ نہ اپنائیں جس سے ان کی باتوں سے دہشتگردوں کے ساتھ ہمدردی کا پہلو نکلے۔ انہوں نے مسنگ پرسنز کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ماہرنگ بلوچ اور خیبر پختون خواہ کے لوگوں کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے، لیکن ان کو دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کرنی چاہیے،اس سے ان کے بیانیہ کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا ہر مطالبہ پورا کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی تو حکومت اپنے ساتھ شامل جماعتوں کے ساتھ اس سلسلہ میں مشاورت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو اور اس کے ساتھ شامل جماعتوں کو مدعو نہ کیا گیا تو پھر یہ کیسی آل پارٹیز کانفرنس ہوگی۔ پیکا ایکٹ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو صحافی حق سچ کی بات کرتے ہیں ہم ان کے ساتھ پیکا ایکٹ کے سلسلہ میں بیٹھنے کو تیار ہیں اور مشاورت سے ایسی ترامیم لانے کو بھی تیار ہیں جس سے پیکا ایکٹ کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ پیکا ایکٹ دراصل ان لوگوں کیلئے لایا گیا ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے کسی کی عزت اچھال دیتے ہیں یاان سے کسی کے خاندان کی عزت محفوظ نہیں رہتی یہ ان لوگوں کیلئے ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہم صحافی تنظیموں کے ساتھ مل کر ترامیم کرنے پر تیار ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن کے سلسلہ میں قائد نواز شریف سے مشاورت جاری ہے اور امید ہے کہ اسی سال بلدیاتی انتخابات ہو جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • علیمہ خان نے عمران خان سے مخصوص لوگوں کی ملاقات پر سوالات اٹھا دیے  
  • دہشت گرد بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں،رانا ثناء اللہ
  • مفتاح اسماعیل کا شہباز حکومت پر 17 ارب کے ڈاکے کا الزام
  • مفتاح اسماعیل کا حکومت پر 17 ارب کے ڈاکے کا الزام
  • کے پی، بلوچستان کے مسائل کیلئے ان کو حقوق دیے جائیں، مفتاح اسماعیل
  • کراچی، عیدالفطر کے موقع پر فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان نظریاتی پارٹی کا احتجاجی کیمپ
  • کراچی: لوگوں نے آگ کو تفریح کا ذریعہ بنالیا
  • لاڑکانہ: بلاول بھٹو کی عوام، کارکنان اور پارٹی عہدیداران سے ملاقات
  • ڈمپر حادثات پر کراچی کے عوام سے معذرت خواہ ہوں، گورنر سندھ