WE News:
2025-04-03@03:13:26 GMT

دہشتگردوں کے خلاف کارروائی اور بین الاقوامی قانون

اشاعت کی تاریخ: 2nd, April 2025 GMT

فوجداری قانون یا قانونِ جنگ؟

سب سے پہلے تو اس سوال پر یکسوئی ضروری ہے کہ ’دہشتگردی‘ جرم ہے یا جنگ کی ایک قسم؟ پہلی صورت میں اس پر جرم و سزا کے قانون کا، جبکہ دوسری صورت میں اس پر قانونِ جنگ کا اطلاق ہوگا۔

جب امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کا اعلان کیا، تو اس نے جرم و سزا کے قانون اور قانونِ جنگ کے درمیان حد بندی ختم کردی، اور یہیں سے نہایت سنجیدہ مسائل پیدا ہوئے۔’فتنۃ الخوارج‘ کے خلاف ’فوجی آپریشن‘اور’فساد برپا کرنے والوں‘ کے خلاف ’فوجی عدالتوں میں مقدمات‘ سے بھی اسی مخمصے کا اظہار ہوتا ہے۔

جب ’سول اتھارٹی کی مدد‘ کے لیے فوج طلب کی جاتی ہے، تو آئین و قانون کے تحت اختیار سول اتھارٹی کے پاس ہوتا ہے اور حالات کو کنٹرول کرنے اور امن قائم کرنے کے لیے فوج اس کی مدد کے لیے ہوتی ہے۔ تاہم فوج کی تربیت بنیادی طور پر جنگ میں لڑنے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ توڑ پھوڑ کرنے والے جلوس کو منتشر کرنے کے لیے۔  جنگ میں گولی چلانے کے حکم سے مقصود دشمن پر فتح حاصل کرنا ہوتا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے کے دائرۂ کار میں گولی چلانے سے مقصود فسادی گروہ کو منتشر کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے جنگ میں مدِمقابل دشمن کو مار دینے سے آغاز کیا جاسکتا ہے، جبکہ جلوس کو منتشر کرنے  کے لیے مار دینا آخری قدم ہوتا ہے اور اس سے قبل دیگر اقدامات ضروری ہوتے ہیں، جیسے ہوائی فائرنگ، زخمی کرنا وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں:قانون کی حکمرانی: خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا!

پر تشدّد مظاہرے  بعض اوقات اتنی سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے اسے ’مسلّح تصادم‘ (armed conflict) قرار دیا جاتا ہے، لیکن چونکہ یہ مسلّح تصادم ایک ملک کے اندر ہوتا ہے، اس لیے اسے ’غیر بین الاقوامی‘ (non-international) کہا جاتا ہے  اور اس پر بین الاقوامی قانونِ جنگ کے صرف ایک محدود حصے کا ہی اطلاق ہوتا ہے۔ اس نکتے کی تھوڑی تفصیل دینی ضروری ہے۔

بین الاقوامی قانونِ جنگ کے 2 بڑے حصے

بین الاقوامی قانون کا اطلاق ریاستوں کے تعلقات پر ہوتا ہے اور اس قانون کے تناظر میں ان تعلقات کی 3 قسمیں ہیں: پُر امن تعلقات، مخاصمانہ تعلقات اور غیر جانب داری۔

مخاصمانہ تعلقات کے قانون کو بھی 2 بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایک، علۃ القتال (jus ad bellum)؛ یعنی قانون کا وہ حصہ جو جنگ کے جواز و عدم جواز سے بحث کرتا ہے؛ جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جنگ ’کیوں‘  لڑی جارہی ہے اور یہ کہ کیا وہ وجہ قانون کی رو سے منصفانہ ہے یا غیرمنصفانہ؟ مثلاً ایک ریاست نے دوسری ریاست کے خلاف جنگ چھیڑ دی، تو اگر جنگ چھیڑنے کے لیے قانونی جواز (ratio)موجود نہیں تھا، تو اسے اس ریاست کی جانب سے جارحیت (aggression) قرار دیا جائے گا۔

دوسری ریاست چونکہ حقِ دفاع (right of self-defense)کا استعمال کررہی ہوگی، اس لیے اسے جارح نہیں کہا جائے گا اور قانوناً اس کی جانب سے جنگ کو جائز قرار دیا جائے گا۔

قانونِ جنگ کا دوسرا بڑا حصہ آداب القتال (jus in bello)ہے، جسے اب علمی دنیا میں ’بین الاقوامی قانونِ انسانیت‘  (International Humanitarian Law or IHL) کہا جاتا ہے، کیونکہ اس قانون کے ذریعے کوشش کی گئی ہے کہ جنگ کو انسانیت کے اصولوں کا پابند کیا جائے۔

علۃ القتال کے متعلق بین الاقوامی قانون کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت اقوامِ متحدہ کے منشور  1945ء کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دیگر معاہدات بھی ہیں، جیسا کہ 1928ء کا معاہدۂ پیرس۔ نیز بین الاقوامی عرف، یا ریاستوں کا تعامل، بھی اس کا ایک اہم  ماخذ ہے۔ آداب القتال کے لیے اہم ترین مآخذ 1949ء کے 4 جنیوا معاہدات اور ان کے ساتھ 1977ء میں ملحق کیے گئے 2 اضافی پروٹوکول کی صورت میں ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی عرف سے بھی کئی اہم احکام اور اصول اخذ کیے جاتے ہیں۔

’غیر بین الاقوامی مسلح تصادم‘ اور قانون

جب کسی ملک کے اندر تشدد، توڑ پھوڑ اور مظاہروں سے بات آگے جا کر مسلّح تصادم تک چلی جاتی ہے، تو اس پر بین الاقوامی قانونِ جنگ کا اطلاق کیسے کیا جاتا ہے؟

چونکہ اسے اس ملک کا ’اندرونی معاملہ‘ سمجھا جاتا ہے، اس لیے علۃ القتال کے پہلو سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 2، ذیلی دفعہ 7، کے تحت دیگر ممالک پر پابندی ہوتی ہے کہ وہ اس میں مداخلت نہ کریں۔ البتہ اس دفعہ کو منشور کی دفعہ 39 کے ساتھ ملا کر پڑھیں، تو معلوم ہوتا ہے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے میں مداخلت کرسکتی ہے، اگر وہ یہ سمجھے کہ اس معاملے سے ’بین الاقوامی امن کو خطرہ‘ لاحق ہوچکا ہے۔ کسی بھی ریاست کے لیے یہ اس معاملے کا سب سے سنگین مسئلہ ہوتا ہے اور اس وجہ سے ہر ریاست ایسے معاملے میں یہ موقف اختیار کرتی ہے کہ یہ ’مٹھی بھر شرپسند‘ ہیں جن سے ’آہنی ہاتھ سے‘ نمٹا جائے گا۔ تاہم پشتو مقولے کے مطابق جب تندور گرم ہو، تو ہر کوئی اس میں اپنی روٹی لگانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قانون کا مفہوم کیسے متعین ہوتا ہے؟

جہاں تک آداب القتال کے بین الاقوامی قانون کا تعلق ہے، تو 4 جنیوا معاہدات میں صرف ایک مشترک دفعہ 3 ہے جس کا اطلاق کسی ملک کے اندر جاری مسلّح تصادم پر ہوتا ہے۔ اس دفعہ کو بین الاقوامی آداب القتال کا خلاصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے تحت جنگ میں غیر مقاتلین پر حملوں کی ممانعت کے علاوہ دشمن قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی بھی ممانعت ہے۔ اگر کسی ریاست نے دوسرے اضافی پروٹوکول کی بھی توثیق کی ہو، تو پھر اس کا بھی اطلاق ہوتا ہے، بشرطے کہ ریاست کے خلاف لڑنے والوں نے کسی مخصوص خطۂ زمین میں اپنا الگ نظام قائم کرلیا ہو جہاں سے وہ ریاست کے خلاف لڑ رہے ہوں۔ پاکستان اور بھارت سمیت بہت سے ممالک نے ابھی تک اس معاہدے کی توثیق نہیں کی ہے۔

کسی زمانے میں یہ تصور تھا کہ جنگ کے دوران میں انسانی حقوق کا قانون معطل ہو جاتا ہے، لیکن پچھلی صدی کے نصفِ آخر میں یہ تصور تبدیل ہوگیا ہے اور اب جنگ کے دوران میں بھی اس قانون کے ایک حصے کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثلاً سیاسی و شہری حقوق کے بین الاقوامی میثاق 1966ء کی رو سے جنگ میں نقل و حرکت کی آزادی، اجتماع کی آزادی اور ایسے کئی حقوق معطل ہوسکتے ہیں، لیکن انسانی جان کے احترام، عقیدے کی آزادی، منصفانہ سماعت کا حق (right to fair trial) اور ایسے دیگر کئی حقوق کو ’ناقابلِ انحراف‘ (non-derogable) کہا جاتا ہے، انہیں معطل نہیں کیا جاسکتا اور جنگ کے دوران میں بھی ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس معاہدے کی توثیق کی ہوئی ہے اور آئینِ پاکستان کی رو سے بھی ’ہنگامی حالت کے اعلان‘ (proclamation of emergency) کے بعد تمام بنیادی حقوق معطل نہیں کیے جاسکتے، بلکہ بعض حقوق بدستور میسّر رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ پچھلے کچھ عرصے سے ’بین الاقوامی فوجداری قانون‘ کا اطلاق بھی شروع ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں بعض اوقات کسی ریاست کے اندر جاری مسلّح تصادم میں ریاستی اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے بعض اقدامات پر ان کے خلاف ’بین الاقوامی فوجداری عدالت‘ (ٰInternational Criminal Court) میں مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور بھارت سمیت کئی ممالک نے ابھی تک اس عدالت کے منشور پر دستخط نہیں کیے۔

ڈرون حملے اور بین الاقوامی قانون

’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ میں چونکہ امریکا کی جانب سے ڈرون حملوں کا بھی بہت استعمال کیا گیا، اس لیے ان حملوں کے جواز و عدم جواز پر بہت سارا لٹریچر وجود میں آچکا ہے۔ اس لٹریچر میں اکثر اوقات خلط مبحث نظر آتا ہے کیونکہ بحث کرنے والے علۃ القتال، آداب القتال اور فوجداری قانون کے مسائل کو الگ کرکے نہیں دیکھتے۔

علۃ القتال کے پہلو سے اہم بات یہ ہے کہ جب ایک ملک کسی دوسرے ملک میں کسی ہدف کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بناتا ہے، تو اس سے اس ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ تاہم اگر اس ملک نے حملہ آور ملک کو پہلے ہی سے اجازت دی ہو ، یا حملے کے بعد صراحتاً یا دلالتاً اس کی توثیق کی، یا اس پر خاموشی اختیار کی،  تو خودمختاری کی خلاف ورزی کی بات ختم ہوجاتی ہے۔

البتہ آداب القتال کے پہلو سے کئی سوالات اس کے بعد بھی باقی رہتے ہیں۔ ان میں پہلا سوال یہ ہے کیا یہ حملے ’جنگی کارروائی‘ کے طور پر ہوئے ہیں یا ’دہشتگردوں‘ کے خلاف ’قانون نافذ کرنے کی کارروائی‘کے طور پر؟  جیسا کہ پیچھے واضح کیا گیا، پہلی صورت میں آداب القتال کے قانون کا، جبکہ دوسری صورت میں فوجداری قانون اور انسانی حقوق کے قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔

اگر یہ جنگی کارروائی ہے، تو پھر 4 سوالات پر غور ضروری ہے:

(1)   کیا کارروائی کرنے والوں کو قانوناً جنگ میں شرکت کا حق حاصل ہے؟ بہ الفاظِ دیگر، کیا وہ ’مقاتل‘  (combatant)کی شرائط پوری کرتے ہیں؟

(2) کیا جنہیں نشانہ بنایا جارہا ہے انہیں نشانہ بنانے کی قانوناً اجازت ہے؟ دوسرے الفاظ میں کیا وہ ’جائز جنگی ہدف‘ ہیں  یا غیر مقاتلین؟

(3) جو ہتھیار (ڈرون) استعمال کیا جارہا ہے کیا قانوناً اس کا استعمال جائز ہے، یا وہ ممنوعہ ہتھیاروں میں شمار ہوتا ہے؟

(4) کیا حملے کے وقت اور جگہ کے انتخاب میں وہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں جو غیر مقاتلین اور دیگر قانوناً محفوظ افراد و املاک کو بچانے کے لیے قانون نے لازمی قرار دیے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:توہینِ مذہب کے قانون میں بہتری کی ضرورت

ان چاروں پہلوؤں سے ڈرون حملوں پر بہت سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ ڈرون ’آپریٹرز‘  عام طور پر ایسی پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازم ہوتے تھے جنہیں سی آئی اے نے کنٹریکٹ دیا ہوتا تھا۔ ان کی مقاتل کی حیثیت اگر ناجائز نہیں، تو مشتبہ ضرور تھی۔ حملے کے اہداف کے متعلق جو اعداد و شمار مختلف ذرائع کی جانب سے سامنے آئے ہیں، ان سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ عام شہریوں اور غیر مقاتلین کی ایک بڑی تعداد ان حملوں کا نشانہ بنی۔ ’ڈرون بطور ہتھیار‘ کے متعلق اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے حملے کو ہدف تک محدود رکھنا آسان ہوجاتا ہے، لیکن تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب حملہ کرنے والا میدان جنگ سے دور اور محفوظ ہو، تو وہ زیادہ غیرمحتاط ہوتا اور قانون کی پابندی میں زیادہ تساہل برتتا ہے۔ اسی طرح وقت اور جگہ کے انتخاب پر بھی بارہا اعتراضات اٹھتے رہے ہیں ۔ اس لیے آداب القتال کے پہلو سے ڈرون حملوں کا جواز غیر یقینی ہے۔

پھر اگر ڈرون حملوں کو ’دہشتگردوں ‘ کے خلاف فوجداری کارروائی کہا جائے، تو مسئلہ مزید سنگین ہوجاتا ہے کیونکہ فوجداری قانون، اور اسی طرح حقوق انسانی کے قانون، کی رو سے ان حملوں کے اہداف ’مجرم‘ نہیں بلکہ ’ملزم‘  ہیں جب تک ان کا جرم عدالت میں باقاعدہ کارروائی کے بعد، اور ان کو دفاع کا موقع دینے کے بعد، ثابت نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے مشہور امریکی دانش ور نعوم چومسکی انہیں ’ماوراے عدالت قتل‘   (extra-judicial killing)قرار دیتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر اور سربراہ شعبۂ شریعہ و قانون ہیں۔ اس سے پہلے آپ چیف جسٹس آف پاکستان کے سیکرٹری اور شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ سول جج/جوڈیشل مجسٹریٹ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ آپ اصولِ قانون، اصولِ فقہ، فوجداری قانون، عائلی قانون اور بین الاقوامی قانونِ جنگ کے علاوہ قرآنیات اور تقابلِ ادیان پر کئی کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کرچکے ہیں۔

آداب القتال بین الاقوامی قانون جنیوا معاہدہ دہشتگردی علۃ القتال فتنۃ الخوارج.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی قانون جنیوا معاہدہ دہشتگردی فتنۃ الخوارج بین الاقوامی قانون فوجداری قانون اطلاق ہوتا ہے غیر مقاتلین کہا جاتا ہے ہوتا ہے اور ڈرون حملوں کی جانب سے اور قانون ہے اور اس قانون کے کے قانون قانون کی کا اطلاق ریاست کے کے علاوہ قانون کا اس لیے ا کی رو سے نہیں کی کے ساتھ جائے گا کے اندر ہوتی ہے کے خلاف میں یہ جنگ کے سے بھی کے لیے کے بعد

پڑھیں:

“اگر آپکا نام روہت شرما نہ ہوتا تو ٹیم میں جگہ نہیں تھی”

انگلش کمنٹیٹر مائیکل وان نے بھارتی کپتان روہت شرما پر انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی ناقص کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا۔

کرک بز کو دیے گئے انٹرویو میں سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے آئی پی ایل میں روہت شرما کی بطور کپتان ٹیم میں جگہ بنتی تھی لیکن اب وہ بھی مشکل کا شکار ہے کیونکہ انہیں بلےبازی میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب روہت بھارتی ٹیم کی کپتانی کیلئے بہترین ہیں تو پھر وہ فرنچائز لیگ میں ممبئی میں کپتان کیسے نہیں؟۔میں ہمیشہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہندوستان کیلئے شاندار کپتان ہے۔

مائیکل وان نے کہا کہ روہت شرما نے آئی پی ایل میں صفر، 8 اور 13 رنز کی اننگز کھیلی ہیں، اگر وہ روہت شرما نہ ہوتے تو انہیں ٹیم سے ڈراپ کردیا جاتا، کیونکہ انکی جگہ نہیں بن رہی۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ روہت شرما کو ٹیم میں بطور بلےباز رکھ رہے ہیں تو انکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے لیکن انہیں اگر آپ بطور لیڈر رکھیں تو وہ بہترین چوائس ہیں۔

مائیکل وان نے کہا کہ میری بات کو یہ نہ سمجھا جائے کہ روہت شرما کو ٹیم سے نکال دیں لیکن انہیں فوری طور پر اپنی پرفارمنس پر کام کرنا ہوگا ورنہ مشکل ہوجائے گی کیونکہ ارد گرد سوریہ کمار یادو جیسے بلےباز بھی موجود ہیں۔

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • اچھی صحت
  • تائیوان کی علیحدگی پسند قوتیں جتنی زیادہ سرگرم ہوں گی ان کے گرد گھیرا اتنا ہی سخت ہو گا, چینی میڈیا
  • اسلام آباد پولیس کی قانون شکنوں کیخلاف کارروائی، 36 افراد گرفتار
  • “اگر آپکا نام روہت شرما نہ ہوتا تو ٹیم میں جگہ نہیں تھی”
  • اگر آپکا نام روہت شرما نہ ہوتا تو ٹیم میں جگہ نہیں تھی
  • پیکا قانون کیخلاف صحافتی تنطیموں کا ایک اور احتجاج، نئی تحریک کا اعلان
  • دہشتگردوں کیخلاف کارروائی انکے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی: رانا ثنا
  • دہشتگردوں کیخلاف کارروائی انکے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی: رانا ثناءاللہ
  • بلوچستان، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ