پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے توشہ خانہ تحائف کی تمام نیلامیوں اور 1947ء سے ابتک کا ریکارڈ طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
اسلام آباد:
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے توشہ خانہ تحائف کی تمام نیلامیوں کی تفصیلات مانگ لیں ساتھ ہی توشہ خانہ کا 1947ء سے اب تک کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا، آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ 1990ء سے 2002ء تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ ہمیں نہیں ملا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی جنید اکبر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ پی اے سی اجلاس میں کابینہ ڈویژن، پٹرولیم ڈویژن کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
کابینہ ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ میں تین ارب کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی
کابینہ ڈویژن کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 زیر غور رہی جس میں تین ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ کابینہ ڈویژن کی محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی جوائنٹ سیکرٹری کی زیر صدارت کروانے کے معاملے میں پی اے سی کی سیکرٹری کابینہ ڈویژن کی سرزنش کی گئی۔ پی اے سی نے وہ تمام آڈٹ اعتراضات موخر کر دئیے جن پر ڈی اے سی کی صدارت جوائنٹ سیکرٹری نے کی۔
توشہ خانہ قواعد میں 2001ء تا 2018ء کابینہ کی منظوری کے بغیر ترامیم ہوئیں، انکشاف
پی اے سی اجلاس میں توشہ خانہ کی خصوصی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ توشہ خانہ قواعد میں 2001ء سے 2018ء تک کابینہ کی منظوری کے بغیر ترامیم کی گئیں۔
سیکریٹری کابینہ نے توشہ خانہ رولز پر بریفنگ میں بتایا کہ توشہ خانہ رولز میں وقتاً فوقتاً کابینہ کی منظوری کے بغیر ترامیم کی گئیں، وزیر اعظم کیلئے رولز میں نرمی، رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی، توشہ خانہ رولز میں 2001 ، 2004 اور 2006 میں ترمیم کی گئی، 2007، 2011، 2017 اور 2018 میں بھی رولز میں ترامیم کی گئیں، توشہ خانہ کے رولز کابینہ کے سوا کوئی اور نہیں بنا سکتا۔
چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ بار بار توشہ خانہ کے رولز میں ترمیم کی ضرورت کیوں پڑی؟
اب تحائف کی 100 فیصد ویلیو قیمت کیلئے رولز میں ترمیم تجویز ہے
سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ پہلے توشہ خانہ کے تحائف 30 فیصد ویلیو دے کر حاصل کیے جاسکتے تھے، بعد میں تحائف کی 50 فیصد ویلیو دینے سے متعلق ترمیم کی گئی، اب تحائف کی 100 فیصد ویلیو قیمت کیلئے رولز میں ترمیم تجویز ہے، توشہ خانہ ایکٹ 2024 بن گیا ہے رولز جلد کابینہ سے منظور کرائے جائیں گے۔
امریکا میں تحائف لینے کے حوالے سے ایک خاص حد مقرر ہے
رکن کمیٹی طارق فضل نے پوچھا کہ دیگر ممالک میں تحائف لینے کے حوالے سے کیا رولز ہیں کیا کوئی اسٹڈی کی ہے؟ اس پر کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری نے کہا کہ امریکہ میں تحائف لینے کے حوالے سے ایک خاص لمٹ رکھی گئی ہے۔
1990 سے 2002 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ ہمیں نہیں ملا، آڈٹ حکام
کمیٹی میں توشہ خانہ کے ریکارڈ کی عدم دستیابی سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے بریفنگ میں کہا کہ 1990 سے 2002 تک کا توشہ خانہ کا ریکارڈ ہمیں نہیں ملا، توشہ خانہ کا سارا ریکارڈ کابینہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے، توشہ خانہ کا ریکارڈ ویب سائٹ پر سیکنڈ لنک سے فرسٹ لنک کر دیا گیا ہے، 2002 سے اب تک کا سارا ریکارڈ تفصیلات کے ساتھ اپ لوڈڈ ہے، 2002 سے پہلے کا ڈیٹا آرکائیو میں پڑا ہوگا جس پر ٹائم لگ سکتا ہے۔
توشہ خانہ کا 1947ء سے اب تک کا ریکارڈ طلب
رکن کمیٹی سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ آرکائیو سے نکال کر ڈیٹا سارا ویب سائٹ پر اپلوڈ کردیں۔ بعدازاں چیئرمین پی اے سی نے توشہ خانہ کا 1947ء سے اب تک کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
کمیٹی کے رکن شبلی فراز نے کہا کہ آپ نے نیشنل آرکائیو کیلئے کیا کچھ کیا ہے اس کی حالت دیکھ کر دکھ ہوا، نیشنل آرکائیو میں کوئی ریسرچ کرنے والا بھی نہیں ہے۔ سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ جب میں نے بھی وہاں وزٹ کیا تھا تب مجھے بھی دکھ ہوا تھا، لیکن ہم نے نیشنل آرکائیو میں کافی بہتری کی ہے اب حالت کافی اچھی ہے، اب اسکیننگ سمیت جدید طریقوں سے ریکارڈ مرتب کیا جارہا ہے، ریکارڈ تک آن لائن رسائی دینے کیلئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
توشہ خانہ کے تحائف اصل ہونے یا نہ ہونے سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ
اجلاس میں توشہ خانہ کے تحائف اوریجنل ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔ سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ ہمارے پاس جو تحائف آتے ہیں ہم اسے ویسے ہی توشہ خانہ میں رکھ دیتے ہیں، ہم یہ کیسے تصدیق کر سکتے ہیں کہ وہ اوریجنل ہے یا نہیں؟ کسی بھی سیکریٹری نے آج تک اوریجنیلٹی کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا۔
رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہا کہ سیکریٹری صاحب کہہ رہے ہیں کہ تحفہ دینے والے نے دو نمبر چیز دے دی۔ اس پر سیکریٹری نے کہا کہ کوئی تحفہ کسی بھی شخص کی جانب سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا، ایف بی آر کی جانب سے تحفے کی قیمت کی تعین کیا جاتا ہے۔
رکن کمیٹی نے کہا کہ آنے والے رولز میں تحائف کی سرٹیفیکیشن کیلئے کیا کر رہے ہیں؟ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ 1956ء میں وزیر اعظم کی زیر صدارت چین کے دورے پر وفد گیا، وفد کے ممبران کو قیمتی تحائف ملے جو تبدیل کر دیے گئے، ہانگ کانگ سے ویسی ہی دو نمبر چیزیں خرید کر توشہ خانہ میں جمع کرادی گئیں، آڈیٹر جنرل کو کیسے پتا چلا کہ وہ تحائف تبدیل کر دیے گئے؟
آڈیٹر جنرل نے کہا کہ یہ تو اس وزیر اعظم نے خود نوٹ لکھا کہ میرے ساتھ جانے والے لوگوں نے ایسا کیا۔ رکن کمیٹی طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مستقبل میں ایسے رولز بنائیں کہ توشہ خانہ پر انگلی نہ اٹھے۔ پی اے سی نے آڈٹ پیرا کو محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی میں بھیج دیا۔
تحائف کی غیر قانونی نیلامی سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ
اجلاس میں توشہ خانہ تحائف کی غیر قانونی نیلامی سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ توشہ خانہ پروسیجر کے مطابق سال میں ایک یا دو بار نیلامی ضروری تھی مگر توشہ خانہ کی انتظامیہ تحائف کی نیلامی کرانے میں ناکام رہی، توشہ خانہ انتظامیہ نیلامی کے نوٹیفیکیشن کا ثبوت دینے میں بھی ناکام رہی، 1987ء سے 2015ء تک توشہ خانہ تحائف کی 8 بار نیلامی ایسے ہی ہوئی۔
توشہ خانہ تحائف کی تمام نیلامیوں کی تفصیلات طلب
سیکریٹری کابینہ نے کہا کہ پہلے روایات ہی ایسی تھیں تحائف کی پبلک آکشن نہیں ہوتی تھی۔ رکن کمیٹی سید امین الحق نے کہا کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں میں، تحائف کی کوئی نیلامی نہیں ہو رہی تھی، یہ کسی کے حکم پر ہی ہو رہا تھا کیا۔ رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہا کہ کیا اس میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟
بعد ازاں کمیٹی نے توشہ خانہ تحائف کی تمام نیلامیوں کی تفصیلات طلب مانگ لیں۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے متعلق آڈٹ اعتراض کا جائزہ توشہ خانہ کا ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا کابینہ ڈویژن کی اکاؤنٹس کمیٹی میں توشہ خانہ کہ توشہ خانہ نے توشہ خانہ توشہ خانہ کے تک کا ریکارڈ سے اب تک کا پی اے سی نے ڈٹ حکام نے کابینہ کی اجلاس میں رکن کمیٹی ا ڈٹ حکام رولز میں کمیٹی نے کی گئی
پڑھیں:
قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس، پی ٹی آئی نے بھی شرکت کا فیصلہ کرلیا
پاکستان تحریک انصاف نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی کا معاملہ ہے، اس لیے شریک ہوں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پشاور میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ پی ٹی آئی ان کیمرہ میٹنگ میں شرکت کرے گی۔ اس اجلاس کے حوالے سے تحریک انصاف کے بڑوں کا اجلاس ابھی ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سیکورٹی کا معاملہ ہے، اس لیے ان کیمرہ بریفنگ میں شرکت کریں گے۔
یاد رہے کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس 18 مارچ بروز منگل دن 11 بجے قومی اسمبلی ہال میں منعقد ہو گا جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بندوق سے تمام مسائل حل نہیں ہوتے۔ اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو عوامی حمایت حاصل نہ ہوئی تو پی ٹی آئی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔ سوات آپریشن کا فیصلہ ہوا تھا تو پارلیمنٹ میں یہ معاملہ زیر بحث آیا، اسے عوامی حمایت حاصل ہوئی۔
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عید سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بن جائے اور عید کے فوراً بعد احتجاج کریں۔ مولانا فضل الرحمان سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ صرف عمران خان سے ملاقات کا انتظار ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے جو تحفظات تھے انھیں دور کرنے کی یقین کرائی گئی ہے۔
شہخ وقاص اکرم نے کہا کہ ملکی حالات بہتر نہیں ہیں۔ بے گناہوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔590 دنوں سے بانی پی ٹی آئی پابند سلاسل ہیں۔ قائد اعظم کی یہ تعبیر نہیں تھی کہ ملک میں فسطائیت کا دور اپنایا جائے۔ اس ملک میں ایسی گھٹن کا ماحول بن چکا ہے کہ نہ کوئی سچ بول سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے۔ دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حالات دن بدن بدتر سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو 590 دنوں سے جیل میں رکھ کر عوام سے دور رکھا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیےملک کی سیکیورٹی صورتحال پر قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کا وقت تبدیل
انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کی آگ لگی ہوئی ہے اور حکومت کے غیر سنجیدہ رویہ سے عوام کو نفرت ہو رہی ہے۔ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ملک میں تباہی آسکتی ہے اور ملک آگے نہیں جا سکتا۔
شیخ وقاص اکرم نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ونگ کے ممبر حیدر سعید کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طریقے سے اغوا کر کے اور ان کے گھروں پر ریڈ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اگر کچھ غلط ہوا تو ایف آئی آر درج کر کے کاروائی کی جائے نہ کہ گھروں پر ایسے ٹوٹ پڑیں۔ حیدر سعید کی والدہ اداروں اور پولیس سٹیشن کے چکر لگاتی رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اداروں کی طرف سے کہا گیا کہ اس نوجوان کو حوالے نہ کیا گیا تو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیےسانحہ جعفر ایکسپریس، اسلام آباد کے علاقے بنی گالا سے بڑی گرفتاری
انہوں نے کہا کہ قدیر انجم، سعد، طارق، عثمان محمود یہ نوجوان پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹیم کے حصہ ہیں۔ فیک پیجز فیک اکاؤنٹ بنا کر انہیں ہمارے ان بچوں کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ بچے جو اغوا ہوئے ہیں، ان کو کسی ناجائز ایکٹیویٹی میں استعمال نہ کیا جائے۔ قوم کے بچوں کے ساتھ دشمنی اس حکومت کو بہت زیادہ مہنگی پڑے گی۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو اپنے حقوق اور اپنی طاقت کا اندازہ ہے۔ 9 مئی کے بعد جب سب کچھ بند کر دیا گیا تو اسی سوشل میڈیا کے نوجوانوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ انہوں نے ان نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک مہینے سے پنجاب کے مختلف ضلعوں کے اندر سوشل میڈیا کے نوجوانوں کے گھروں پر ریڈ ہوئے۔ اس کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے، اسمبلی میں بات کریں گے، باہر بھی نکلیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسائل کو حل کیا جائے، دہشتگردی کو کنٹرول کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم قومی سلامتی کمیٹی