’میں بھارت میں بھارت کو ہرانے آرہا ہوں‘، سنیل گواسکر نے عمران خان کا دلچسپ قصہ سنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
سابق بھارتی کرکٹر سنیل گواسکر کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پرانی ملاقات کا ذکر کیا جس میں انہوں نے عمران خان کا بھارت آکر بھارت کو میچ ہرانے کا دلچسپ قصہ سنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ان کی لندن میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ انگلینڈ کے دورے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہورہے ہیں جس پرعمران خان نے کہا آپ ریٹائر نہیں ہوسکتے۔
سنیل گواسکر نے عمران خان سے پوچھا کہ وہ کیوں ریٹائرمنٹ نہ لیں جس کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اگلے سال پاکستان بھارت آئے گا اور میں نے اس بھارتی ٹیم کو ہرانا ہے جس میں آپ شامل ہوں‘۔
https://Twitter.
سابق بھارتی کرکٹر کا کہنا تھا کہ انہوں نے عمران خان سے کہا کہ پاکستان کرکٹ کھیلنے انڈیا نہیں آئے گا جس پر انہوں نے کہا کہ آئی سی سی اعلان کرنے والی ہے جس پر سنیل گواسکر نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ ریٹائرمنٹ نہیں لیں گے اور وہی ہوا، آئی سی سی نے اعلان کردیا کہ پاکستان کرکٹ کھیلنے انڈیا جارہا ہے تو انہوں نے ریٹائرمنٹ نہیں لی۔
جس کے بعد پاکستان انڈیا میچ کھیلنے گیا اور 5 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز پاکستان نے 0-1 سے جیت لی۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد 6 میچوں پر مشتمل ایک روزہ سیریز بھی کھیلی گئی اور وہ بھی پاکستان نے 1-5 سے جیتی، یوں پاکستان میں بھارت میں بھارت کو پہلی مرتبہ شکست دی اور عمران خان کی جانب سے کیا گیا دعویٰ بھی درست ثابت ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سنیل گواسکر عمران خانذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سنیل گواسکر سنیل گواسکر میں بھارت انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ہیڈ کوچ عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم کی حمایت میں سامنے آگئے
راولپنڈی:قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کھلاڑیوں کی حمایت میں سامنے آگئے۔
عاقب جاوید نے روالپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بہترین ٹیم سلیکٹ کی تھی لیکن توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں آئی جو ایک حقیقت ہے۔ کچھ کھلاڑی میچ کیلئے بہت ضروری ہوتے ہیں، ٹیم میں جو بھی سلیکٹ ہوا اپنی کارکردگی کی وجہ سے آیا، یہ حقیقت ہے ہماری پرفارمنس نہیں آرہی، بابر کے سوا ہمارے پاس کون سا آپشن ہے؟۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرکٹ میں کوئی معذرت نہیں ہوتی اور ہر میچ سے پہلے ٹیم پر امید ہوتی ہے، جسے ہم سپورٹ بھی کرتے ہیں۔ کھلاڑی خود بھی کارکردگی سے افسردہ ہیں، قوم کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ٹیم کی طرف سے پوری کوشش کی جاتی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے میچ میں جذبات مختلف ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کے دوران کپتان اور کوچ میں انا کی جنگ
بھارت کے خلاف میچ کے حوالے سے عاقب جاوید نے کہا کہ اگر پاکستان 300 کے قریب اسکور بنا لیتا تو اچھا مقابلہ ہو سکتا تھا۔ جب اچھا ٹوٹل نہ ہو تو بولرز کو زیادہ اٹیکنگ جانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے میچز میں امپیکٹ پلیئرز کا ہونا ضروری ہوتا ہے، صائم ایوب اور فخر زمان کی عدم موجودگی سے فرق پڑا۔ سفیان مستقیم اور عرفان نیازی کا ون ڈے کے حوالے سے ایکسپوژر نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: شدید عوامی ردعمل نے پاکستانی کرکٹرز کو پریشان کردیا
عاقب جاوید نے مزید کہا کہ ون ڈے میں سات بیٹرز اور چار بولرز کا کمبی نیشن کھلایا جاتا ہے، اور چونکہ صائم ایوب بیٹنگ کے ساتھ کچھ اوورز بھی کروا سکتے تھے، اسی لیے ان کی جگہ خوشدل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
انہوں نے بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین دستیاب ٹیم میدان میں اتاری تھی۔ انہوں نے سعود شکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جگہ محنت سے بنائی۔