کراچی:

حکومت سندھ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر گجر، اورنگی اور محمود آباد نالہ کے متاثرین کے لیے معاوضے کی ادائیگی کا شیڈول جاری کردیا۔

سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کمشنر کراچی کی جانب سے گجر، اورنگی اور محمود آباد نالہ کے 6932 متاثرین کو مکان کی تعمیر کے لیے 14 لاکھ 50 ہزار روپے فی کس کے حساب سے معاوضے کی ادائیگی کا شیڈول جاری کردیا، اس ضمن میں اخبارات میں اشتہارات شائع کرائے گئے ہیں۔

کمشنر کراچی ڈویژن کے دفتر کے مطابق نالہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی 12 مارچ سے شروع ہوگی اور 9 مئی تک جاری رہے گی۔ 12 مارچ کو محمود آباد نالہ متاثرین کو معاوضے کے چیک دیے جائیں گے۔

گجرنالہ متاثرین 14مارچ سے 24 اپریل جبکہ اورنگی نالہ متاثرین 25 اپریل سے 9 مئی تک تعمیراتی معاوضے کی مد میں چیک حاصل کرسکیں گے۔ تمام متاثرین کو چیک محکمہ کچی آبادی کے دفتر نزد سوک سینٹر گلشن اقبال سے جاری کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2021 میں سپریم کورٹ نے نالوں کے اطراف سے تجاوزات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ کو متاثرین کی آباد کاری کا بھی حکم دیا تھا، جس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کو ان کے ڈھائے گئے مکانات کی تعمیر کے لیے فی کس ساڑھے چودہ لاکھ روپے کی ادائیگی کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

دوسرے مرحلے میں متاثرین کو تیسر ٹاؤن میں 80، 80 گز کے پلاٹ دیے جائیں گے جہاں وہ اپنے گھر تعمیر کرسکیں گے۔

نالہ متاثرین کے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرنے والی کراچی بچاؤ تحریک کے کنوینر خرم علی نیئر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ نالہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے شیڈول کا اجرا اس لحاظ سےتو خوش آئند ہے کہ جس طرح سے لوگوں کے گھر مسمار کیے گئے تھے اس میں ان لوگوں کے لیے جینے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا، ایسے میں متاثرین کو گھروں کی تعمیر کیلیے معاوضے کی ادائیگی کا نوٹیفکیشن آنا کافی خوش آئند بات ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو ظلم متاثرین کے ساتھ کیا گیا یہ اس کا مداوا نہیں ہے، یہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ اداروں کے ٹھیکوں کے لیے ، چند بڑے لوگوں کے پیسہ کمانے کے لیے غریبوں کے گھروں کو توڑ دیا گیا، اور ان حالات میں کوئی سیاسی جماعت کوئی ادارہ ان غریبوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے تیار نہیں تھا، اور یہ انہی متاثرین کی جدوجہد ہے کہ یہ اپنے اور اپنے بچوں کے حق کے لیے مسلسل سڑکوں پر نکلے۔

خرم علی نیئر نے کہا کہ پھرجدوجہد کی راہ میں کچھ مخلص لوگ مل ہی جاتے ہیں جیسے کہ بالخصوص ایڈووکیٹ سپریم کورٹ فیصل صدیقی جنہوں نے عوامی مفاد کے لیے متاثرین کا کیس لڑا اور آخر تک لڑا، مگر ان کا بھی یہ کہنا تھا کہ ہمارے ہاں عدالتیں بھی فیصلے تب دیتی ہیں جب لوگ سڑکوں پر آتے ہیں، اور پھر سندھ کابینہ کا نوٹیفکیشن جس میں کہا گیا تھا کہ عوامی دباؤ کے پیش نظر تعمیرات کی مد میں ساڑھے 14 لاکھ روپے کی یک مشت ادائیگی کا فیصلہ کیا جارہا ہے۔

خرم علی نیئر نے مزید کہا کہ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر غریب طبقہ اتحاد قائم کرلے تو وہ بڑے سے بڑے سورما کو شکست دے سکتا ہے۔

کنوینر کے بی ٹی نے کہا کہ اس میں ہمارا متاثرین کے علاوہ نوجوانوں نے ساتھ دیا، ہمارے سوشل میڈیا، فنڈ ریزنگ اور گراؤنڈ آرگنائزنگ کی ٹیمیں تھیں، تو نوجوان اور ورکنگ کلاس یہ دو اہم ستون ہیں جو نہ صرف چھوٹی چھوٹی لڑائیاں جیت سکتے ہیں بلکہ ملک میں اہم تبدیلی بھی لاسکتے ہیں۔

خرم علی نیئر نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ اس کے بعد گجرنالہ کے دوست اوریہ نوجوان تمام کچی بستیوں کا مقدمہ لڑیں، اور تمام مزدوروں کا مقدمہ لڑیں جو کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

کنوینر کراچی بچاؤ تحریک نے کہا ہے کہ چیک ملنے کے بعد ہمارا اگلا ہدف ہوگا کہ جلد سے جلد متاثرین کو پلاٹ مل جائیں اور جب تک ایک بھی مسنگ آئی ڈی موجود ہے اور ایک بھی شخص کو اس کا حق نہیں ملا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ 6932 کے علاوہ دو ہزار کے لگ بھگ متاثرین ایسے ہیں جنہیں تاحال رجسٹر نہیں کیا گیا، جب تک ان بقایا متاثرین کو حق نہیں ملتا تب تک ہماری جدوجہد ایسے ہی جاری و ساری رہے گی۔

 

 

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: معاوضے کی ادائیگی کا نالہ متاثرین کو خرم علی نیئر متاثرین کے سپریم کورٹ نے کہا کہ کی تعمیر کے لیے

پڑھیں:

سندھ میں جرائم کی بیخ کنی کیلیے شاہراہوں پر ’ پیٹرولنگ پولیس‘ متعارف کروانے کا فیصلہ

کراچی:

حکومت سندھ کا شہروں کے درمیان اہم ہائے ویز، شاہراہوں پر"پیٹرولنگ پولیس"متعارف کروانے کا فیصلہ،  شہروں میں جرائم کی بیخ کنی کے لیے جدید کیمروں کی تنصیب سمیت دیگر اقدامات کے تسلسل کوبرقراررکھتے ہوئے شاہراہوں کو محفوظ بنانے کے لیے پیٹرولنگ پولیس تعینات جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی زیرصدارت صوبے میں "ہائے ویز پیٹرولنگ" متعارف کروانے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں ڈی آئی جیزٹی اینڈ ٹی،ایڈمن کراچی،کرائم اینڈآنوسٹی گیشنز، ٹریفک حیدرآباد، سی آئی اے، ہیڈکواٹرز،اسٹبلشمنٹ،آئی ٹی، فنانس، سمیت دیگرپولیس افسران نے شرکت کی۔

ڈی آئی جی اسٹبلشمنٹ کی جانب سے مجوزہ پولیس پیٹرولنگ منصوبے کے اغراض و مقاصد، چیک پوسٹوں کی موجودہ صورتحال، نفری اورحدود و وسائل پر مبنی برینفگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں سندھ کے مختلف ہائے ویز کے11مقامات پر سندھ موٹرویزپیٹرولنگ پولیس تعینات کی جائے گی۔

ایم نائن، شہیدذوالفقارعلی بھٹو،ناڈرن بائی پاس،انڈس،لیاری،نیشنل،ایم فائیو،مہران، ٹھٹھہ ٹومٹھی، حیدرآباد میرپورخاص،اورحیدرآباد بدین ہائے ویزشامل ہیں، پولیس ہائے وے پیٹرول یونٹ کی قیادت ایک ڈی آئی جی،3 ایس ایس پیز اور7ڈی ایس پیزکریں گے،ڈی آئی جی اورایک ایس ایس پی حیدرآباد،جبکہ ایک ایس ایس پی کراچی اورایک سکھر میں تعنیات کیے جائیں گے۔

 اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بتایا کہ اس منصوبے کا بنیادی اور واحد مقصد صرف جرائم کی روک تھام ہے، شہروں میں لگے کیمروں کی مدد سے جرائم کے خلاف جنریٹ ہونے والے الرٹ سے متعلقہ پولیس سمیت سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول بھی متحرک ہوجائے گی۔

اندرون سندھ میں ہائے ویزپرقائم پولیس چیک پوسٹوں کی بحالی، پیٹرولنگ گاڑیوں اورنفری کی تعداد اور دیگر انتظامات پرمبنی تجاویزبرائے منظوری سندھ حکومت کے لیے تیارکی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولنگ کا مقصد جرائم کے خلاف پولیس رسپانس کوہائے ویزتک وسعت دینا اور موثربنانا ہے،  چوری شدہ گاڑیوں کی منتقلی کی روک تھام اورجرائم پیشہ افراد کے گرد مزید گھیراتنگ کرنا اورشہریوں کو محفوظ گزرگاہیں فراہم کرنا ہے۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نالہ متاثرین کو گھروں کی تعمیر کیلئے معاوضے کی ادائیگی کا شیڈول جاری
  • چلاس میں متاثرین ڈیم کا دھرنا گیارہویں روز بھی جاری رہا
  • رمضان المبارک میں گیس کی فراہمی اور بندش کا شیڈول جاری
  • بجلی کی قیمت میں کمی کیلیے کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت آج ہوگی
  • 9 ویں اور 10 ویں کے امتحانات ملتوی، نیا شیڈول جاری
  • موسم کی خرابی کے باعث فلائٹ شیڈول متاثر، 6 پروازیں منسوخ، 23 تاخیر کا شکار
  • لاہور ہائیکورٹ میں آئندہ 2 ماہ کیلیے ججز روسٹر جاری
  • مسافروں کیلیے برُی خبر، اہم ٹرین بند
  • سندھ میں جرائم کی بیخ کنی کیلیے شاہراہوں پر ’ پیٹرولنگ پولیس‘ متعارف کروانے کا فیصلہ