آزاد کشمیر میں ساتواں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک قائم
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
مظفرآباد:
ایس سی او نے آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈڈیال میں جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک قائم کر دیا جو خطے میں ڈیجیٹل انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ پارک آزاد کشمیر میں 50 آئی ٹی مراکز کے قیام کے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت ڈڈیال میں قائم ہونے والا یہ ساتواں فعال ٹیکنالوجی پارک بن گیا ہے۔ اس سے قبل یہاں 20 فری لانسنگ ہبز پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔
ڈڈیال سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں جدید ترین آئی ٹی سہولیات، تیز رفتار انٹرنیٹ اور اسٹارٹ اپس کے لیے انکیوبیشن مراکز موجود ہیں۔
یہ پارک نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی آئی ٹی ماہرین، کاروباری افراد اور اسٹارٹ اپس کے لیے ترقی کی راہیں کھولے گا۔
مقامی سافٹ ویئر انجینئر شہزاد علی نے کہا کہ ہم سب یہاں فری آف کاسٹ کام کر رہے ہیں، اس پارک سے میں اور میری ٹیم بہت مستفید ہو رہے ہیں۔
ڈڈیال کے عوام نے ایس سی او کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔
راولاکوٹ میں یوتھ اینڈ میڈیا ورکشاپ کا انعقاد
ادھر راولاکوٹ میں یوتھ اینڈ میڈیا ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں نوجوان طلبہ و طالبات، صحافیوں اور سماجی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔
ورکشاپ کا مقصد ففتھ جنریشن وار، سوشل میڈیا کے مثبت و منفی اثرات، اور ڈِس انفارمیشن و مِس انفارمیشن جیسے اہم موضوعات پر آگاہی فراہم کرنا تھا۔
مقررین نے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتیں سنسنی خیز اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر عوام میں بے اعتمادی پیدا کر رہی ہیں۔
انہوں نے شام اور لیبیا جیسے ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ففتھ جنریشن وار کے تحت سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قومی بیانیے کو کمزور کیا جا سکے۔
ورکشاپ میں شرکاء نے گہری دلچسپی لی اور مقررین سے سوالات کیے، جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے اس معلوماتی سیشن کے انعقاد پر پاک فوج اور حکومتِ آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں مزید ایسے پروگرامز منعقد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی پارک سافٹ ویئر
پڑھیں:
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کا تحتہ الٹنے والی طلبہ تنظیم کاسیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ
ڈھاکہ(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 فروری ۔2025 ) بنگلہ دیش میں احتجاجی تحریک میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کا تحتہ الٹنے میں پیش پیش رہنے والی بنگلہ دیشی طلبہ تنظیم”سٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمنیشن “نے نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے قیام کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے میں کیا جائے گا. سٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمنیشن (ایس اے ڈی) نامی طلبہ تنظیم نے ابتدا میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف ایک تحریک شروع کی تھی لیکن جلد ہی یہ ایک وسیع تر عوامی تحریک میں بدل گئی اور اسی ملک گیر خونی احتجاج کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں اقتدار چھوڑ کر انڈیا جانا پڑا.(جاری ہے)
برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ طلبہ تنظیم بدھ کے روز متوقع ایک تقریب میں اپنی نئی سیاسی جماعت کے باضابطہ اعلان کی تیاری کر رہی ہے طلبہ رہنما اور عبوری حکومت کے مشیر ناہید اسلام کو اس نئی جماعت کا کنوینر مقرر کیے جانے کا امکان ہے جو عبوری حکومت میں طلبہ کے مفادات کے لیے سرگرم رہے ہیں اس حکومت کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں جو اگست 2024 سے بنگلہ دیش کے عبوری حکمران ہیں. امکان ہے کہ ناہید اسلام اپنی موجودہ سرکاری عہدے سے مستعفی ہو کر مکمل طور پر نئی جماعت کی قیادت پر توجہ دیں گے تاہم انہوں نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ملک کے عبوری حکمران محمد یونس کا کہنا ہے کہ 2025 کے اختتام تک انتخابات ممکن ہیں اور کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ نوجوانوں کی قیادت میں بننے والی یہ جماعت بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے محمد یونس نے خود انتخابات میں حصہ لینے میں عدم دلچسپی ظاہر کی ہے. محمد یونس کے دفتر نے اس نئی طلبہ جماعت کے قیام پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے اقتدار چھوڑنے کے بعد سے مسلسل سیاسی عدم استحکام جاری ہے ان کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں 1000 سے زائد افراد جان سے گئے. اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے مطابق شیخ حسینہ کی سابقہ حکومت اور سکیورٹی فورسز نے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف منظم طریقے سے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں تاہم شیخ حسینہ اور ان کی جماعت نے ان الزمات کی تردید کی ہے.