ایران کا امریکی صدر کے خط کا جواب، دباؤ میں مذاکرات سے انکار

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خط کا جواب دے دیا ہے یہ جواب عمان کے ذریعے امریکی قیادت تک پہنچایا گیا ہے ایرانی وزیر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے دباؤ میں براہ راست مذاکرات نہ کرنے کا اعادہ کیا ہے، تہران کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں موجودہ صورتحال اور امریکی صدر کے خط پر تفصیلی ردعمل دیا گیا ہے ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام پر امریکا سے براہ راست مذاکرات نہیں کرے گا تاہم بلواسطہ بات چیت کے لیے تیار ہے ایران اپنی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی دباؤ میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا دوسری جانب ایران نے اپنے سب سے بڑے زیر زمین میزائل بیس کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے اس پیشرفت کو ایران کی دفاعی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو خط لکھا تھا جس میں جوہری معاہدے پر مذاکرات کی خواہش ظاہر کی گئی تھی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر بات چیت کے خواہاں ہیں اور ایرانی قیادت کو اس سلسلے میں خط بھیجا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ مذاکرات ہوں گے کیونکہ یہ ایران کے مفاد میں بہتر ہوگا ہمیں کوئی ایسا قدم اٹھانا ہوگا جس سے ایک اور جوہری ہتھیار بنانے کا خطرہ ٹل سکے

ای پیپر دی نیشن

History

Close |

Clear History