کراچی کے بے روزگارنوجوانوں کیلئے 50 ہزارنوکریاں
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اپریل2025ء)انٹرنیشنل فوڈ چین فوڈ پاپا نے پاکستان میں اپنی سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے علی شیخانی اور جے ڈی سی کے تعاون سے نیو فوڈ ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں اب روزگار کی کمی نہیں رہے گی۔
پہلے مرحلے میں 50 ہزار افراد کو نوکری دی جائے گی، جبکہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں مجموعی طور پر 5 لاکھ نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔ رائیڈرز کے لیے اسپتال اور ان کے بچوں کے لیے اسکول کی سہولت بھی دی جائے گی۔ فوڈ پاپا پر کام کرنے والے رائیڈرز ہوں یا کسی بھی عہدے پر موجود ورکرز، سبھی اور ان کی فیملیز کو انشورنس کی سہولت بھی میسر ہوگی۔(جاری ہے)
فوڈ پاپا کو جلد ہی یو اے ای، یو ایس اے، عمان، آسٹریلیا اور یو کے میں بھی لانچ کیا جائے گا، جبکہ اس کے شیئرز بھی جلد مارکیٹ میں عوام کے لیے دستیاب ہوں گے۔ 80 فیصد ریسٹورنٹس نے فوڈ پاپا کے ساتھ مل کر عوام کو خدمت فراہم کرنے کے لیے معاہدہ بھی کیا ہے۔نوجوان نوکری کے لیے آج ہی foodpapa.com پر رجسٹریشن کرکے خود کو نوکری کے لیے رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ فوڈ پاپا کو وزیراعظم یوتھ لون پروگرام کا تعاون بھی حاصل ہے، جبکہ جے ڈی سی، فوڈ پاپا کے 2 فیصد شیئرز کی مالک ہے۔نوجوانوں اور ہوم شیفس کو اس فوڈ چین پروگرام کے ذریعے بیرونِ ملک نوکری کے بھی مواقع میسر آئیں گے۔ اس موقع پر ایک ڈاکیومینٹری کے ذریعے شیخانی گروپ کے دنیا بھر میں چلنے والے کاروبار کو بھی دکھایا گیا، جبکہ معروف اداکارہ سعدیہ امام نے پروگرام میں میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
وقف قانون کی مخالفت میں "آئی پی ایس" افسر نور الہدیٰ نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دیا
اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ اور مسلم تنظیموں کیجانب سے سپریم کورٹ میں وقف قانون کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی، جسکے بعد سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست بہار کے رہنے والے اور 1995ء بیچ کے ایک سینیئر "آئی پی ایس" افسر نور الہدیٰ نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انڈین پولیس سروس سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنی دیانتداری اور ایمانداری کی شناخت رکھنے والے آئی پی ایس نور الہدیٰ سماجی کاموں میں بھی گہرائی سے شامل رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نور الہدیٰ اپنے آبائی گاؤں میں تقریباً 300 محروم بچوں کو مفت میں تعلیم فراہم کرتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ تعلیم حقیقی طور پر بااختیار بنانے کی کنجی ہے۔ اپنے شاندار کیریئر کے دوران نور الہدیٰ نے کئی حساس اور ہائی پریشر والے علاقوں میں کام کیا، جن میں دھنباد، آسنسول او دہلی ڈویژن شامل ہیں۔ ریلوے سیکورٹی، نکسل کنٹرول اور جرائم کی روک تھام میں اختراعی حکمت عملیوں کو نافذ کرنے کا سہرا انہیں کے سر جاتا ہے۔
ان کی مثالی خدمات کے لئے انہیں دو مرتبہ "باوقار وششٹ سیوا میڈل" اور دو بار "ڈائریکٹر جنرل چکر" سے نوازا گیا۔ کئی دہائیوں تک وردی میں خدمات انجام دینے کے بعد، سینیئر آئی پی ایس افسر نور الہدیٰ نے اب سیاست میں آکر عوامی زندگی میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہے۔ واضح رہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ اور مسلم تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ میں وقف قانون کے خلاف عرضی داخل کی گئی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں 16 اور 17 اپریل کو ہوئی سماعت کے بعد مودی حکومت کو 7 دنوں کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ قانون کے نفاذ سے متعلق عبوری حکم دیتے ہوئے کسی بھی تقرری پر پابندی عائد کردی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ حکومت سپریم کورٹ میں اپنا کیا جواب داخل کرتی ہے اور پھر اس کے خلاف عرضی داخل کرنے والے لیڈران اور تنظیمیں کیا حکمت عملی تیار کرتی ہیں، لیکن اتنی بات تو طے ہے کہ عدالت نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس سے حکومت اور عرضی گزاروں دونوں کو سخت سوال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔