Daily Mumtaz:
2025-04-21@12:16:22 GMT

بھارتی اداکار کے پیچھے کتے پڑ گئے

اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT

بھارتی اداکار کے پیچھے کتے پڑ گئے

ممبئی کے پوش علاقے وورلی میں حال ہی میں ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا جب نوجوان بالی وڈ اداکار ویر پہاڑیا کو اپنی قیمتی سرخ رنگ کی ایسٹن مارٹن ڈی بی 11کار چلاتے ہوئے ایک آوارہ کتے نے گھیر لیا۔

یہ ویڈیو نہ صرف وائرل ہوگئی بلکہ ویر کو ایک بار پھر انٹرنیٹ کا ”میم میٹیریل“ بھی بنا گئی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویر پہاڑیا، جو حال ہی میں اکشے کمار کے ساتھ فلم ”اسکائی فورس“ سے بالی وڈ میں قدم رکھ چکے ہیں، اپنی 3.

79 کروڑ روپے مالیت کی سپر کار چلا رہے تھے کہ اچانک ایک آوارہ کتا سڑک کے بیچ آ کر ان کا راستہ روک لیتا ہے۔

اداکار نے گاڑی کی رفتار کم کی تاکہ کتا خود ہی ہٹ جائے، مگر الٹا وہ گاڑی کے پیچھے بھاگنے اور مسلسل بھونکنے لگا۔

شاہ رخ کی بہن شہناز، شاہ رخ سے بھی آگے، لیکن ایک حادثے نے زندگی بدل دی کتے کی ضد اور رفتار ایسی تھی کہ اس نے ویر کو کافی دیر تک پریشان رکھا۔ جیسے ہی اداکار کو موقع ملا، انہوں نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی، مگر کتا پیچھا کرنے سے باز نہ آیا اور گاڑی کے ساتھ دوڑتا رہا۔

یہ سارا منظر نہ صرف ویر کے لیے ایک غیر متوقع واقعہ تھا بلکہ دیکھنے والوں کے لیے بے حد تفریحی بھی ثابت ہوا۔ سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو دیکھ کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو کے تبصرے بھی خوب دلچسپ رہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’مشہور شخصیات کو بھی عام آدمی کی طرح چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

جبکہ ایک اور نے ہنستے ہوئے کہا، ’کتے کا بھی اپنا بھرم ہے!‘ کسی نے تو یہ بھی کہہ دیا،’ہو سکتا ہے کتا ویر کے“لنگڑی ڈانس“ کا فین ہو!‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ویر پہاڑیا سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہوں۔ رواں سال کے آغاز میں فلم اسکائی فورس کے گانے ”رنگ“ میں ان کے انوکھے ڈانس موو نے بھی میمز کی دنیا میں دھوم مچائی تھی۔ کچھ نے ان کے انداز کو پسند کیا، تو کچھ نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

تاہم ویر نے ہر بار خود پر ہونے والی ٹرولنگ کو خوش دلی سے قبول کیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھاکہ، ’میرا ڈانس ٹرول ہوا، لیکن اسی کے بعد میری سوشل میڈیا انگیجمنٹ میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ لوگ مجھے جاننے لگے اور نئے پروجیکٹس کے دروازے کھل گئے۔ تو جو لوگ ٹرول کر رہے ہیں، ان سے صرف اتنا کہوں گا—پلیز اور ٹرول کریں تاکہ مجھے اور شادیوں کے شوز ملیں اور میں زیادہ کمائی کر سکوں۔‘

چاہے وہ وائرل ڈانس ہو یا آوارہ کتے سے نمٹنے کا منظرویر پہاڑیا یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ہر لمحے کو نہ صرف جینے کا ہنر رکھتے ہیں بلکہ انٹرنیٹ پر چھا جانے کا فن بھی بخوبی جانتے ہیں۔

Post Views: 1

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ویر پہاڑیا سوشل میڈیا

پڑھیں:

تحریک انصاف ایک سال میں اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹ چکی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) گزشتہ ایک سال کے دوران نئے عام انتخابات، حکومت کی تبدیلی اور 2024ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی مکمل تحقیقات کے اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔

اب پارٹی کی مکمل توجہ جیل میں قید پارٹی قیادت بشمول سابق وزیر اعظم عمران خان کیلئے ریلیف کے حصول اور مخالفانہ ماحول میں سیاسی مقام کے دوبارہ حصول پر مرکوز ہے۔

پارٹی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما اب سمجھ چکے ہیں کہ تاریخی لحاظ سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ براہ راست تصادم فضول ہے۔ پی ٹی آئی کی سینئر شخصیات کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی بات چیت سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کا گہرا فقدان ٹھیک نہیں ہو سکتا اور پس پردہ کوئی ڈیل ایسی ثابت نہیں ہو سکتی کہ جس سے عمران خان کی اڈیالہ جیل سے رہائی اور اقتدار کے ایوانوں میں دوبارہ واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔

پارٹی کی ایک سینئر شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کا اعتراف کیا کہ فی الوقت ہمارے لیے سب سے بہتر چیز یہ ہو سکتی ہے کہ اقتدار میں واپسی کی بجائے سیاسی بقاء کی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ پارٹی کو سانس لینے کا موقع مل سکے اور 2028ء میں منصفانہ الیکشن ملے۔ پارٹی اب سمجھتی ہے کہ موجودہ ’’ہائبرڈ سسٹم’’ (ایک اصطلاح جو اکثر اسٹیبلشمنٹ کے زیر تسلط سیاسی فریم ورک کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے) جاری رہے گا۔

یہ نظام ختم کرنے یا اسے کمزور کرنے کی پی ٹی آئی کی کوششیں ناکام رہی ہیں جس کیلئے پارٹی عوامی تحریکیں، عدالتی دبائو یا بین الاقوامی برادری سے اپیلوں کا راستہ اختیار کر چکی ہے۔ پارٹی کا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ عدلیہ اپنی غیر جانبداری کھو چکی ہے، جبکہ غیر ملکی حکومتوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں خاص طور پر نوجوانوں اور شہری متوسط ​​طبقے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت زیادہ ہے۔ تاہم، پارٹی رہنما مانتے ہیں کہ اس عوامی حمایت سے سیاسی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکا کیونکہ یہ تسلیم کی گیا ہے کہ فوج کے ساتھ براہِ راست تصادم کی پالیسی غلط رہی۔ پارٹی کی صفوں میں ایک پریشان کن سوال جنم لے رہا ہے کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہوا بھی تو کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر دوبارہ بھروسہ کرے گی؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی سیاسی لحاظ سے ناقابل تصور ہے۔

پی ٹی آئی کیلئے پریشان کن بات یہ ہے کہ مفاہمت کی خواہشات کے باوجود پارٹی کے بانی چیئرمین نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کیلئے پارٹی سوشل میڈیا کو بیان بازی میں نرمی لانے یا حکمت عملی تبدیل کرنے کیلئے نہیں کہا۔

اس کے برعکس، پارٹی سوشل میڈیا کا بیانیہ سخت تنقید پر مبنی ہے جس سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں۔ آئندہ کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کو ایک عملی نقطہ نظر اختیار کرنا چاہئے: اپنے قیدی رہنمائوں کیلئے قلیل مدتی ریلیف حاصل کرنا، نچلی سطح پر دوبارہ منظم ہونا، اور آئندہ عام انتخابات کیلئے تیاری شروع کرنا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ پارٹی اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے تصادم کی بجائے بقائے باہمی کا راستہ چنتی ہے یا نہیں۔

Post Views: 5

متعلقہ مضامین

  • کوہلی نے زیادہ آئی پی ایل ففٹیز کے ریکارڈ میں وارنر کو پیچھے چھوڑدیا
  • عماد عرفانی کی گلوکار علی عظمت کو دلچسپ انداز میں سالگرہ کی مبارکباد
  • سہانا خان کی گھڑی کی قیمت نے سلمان کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • 5 فلموں سے 2200 کروڑ بھارتی روپے کمانے والے اداکار کون ہیں؟
  • فلم ویلکم کے اداکار کا اکشے کمار کے ملازموں سے بھی کم معاوضہ ملنے کا انکشاف
  • تحریک انصاف ایک سال میں اپنے بنیادی مطالبات سے پیچھے ہٹ چکی
  • بھارت کا 4 فٹ 8 انچ کا وہ اداکار جو پربھاس سلمان خان اور شاہ رُخ خان سے بھی آگے ہے
  • شوبز ستاروں میں طلاق کی بڑھتی ہو شرح کیوں؟ اداکار سمیع خان نے وجہ بتادی
  • وانی کپور نےفواد خان کی تعریفوں کے پل باندھ دیے