ٹرمپ، دنیا اور عالمی مالیاتی نظام
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
وہی ہوا اور ہورہا ہے جس کا ڈر تھا۔ ٹرمپ نے دنیا بھر میں عالمی تجارتی جنگ چھیڑ دی ہے۔ امریکیوں نے بھی چن کے وہ بندہ اپنا صدر بھرتی کیا ہے جو امریکا اور دنیا بھر کا دیوالیہ نکالے گا۔
ٹرمپ کا بنیادی مسئلہ ہی یہی ہے کہ وہ خود کو عقل کل سمجھتا ہے اور جو فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اسی پر ٹک جاتا ہے۔ یہ خصوصیت ذاتی حیثیت میں ٹھیک ہے بلکہ خوبی ہے لیکن ملکی معامالات ایسے چل ہی نہیں سکتے۔ ٹرمپ اپنی ذاتی زندگی میں 3 مرتبہ صفر سے ملینیئر بنا ہے۔ یہ بھی ایک خوبی ہے اور اگر یہ صلاحیت کسی لیڈر میں ہو تو یہ خامی ہے کیونکہ ملک یا قوموں کےلیے صفر ہوکر دوبارہ پیروں پر کھڑے ہونے میں نسلیں گزر جاتی ہیں۔ ٹرمپ امریکا کو ٹیرف وار کے راستے جس ڈھلوان پر گھسیٹنے لگا ہے، اس کا اثر صرف امریکا پر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر پر ہوگا۔
ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ ٹیرف کی جنگ چھیڑ دی ہے اور جواب میں طاقتور ممالک نے امریکا پر بھی ٹیرف عائد کردیے ہیں۔ اس کے ساتھ دنیا بھر کی مالیاتی مارکیٹس گرنا شروع ہوگئی ہیں۔ خاکسار اس وقت دبئی میں موجود ہے اور یہاں کے معاشی ماہرین سے گفتگو کے بعد مجھے نجانے کیوں 2008 کے فنانشل کرائسز سے ملتا جلتا کچھ ہوتا ہوا محسوس ہورہا ہے۔ کچھ ایسا ہونے لگا ہے جو دنیا بھر کے مالیاتی سسٹم کو جھٹکا دے گا اور گلوبل فنائنسز یا جیو اکنامکس بدل جائیں گے۔ کیا یہ تبدیلی اچھی ہوگی؟ جی، نہیں!
سب سے پہلے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ نے ٹیرف کی جنگ شروع کیوں کی ہے؟ اس کا بہت سادہ کا جواب یہی ہے کہ امریکی سادہ بدھووں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ امریکی معیشت کو بیرونی خطرات سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ حقیقت میں مڈ ٹرم الیکشن میں اپنی سیٹ بچانے کےلیے اس نے اتنا بڑا محاذ کھول دیا ہے کہ اس کو اس کے بڑے بھی اب بند نہیں کرسکیں گے۔ اس اقدام کے بعد سے دنیا بھر میں امریکی اجارہ داری ختم ہوناشروع ہوگی اور دنیا اگلے 5 سال میں ہی کوئی نیا عالمی ٹھیکیدار دیکھے گی۔ ٹرمپ کی یہ پالیسی اس کے اچھے بزنس مین اور ایک نا کام لیڈر ہونے کی واضح نشانی بھی ہے کیونکہ اس نے معاشی تاریخ اوراپنے تجارتی فہم کو بطور بزنس مین تو دیکھا ہے لیکن اگر وہ یہ سب کچھ بطور لیڈر دیکھتا تو یہ احمقانہ قدم ہرگز نہ اٹھاتا۔
جو باتیں معاشی ماہرین سمجھ رہے ہیں، میرا پورا یقین ہے کہ وہ باتیں امریکی معاشی ماہرین بھی سمجھتے ہیں، وہ بھی جانتے ہیں کہ ٹرمپ کے اقدامات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ واران بفے نے سب سے پہلے اپنے اسٹاکس مارکیٹ میں فروخت کرکے اس کو ڈالرز میں بھی بدل لیا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے اپنی موجودہ فتح کو خدائی مدد سے تعبیر کرتے ہوئے خود سے یہ اخذ کیا ہے کہ وہ کچھ بھی کرنے کےلیے آزاد ہے اور عالمی المیہ یہ ہے کہ دنیا ڈالرز کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور کوئی بھی دوسرا مالیاتی نظام نہ تو اس کا متبادل ہے اور نہ ہی اس کے امکانات نظر آرہے ہیں۔ اب دنیا کوئی افسانوی ناول تو ہے نہیں کہ 250 صفحات میں سب کچھ بدل جائے لہٰذا لمحہ موجود میں یہ صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا ایک اور عالمی کساد بازاری کے در پر کھڑی ہے۔
ٹرمپ کی ٹیرف جنگ اب دنیا بھر کی معیشتوں پر اثر انداز ہوگی اور ظاہر ہے کہ ٹرمپ اس سے پیچھے تو ہٹے گا نہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکا کو بھی نقصان ہوگا جس کا سارا الزام ٹرمپ چین اور یورپ کے سر منڈھ دے گا۔ اپنے مڈ ٹرم الیکشن 2026 میں اس کے ہاتھ میں یہی ہتھیار ہوگا کہ میں دنیا کی معیشت کا ٹھیکیدار نہیں ہوں، میں امریکی معیشت کو ٹھیک کرنے آیا ہوں اور میں نے دنیا بھر کے ٹیرف اس لیے بڑھائے تھے کہ مقامی لوگ امریکی مصنوعات کو بطور متبادل لیں۔
اس سب تماشے میں سب سے زیادہ نقصان اسٹاک مارکیٹس اور رئیل اسٹیٹ کا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دنیا بھر میں مالیاتی مارکیٹس اس طرح کے جھٹکوں سے اتنی جلدی ریکور نہیں ہوتی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو پھر شاید دنیا دوبارہ سے 2008 جیسا بحران دیکھے کہ جب لے ہیمن برادرز نے اپنا ڈیفالٹ ڈکلئیر کیا تھا اور اس کے ساتھ مارٹگیج مارکیٹ ڈیفالٹ کی اور ساتھ ہی دنیا بھر کے بینکس اور مالیاتی نظام زمین بوس ہونا شروع ہوگیا۔ اس وقت اوباما تھا، ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ جن کے ہاتھ میں دنیا بھر کا مالیاتی نظام موجود ہے انہوں نے اوباما کو اس کی اوقات یاد دلانے کےلیے یہ حرکت کی تھی۔ خیر، دنیا بھر کی مارکیٹس کو اس جھٹکے سے نکلنے میں 3 سے 5 سال لگ گئے تھے۔ اب کیا ہوتا ہے، اس حوالے سے کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی۔
اس نقطے کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اثاثوں کی قدر میں کمی سے سب سے بڑا مسئلہ مارجن کالز اور لیکویڈٹی کا ہوتا ہے۔ امریکا میں پرائیوٹ ایکویٹی اور ہیج فنڈز اس مسائل سے پہلے سے ہی دوچار ہیں۔ اس وقت بٹ کوائن، کروڈ آئل کو بڑے نقصان کا سامنا ہے حتیٰ کہ رسک فری سمجھے جانے والے بانڈز پر دباؤ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ یہ صورتحال 2008 جیسی کریڈٹ کرنچ کو پیدا کر رہی ہے اور اگر صورتحال پر کسی بھی طرح قابو نہ پایا گیا تو کریڈٹ کرائسز جنم لے گا۔
پوری دنیا میں اس وقت صرف دبئی اس پوری صورتحال سے نمٹنے کےلیے بہتر طور پر تیار نظر آتا ہے۔ دبئی میں کریڈٹ ڈیفالٹ کے امکانات سب سے کم ہیں اور ڈیبٹ پیمنٹ کےلیے بھی سب سے بہترین اور منظم طریقہ کار مو جود ہے یعنی دبئی اکانومی کسی بھی قسم سے حالات سے نمٹنے کےلیے بہتر طور پر تیار نظر آتی ہے اور اس نے جو قرضے لیے ہوئے ہیں، اس کے پاس ان کی ادائیگی کا انتظام موجود ہے۔ دبئی میں مستحکم شرح سود بھی اس ضمن میں معاون ثابت ہوگی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ دبئی نے گزشتہ سال کے اواخر میں ہی سب کچھ سمجھ کر پالیسی بنا لی تھی اور اب سب کچھ اسٹریم لائن ہے، لہٰذا دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بالخصوص تیار پراپرٹی مارکیٹ پر اس کے اثرات بہت کم ہوں گے۔ مزید یہ بھی ہے کہ دبئی نے 2008 کے فنانشل کرائسز سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اپنا انحصار ایک دو کے بجائے اس کے دائرہ کار کو پھیلادیا ہے۔ لہٰذا اگر ایک سیکٹر پر ہٹ آتی ہے تو باقی ماندہ سیکٹرز مل کر اس کو بچائیں گے۔ لہٰذا بظاہر یہی لگتا ہے کہ دبئی اس وقت ٹرمپ کی ٹریڈ وار سے نکل جائے گا۔
اس پوری صورتحال میں اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ شاید دبئی اور پورا گلف مستقبل میں خود کو امریکی معیشت سے فاصلے پر کرلے۔ اس بات کے امکانات اگرچہ محدود ہیں، لیکن موجود ہیں۔ ایک ایسا ملک جس کی وجہ سے دنیا دو دہائیوں سے بھی کم عرصے میں دوبارہ سے گلوبل کرائسز کا سامنا کر رہی ہے اور اب کا گلوبل کرائسز قیادت کی ناسمجھی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے ہے، وہ کسی بھی طرح سے اچھا معاشی شراکت دار نہیں ہوسکتا۔
اس سب کے ساتھ ایک اہم نقطہ جو اہم معاشی سرکلز میں زیر بحث ہے وہ یہ کہ کیا یہ سب کچھ اچانک ہو رہا ہے؟ گلوبل مارکیٹس میں ہلچل اور راتوں رات کھربوں ڈالرز کا مارکیٹ سے نکل جانا، عالمی مالیاتی اداروں کا گرنا اور اس کے ساتھ موجود دیگر عوامل۔ نہیں! یہ نہ تو اتفاق ہیں اور نہ ہی حقیقی معلوم ہو رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اسٹیج سجایا گیا ہے۔ دوسری جانب عالمی کاروباری خبروں میں جو خوف کا عنصر شامل ہوا ہے جس کی وجہ سے فروخت کنندگان ایک دم بہت زیادہ اور خریدار کم ہیں، یہ بھی مصنوعی ہے۔
اب ذرا یہ دیکھیں کہ خریدار کون ہیں؟ وارن بفے نے چند ماہ قبل اپنے شیئرز لیکویڈیٹ کیے اور اس کی دیکھا دیکھی بہت سے مالیاتی اداروں نے ایسا کیا۔ وارن نے تقریباً 134 ارب کے شیئرز کو لیکویڈیٹ کرکے 334 ارب کا کیش پائل کھڑا کیا ہوا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے کہ بفے کچھ وقت کے بعد دوبارہ سے مارکیٹ میں انٹری کےلیے تیار ہورہا ہے۔ اب ایک جانب تیل کی قیمت کم ہو رہی تھی اور دوسری جانب سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مصنوعی طور پر ماس پینک پھیلایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ادارے مارکیٹ سے ایگزٹ لیں اور اہم شیئرز کی قیمتیں گرنا شروع ہو جائیں۔ ایسا شروع ہوچکا ہے۔
اب اگر بڑے فنڈز کچھ عرصے کے بعد شیئرز کو دوبارہ سستے داموں خریدنا شروع کرتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہ سب کچھ مصنوعی تھا اور امریکا کی ٹیرف وار کی آڑ میں گیم کھیل دی گئی ہے۔ اس کے قوی امکانات موجود ہیں۔ ایسا کرنے والے کون ہیں؟ وہی جو عالمی مالیاتی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جو شرح سود کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جو جنگوں اورعالمی وباؤں کو اسپانسر کرتے ہیں، جن کی ملکیت میں بڑے مالیاتی ادارے بھی ہیں اور جو میڈیا کے مالکان بھی ہیں۔ ان کا طریقہ واردات ہی انوکھا ہوتا ہے۔ یہ سب مل جل کر خاموشی سے چلتے ہیں اور جب دنیا جذباتی فیصلے لے رہی ہوتی ہے، یہ انہیں کیش کر رہے ہوتے ہیں۔ ذرا دیکھیں کہ بلیک راک اور وینگارڈ کیا کررہے ہیں۔ کیا اس سب کے بعد دنیا عالمی طور پر نئے ڈیجیٹل فنانشل سسٹم میں داخل ہورہی ہے؟ اس کے بھی قوی امکانات موجود ہیں۔
ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے؟ انگریزی کا مقولہ ہے کہ ڈر کو مت خریدیں۔ جذبات کے بجائے ہوش مندی سے کام لیں۔ ایک دم گھبرانے کی اور بھیڑ چال کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگرآپ شیئر بازار میں ہیں تو ڈمپنگ میں ضرور خریدیں۔ دوسری جانب ٹوکنائزڈ اثاثہ جات پر نظر رکھیں، انڈر ویلیو بلیو چپس اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر نظر رکھیں۔ اب ڈیجیٹل دور ہے، سب کی کارکردگی کے چارٹس آن لائن دستیاب ہیں۔ بس اتنا سا کیجیے، ڈر کر فیصلہ مت کیجیے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مالیاتی نظام دنیا بھر کے کے امکانات موجود ہیں محسوس ہو کرتے ہیں کی معیشت ہے کہ وہ ہوتا ہے ہیں اور شروع ہو کے ساتھ اور اس کے بعد رہا ہے ہے اور یہ بھی سب کچھ
پڑھیں:
امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ سے پاکستان کے لیے عالمی منڈی میں مواقع پیدا ہو رہے ہیں.پاکستان کے ٹیکسٹائل
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اپریل ۔2025 )پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کے سربراہ فواد انور نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ اور محصولات میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان کے لیے عالمی منڈی میں نئی تجارتی جگہ حاصل کرنے کا موقع پیدا ہو رہا ہے ‘پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر سالانہ تقریباً 17 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے اور یہ روزگار فراہم کرنے والا ملک کا سب سے بڑا شعبہ ہے.(جاری ہے)
فواد انور نے غیرملکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک موقع ہے کہ ہم چین سے کچھ کاروبار اپنی طرف منتقل کر سکیں لیکن ہم یہ کس حد تک کامیابی سے کر پاتے ہیں یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم مذاکرات کی میز پر کس حد تک موثر طریقے سے بیٹھتے ہیں. فواد انور نے یہ گفتگو اس وقت کی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درجنوں ممالک پر عائد بھاری محصولات کو 90 دنوں کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا تاہم چین کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا اگر بدھ کو ٹرمپ اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرتے تو پاکستان کو 29 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑتا وائٹ ہاﺅس کے مطابق امریکی درآمدات پر 10 فیصد عمومی ڈیوٹی بدستور نافذ رہے گی ٹرمپ نے بدھ کو چین کی درآمدات پر ٹیرف 104 فیصد سے بڑھا کر 125 فیصد کر دیا. اس سے قبل بیجنگ نے ٹرمپ کے ابتدائی اقدامات کے جواب میں امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا اور عہد کیا تھا کہ وہ یہ تجارتی جنگ آخری حد تک لڑے گا یہ سب دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے جوابی وار کی شکل اختیار کر چکا ہے فواد انور نے کہا کہ یہ دو دیو قامت طاقتوں کی جنگ ہے اور باقی سب اس کے ضمنی نقصانات ہیں ماہرین کے مطابق اگر29 فیصد ٹیرف کی شرح 90 دن بعد دوبارہ نافذ ہوتی ہے تو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو دو ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے. فواد انور کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کے لیے یہ محض ایک عارضی مسئلہ ہے جسے ہر صورت حل کرنا ہو گا فواد انور نے کہاکہ 29 فیصد کا یہ بوجھ نہ امریکی ریٹیلر اٹھا سکتا ہے، نہ صارف اتنی زیادہ شرح کوئی برداشت نہیں کر سکتا.