مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال سے عالمی امن کو شدید خطرہ ہو سکتا ہے: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
پاکستان نے اقوام متحدہ میں عسکری مصنوعی ذہانت کے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عسکری میدان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا استعمال نئے اسلحہ جاتی مقابلوں کا آغاز کر سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کمیشن کے مباحثے سے خطاب میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اے آئی کو اسلحہ کے کسی نئے مقابلے کے میدان میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ عسکری میدان میں اے آئی کا استعمال نئے اسلحہ جاتی مقابلوں کا آغاز کر سکتا ہے اور علاقائی و عالمی سلامتی کے ماحول کو عدم استحکام کا شکار بنا سکتا ہے۔پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے مزید کہا ہے کہ اس کے عالمی امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جوہری تخفیف اسلحہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
سوڈان خانہ جنگی عام شہریوں کے لیے تباہ کن نتائج کی حامل، یو این ادارے
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 11 اپریل 2025ء) اقوام متحدہ کے امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ دو سال سے خانہ جنگی کا شکار سوڈان میں قحط پھیل رہا ہے جہاں شہریوں کو بڑے پیمانے پر تشدد، بدسلوکی اور جنسی زیادتی کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے امدادی امور (اوچا) کے ترجمان جینز لائرکے نے کہا ہے کہ سوڈان میں لوگ بہت بڑے انسانی بحران کی لپیٹ میں ہیں اور فوری طور پر امن قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
دو تہائی آبادی یا تین کروڑ لوگوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے جبکہ دنیا بھر سمیت سوڈان کو بھی امدادی مقاصد کے لیے دیے جانے والے مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ Tweet URLملکی فوج اور اس کی مخالف ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری لڑائی میں ایک کروڑ 24 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جن میں 33 لاکھ نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔
(جاری ہے)
'جنسی زیادتی بطور جنگی ہتھیار''اوچا'، امدادی کارکنوں اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے متواتر خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ سوڈان میں 'او ایچ سی ایچ آر' کی نمائندہ لی فنگ کے مطابق، ایسے ہی ایک واقعے میں اپنے بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ان پر ظلم کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اب وہ ان کی ملکیت ہیں۔
اقوام متحدہ کے پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے ممکنہ قحط کا سامنا کرنے والے دو کروڑ 50 لاکھ لوگوں کے لیے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو بھوک کا غیرمعمولی بحران درپیش ہے۔
طبی سہولیات پر بڑھتے حملےاطلاعات کے مطابق 'آر ایس ایف' نے ڈارفر کے اہم علاقے ام کدادہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں طبی سہولیات اور عملے پر حملے بڑھ گئے ہیں۔
گزشتہ دو برس کے عرصہ میں ملک کے طول و عرض میں طبی سہولیات پر 156 مصدقہ حملے ہو چکے ہیں۔ ان میں 300 سے زیادہ لوگ ہلاک او ر270 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں مریض اور طبی کارکن دونوں شامل ہیں۔
امدادی وسائل کی قلتخواتین کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ویمن' نے بتایا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں 80 فیصد ہسپتال فعال نہیں رہے جس کے نتیجے میں زچگی کی اموات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو گیا ہے۔
'یو این ویمن' کی ڈائریکٹر صوفیا کالتورپ نے بتایا ہے کہ سوڈان میں 80 فیصد بے گھر خواتین کو صاف پانی تک رسائی نہیں ہے جس سے بدحال لوگوں پر امدادی وسائل میں کمی کے اثرات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' کی ترجمان اولگا ساراڈو نے کہا ہے کہ عطیہ دہندہ ممالک کی جانب سے امدادی وسائل میں بڑے پیمانے کمی کے باعث بہت سے ضروری امدادی پروگراموں کو خطرات لاحق ہیں۔
ان حالات میں امدادی ٹیموں کو مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں اور پناہ گزینوں کی بڑی تعداد اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے خطرناک اقدامات پر مجبور ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سوڈان میں امدادی وسائل کی کمی کے باعث کم از کم پانچ لاکھ بے گھر لوگوں کی صاف پانی تک رسائی ختم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اسہال اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔