حکومتِ پاکستان کا اضافی امریکی ٹیرف پراہم فیصلہ سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
حکومت پاکستان نے اضافی امریکی ٹیرف پر ٹرمپ انتظامیہ سے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا، بات چیت کا مقصد ٹیرف میں ممکنہ کمی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے پاکستانی مصنوعات پر ٹیرف عائد کئے جانے کا معاملے پر حکومت پاکستان نے امریکی حکومت کی نئی حکمت عملی پر کام کا آغاز کر دیا۔وزیرتجارت جام کمال خان کی زیرصدارت وزارت تجارت میں اہم اجلاس ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے 29 فیصد اضافی ٹیرف کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ذرائع نے کہا کہ 50 سے زائد بڑے برآمد اور درآمد کنندگان اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں امریکی ٹیرف کے پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات پر ممکنہ منفی اثرات کے سدباب کا جائزہ لیا، حکام نے بتایا کہ امریکاکیلئے پاکستانی برآمدات کا زیادہ ترحصہ ٹیکسٹائل پرمبنی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت اضافی امریکی ٹیرف پر ٹرمپ انتظامیہ سے بات کرے گی، :بات چیت کا مقصدٹیرف میں ممکنہ کمی کی راہ ہموارکرنا ہے۔
وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی سربراہی میں اسٹیرنگ کمیٹی مزید تجویز تیار کرے گی اور وزیراعظم کی جانب سے تشکیل کردہ گروپ بھی سفارشات مرتب کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ عائد کردہ محصولات سے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات پر کوئی خاص اثر انداز ہونے کی توقع نہیں ہے تاہم، وزارت تجارت کسی بھی ممکنہ منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے، وزارت نے اسٹیک ہولڈرز اور برآمد کنندگان سے امریکی ٹیرف سے درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تجاویز طلب کی ہیں۔
وزیر نے امریکی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی مسلسل رسائی کو یقینی بنانے کے لیے فعال اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کو بہتر بنایا جائے۔
.ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف
پڑھیں:
امریکا کی جانب سے ٹیرف نفاذ پر پاکستان کا ردعمل سامنے آگیا
امریکا کی جانب سے ٹیرف نفاذ پر پاکستان کا ردعمل سامنے آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 10 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: امریکہ کی جانب سے پاکستان پر ٹیرف کے نفاذ سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ ہم نے ٹیرف کے نفاذ کو نوٹ کیا ہے، اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں، وزیر اعظم نے اس بابت ایک کمیٹی بنائی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ٹیرف کا ترقی پذیر ممالک پر اثر ہو رہا ہے، ٹیرف والے معاملے کو حل کرنا چاہیے۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے افغان بہنوں بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، تاہم اپنی سرحدوں کو آزاد اور محفوظ بنانا ہماری پالیسی ہے۔
شفقت علی خان نے کہا کہ حکومت نے آئی ایف آر پی کا مرحلہ وار نفاذ کر رہی ہے، اس حوالے سے ہم تمام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں، ہم یہاں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی پر عملدرآمد کر رہے ہیں، یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ اپنی سرحد سے قانونی طور پر آمد کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ریگولیشن آف سرحد کا ہے، خارجہ پالیسی وفاق کا معاملہ ہے، صوبائی حکومت کے افغانستان سے مذاکرات کے ٹی او آرز کا معاملہ افغان ڈیسک سے چیک کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں بہت بڑا پاکستانی ڈائسپورا رہتا ہے، پاکستانی ویزوں پر مکمل پابندی نہیں ہے۔
امریکا کی جانب سے بگرام میں ایئر بیس قائم کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا افواہیں ہیں
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بگرام میں ائیر بیس قائم کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا افواہیں ہیں،تاہم یہ افغانستان اور امریکہ کی حکومتوں کا آپسی معاملہ ہے، برطانیہ سے پاکستان لاے جانے والے قیدی کی سماجی تقریبات میں شرکت کی اطلاعات کو دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تہور رانا پر ہمارا ریکارڈ کہتا ہے کہ انہوں نے گذشتہ دو برس سے پاکستانی شہریت کی تجدید نہیں کی، ایران ہمارا ایک اہم ہمسایہ اور قریبی دوست ہے، ہمارے تعلقات انتہائی اہم ہیں، جے سی پی او ایک پیچیدہ مسئلے کے حل کی عمدہ مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام مسائل کے بات چیت کے زریعہ حل کے خواہشمند ہیں، امریکہ ہماری ایک بڑی برآمدی منزل ہے، چین پاکستان کا تزویراتی اور قریبی شراکت دار ہے، چینی شہریوں کا تحفظ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 10-11 اپریل تک بیلاروس کا دورہ کرینگے، صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی دعوت پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف بیلاروس کا سرکاری دورہ کریں گے، وزیر اعظم کے ہمراہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی بیلاروس کا دورہ کرینگے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی وفد میں دیگر وزراء اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں، یہ دورہ نومبر 2024 میں صدر لوکاشینکو کے پاکستان کے اہم دورے کے بعد ہوا ہے، اپنے قیام کے دوران وزیراعظم باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے صدر لوکاشینکو سے بات چیت کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان پچھلے چھ مہینوں کے دوران، اعلیٰ سطحی دوطرفہ مصروفیات کا سلسلہ ہے، جس میں فروری 2025 میں مشترکہ وزارتی کمیشن کا 8 واں اجلاس اور اپریل 2025 میں ایک اعلیٰ طاقت والے مخلوط وزارتی وفد کا بیلاروس کا اس کے بعد کا دورہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ دونوں فریق تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے، وزیراعظم کا دورہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مضبوط اور جاری شراکت داری کو اجاگر کرتا ہے۔