افغانستان اسلحے کی بلیک مارکیٹ بن گیا، اقوام متحدہ کی چشم کشا رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
کابل/نیویارک: اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد سے اسلحے کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں اور یہ ہتھیار القاعدہ، فتنتہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروپوں تک پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان کے قبضے میں موجود امریکی ساختہ M4، M16 رائفلز اور دیگر خطرناک ہتھیار افغانستان میں ایک بلیک مارکیٹ کی صورت اختیار کر چکے ہیں جہاں سے انہیں واٹس ایپ گروپس اور دیگر غیر رسمی ذرائع سے فروخت کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی انکشاف کیا تھا کہ انخلاء کے وقت اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ افغانستان میں چھوڑا گیا تھا، جو اب طالبان کے زیر تسلط ہے۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان بگرام ایئربیس جیسے اہم مقامات پر امریکی ہتھیاروں کی تربیت دے کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس سے دنیا بھر میں دہشتگردی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ طالبان کی اسلحے تک رسائی اور اس کی فروخت عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس پر عالمی اداروں کو فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
افغانستان اب دہشتگردوں کا اسلحہ مرکز بن چکا ہے، جہاں سے ہتھیار نہ صرف اندرونی خلفشار بلکہ ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فلسطین پر محض تماشائی بنے ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے، پاکستان
اسرائیلی بمباری سے فلسطینی عوام کو بھوک ، نقل مکانی کی اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
ہم اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت کے خاتمے کا حصہ نہیں بنیں گے ، سلامتی کونسل سے خطاب
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو ریلیف نہ دے پانا سلامتی کونسل پر سوالیہ نشان ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی بم باری کی وجہ سے فلسطینی عوام کو بھوک اور نقل مکانی کی اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔الجزائر کی جانب سے پاکستان، چین، روس اور صومالیہ کی حمایت سے غزہ میں اجتماعی قبر سے امدادی کارکنوں کی 15 لاشوں کی دریافت پر بلائے گئے اجلاس میں عاصم افتخار نے کا کہ ہم اس ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو فلسطین کی موجودہ صورتِ حال پر محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے ۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت کے خاتمے کا حصہ نہیں بنیں گے ۔اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مسقتل مندوب نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی معاہدے ، بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور جنیوا کنونشن سمیت تمام مہذب طرزِ عمل کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔