نفرت،گالی نہیں‘ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں: دانیال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپور ٹرسے) پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا ہے کہ اڑان پاکستان پروگرام سے قومی معیشت کو ترقی دیں گے۔ نفرت،گالی گلوچ اور جلائو گھیرائو کی سیاست پر نہیں بلکہ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ خیبر پی کے حکومت کی کرپشن کی نئی نئی داستانیں سامنے آ رہی ہیں، باچا خان یونیورسٹی میں بوگس بورڈ بنایا گیا، سینکڑوں غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔ خیبر پی کے میں بلین سونامی ٹری کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی، ہماری حکومت ای گورننس اور ڈیجیٹلائزیشن، عوام کو ریلیف دینے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تمام سرکاری ٹھیکے ای پورٹل پر منتقل کر دیئے گئے، کسانوں کو سستے ٹریکٹر اور نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کئے، دوسری جانب ایک صوبائی حکومت اپنے نوجوان طبقہ کو جلائو گھیرائو سکھا رہی ہے۔ حکومت نے دن رات محنت کر کے بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا ہے، معاشی استحکام سے غیر ملکی سرمایہ کاری، کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ ان خیالات کا انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز دن رات کوشاں ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر جو ختم ہو رہے تھے وہ بہتر ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب معصوم شہریوں اور تارکین وطن کو سول نافرمانی پر اکسایا جاتا رہا۔ بجلی کی قیمت میں جو ریلیف دیا گیا ہے وہ معاشی استحکام کی علامت ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
افغانستان سے مذاکرات صوبائی نہیں، ریاستی سطح پر ہونے چاہئیں، شاہد خاقان عباسی
ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت افغانستان سے بات کرے تو وزن کم ہو جاتا ہے، ملک کے داخلی معاملات کا حل صرف سیاست ہے، اپوزیشن اس وقت کوئی تحریک نہیں چلا رہی۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان سے براہ راست مذاکرات صوبائی نہیں، ریاستی سطح پر ہونے چاہئیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت افغانستان سے بات کرے تو وزن کم ہو جاتا ہے، ملک کے داخلی معاملات کا حل صرف سیاست ہے، اپوزیشن اس وقت کوئی تحریک نہیں چلا رہی۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغان مہاجرین کا معاملہ انسانی زاویے سے دیکھنا ہوگا، پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے، افغان مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آنا چاہیے، سیاست میں نفاق ہمارے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی سستی ہونا حکومتی کارکردگی نہیں، پیٹرول کی قیمتوں سے جڑا معاملہ ہے، حکومت بجلی کے مسئلے کا مستقل حل بتائے، بلوچستان کا مسئلہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، صرف ایک قبیلہ نہیں۔