کوئی فیصلہ اپوزیشن کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا، پی ڈی ایم آج بھی قائم ہے: فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
تونسہ (نوائے وقت رپورٹ) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہماری پسماندگی کا غلط استعمال اور غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔ تونسہ میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے بعد یہاں میں اجتماع سے مخاطب ہوں، ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ ہماری غربت کو جاگیر دار استعمال کر رہا ہے۔ اس خطے میں وہ آواز موجود ہے جس کو جے یوآئی کی آواز کہا جاتا ہے۔ غلامی سے بغاوت ہماری پہچان ہے، دوسرے ممالک سے آزادی کی بھیک نہیں مانگی جا سکتی۔ سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ ہماری پسماندگی کا غلط استعمال ہو رہا ہے، ہماری غربت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔ حکمران غربت کو کمزوری سمجھتے ہوئے غلط استعمال کر رہے ہیں۔ مظالم کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، اسلامی ممالک میں آگ بھڑک رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مغرب کی تہذیب کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہمیں امریکا اور مغرب کی غلامی کرنے کا کہا جاتا ہے، ہم تہذیب، روایات مغرب، یورپ اور امریکا سے مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فساد کی جڑ تم ہو، ہم نہیں ہیں، افغانستان، شام اور عرب دنیا میں آگ جل رہی ہے اور اس میں جل بھی میں رہا ہوں۔ انسانیت کیلئے خطرہ بھی میں ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا، فلسطین میں اسرائیلی جبر سے60 ہزار مسلمان بمباری میں شہید ہوئے، غزہ میں بزرگ، خواتین اور بچے شہید ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ77سالوں میں ہمارے ملک یہ بحث ختم نہیں ہو رہی تھی کہ سود کو کیسے ختم کیا جائے؟ یکم جنوری2028ء سے پاکستان میں سود مکمل ختم ہو جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ مکاتب فکر اور علماء کو دعوت دیتے ہیں قوم کے سامنے متفقہ لائحہ عمل لائیں۔ ایک ہفتے میں اسلام آباد میں قومی سطح کا کنونشن بلایا جائے، 26ویں آئینی ترمیم میں ہماری تجویز تھی ایک آئینی عدالت قائم ہو، تجویز تھی کہ آئینی عدالت سیاسی مقدمات کے فیصلے کرے، ہم نے ایک فیصلہ بھی اپوزیشن جماعتوں کے مشورے کے بغیر نہیں کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کا صدر میں تھا، وہ اتحاد اب تک نہیں ٹوٹا۔ اس کا سربراہ اپوزیشن میں ہے اور باقی حکومت کا حصہ ہیں۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان کہنا تھا کہ غربت کو نے کہا رہا ہے
پڑھیں:
اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ، شاہد خاقان عباسی
ڈی آئی خان(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے ملک کو درپیش بحرانوں کے خاتمے کے لیے قومی سوچ اور سیاسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ہے بلکہ ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت خیبرپختونخوا حکومت کا اختیار نہیں بلکہ یہ ریاستی سطح کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات ہمیشہ ریاست کی سطح پر طے پاتے ہیں، صوبائی حکومت کی براہ راست مداخلت سے مسئلے کے حل کے بجائے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی بحرانوں کا شکار ہے، ان مسائل کا واحد حل جمہوری عمل اور سیاسی استحکام میں پوشیدہ ہے۔
امریکی ٹیرف عائد ہونے پر پاکستان کی حکمت عملی تیار
انہوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن کسی احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بن رہی ہے بلکہ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں حکومت کی طرح اپوزیشن بھی منقسم رہی ہے، متحدہ اپوزیشن کے بغیر کوئی مؤثر سیاسی تحریک ممکن نہیں ہے، اس مقصد کے لیے مختلف جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اختلافات ختم کر کے اجتماعی سوچ پیدا کی جا سکتی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں حالیہ کمی حکومت کی کسی کارکردگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔
لاہور میں جھگڑے کے دوران صلح کرانے والا شخص ہی قتل کر دیا گیا
مزید :