گورننس میں بہتری اور کرپشن کا خاتمہ، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کل شروع ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
مشن کا مقصد 6بنیادی ریاستی افعال میں گورننس، بدعنوانی کے خطرات کا ابتدائی جائزہ لینا ہے
وفد پاکستان میں 30محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بھی مذاکرات کرے گا
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کل(پیر)سے شروع ہوں گے ۔ آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں 30محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کرے گا علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے تخمینہ جات کے حوالے سے بھی امور کا جائزہ لے گا۔وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے 2 ماہ میں پاکستان میں گورننس میں بہتری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے دوسرا وفد پاکستان بھجوایا ہے ، جو گورننس، بدعنوانی کے تشخیصی جائزے کی تیاری کے لیے ابتدائی کام مکمل کرے گا۔مشن کا مقصد 6 بنیادی ریاستی افعال میں گورننس، بدعنوانی کے خطرات کا ابتدائی جائزہ لینا ہے ، جن میں مالیاتی شعبے کی نگرانی، مارکیٹ ضوابط، قانون کی حکمرانی اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن تقریباً 30 محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کرے گا۔وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، منصوبہ بندی کمیشن، نجکاری کمیشن، آڈیٹر جنرل، نیب، ایف آئی اے ، اوگرا و دیگر حکام سے بھی مذاکرات ہوں گے ۔آئی ایم ایف کا وفد بینکنگ سیکٹر اور کنسٹرکشن کے شعبے میں مسابقت کا بھی جائزہ لے گا۔
.ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی
کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی کابینہ نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دے دی۔حکومت نے سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت مکمل کر لی ہے، اب سرکاری آئی پی پیز کی درخواست نیپرا میں آئے گی۔ذرائع پاور ڈویژن نے بتایا ہے کہ مزید 21 سے زائد سرکاری آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے، مذاکرات سے 34 ارب روپے کی بچت ہوگی،
ان مذاکرات کے نتیجے میں فی یونٹ 27 پیسے بجلی کی بنیادی قیمتوں میں کمی آئے گی۔پاور ڈویژن کے اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر بتایا ہے کہ آئی پی پیز 21 ہزار میگاواٹ سے زائد کیپسٹی کے حامل ہے اور ان میں نیوکلیئر پاور پلانٹس سمیت آر ایل این جی، گیس، ہائیڈل، کوئلے، فرنس آئل اور سولر پاور پلانٹس شامل ہیں۔