Express News:
2025-04-06@16:57:57 GMT

شُکرکیجیے

اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT

 شُکر ایک چھوٹا لفظ ہے مگر اس کی تاثیر عمدہ اور باکمال ہے، شُکر کی خاصیت ہے کہ وہ جس شے اور احساس کے تشکر میں ادا کیا جائے اُس میں اضافہ یقینی ہے۔ شُکر کے متعلق لوحِ قرآنی میں رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں ’’ اور جب کہ تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ اگر تم شُکر ادا کروگے تو یقیناً میں تمہیں اور دوں گا اور اگر ناشُکری کرو گے تو پھر یاد رکھنا میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔‘‘ کتابِ مقدس میں ایک اور مقام پر شُکرکی مناسبت سے فرمانِ خداوندی ہے ’’ (تم) مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور ناشکری نہ کرو۔‘‘ 
جس بات کا وعدہ ربِ کائنات کررہا ہو، اُس میں شک کی سرا سرکوئی گنجائش نہیں نکلتی ہے، میرا ذاتی تجربہ ہے شُکر زندگی میں نعمتوں کی تعداد بڑھا کر سکون کا پیامبر ثابت ہوتا ہے۔ موجودہ وقتوں میں پوری دنیا ان گنت مسائل کا شکار ہے، چاروں جانب مہنگائی کا جِن بوتل سے باہر نکال کر دندناتا پھر رہا ہے، بے روزگاری کی دیمک ملکوں کی معیشتوں کو کھوکھلا کرنے میں مصروف ہے، جنگ و جدل، دہشت گردی اور مخصوص اقوام کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن نتائج نے کرہ ارض کی خوشحالی پرکاری ضرب لگا دی ہے۔

ہم اگر صرف پاکستان کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیں تو ملک کا تقریباً ہر ادارہ اور شعبہ ترقی کی جانب کچھوے کی چال چلتا دکھائی دے گا، حالات روز بہ روز بڑھتی تنزلی کا شکار ہیں۔موجودہ پاکستان میں انسانوں سے لے کر جانوروں تک کا تحفظ ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے، جدھر نظر ڈالیں اپنے حال سے بے حال افراد خود کی پھوٹی قسمت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں، جن کی زندگیوں میں خوشیاں ناپید ہیں اور سکون ایک سہانا خواب معلوم ہوتا ہے۔ ہر بدلتی تاریخ کے ساتھ دنیا میں نت نئی خوفناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں جوکہ انسانی جسم کو تیزی سے نقصان پہنچانے میں پہلے سے موجود خطرناک امراض سے چار ہاتھ آگے ہیں۔ دنیا میں جہاں ہر طرف پریشانیوں اور مصیبتوں کے ڈیرے ہیں وہاں اگر زندگی اپنی تمام تر رمق کے ساتھ آپ کے آنگن میں براجمان ہے تو آپ پر اپنے رب کے حضور سجدہ شُکر ادا کرنا اور اپنے ہر عمل اور جسم کے روم روم سے اظہارِ تشکر فرض ہے۔

عام طور پر لوگوں کی پوری عمر نکل جاتی ہے ایک پُر مسرت زندگی کے حصول کا خواب پورا کرنے میں۔ کبھی کبھی تکلیفوں کی چکی میں پِس پِس کر انسان ختم ہو جاتا ہے مگر اُس کے خواب حقیقت نہیں بن پاتے ہیں۔ لمحہ حال میں جو افراد سر پر چھت کے ساتھ تحفظ کی چار دیواری میں رہائش پذیر ہیں، خوشنما لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں اور پیٹ میں تین وقت کی تازہ خوراک بلاناغہ جارہی ہے، سونے کے لیے آرام دہ بستر کی سہولت میسر ہے، صحت بیماریوں سے پاک تسلی بخش حالت میں موجود ہے اور سب سے بڑھ کر اُن کو زندگی چین اور سکون کے گیت سُنا رہی ہے مگر پھر بھی اُن کے قلب جذبہ شُکر سے عاری ہیں تو وہ بہت بڑے ناشُکرے ہیں۔اس سے بڑھ کر کفرانِ نعمت کا ارتکاب اورکیا گردانا جائے گا کہ خدا کے خاص کرم کے زیرِ سایہ ہوتے ہوئے بھی وہ عرش والے کی عنایتوں کا مزہ لینے کے بجائے فرش پر کنکر تلاشنے میں مگن ہیں۔

ہم اپنے اطراف میں کئی ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے پاس سب کچھ موجود ہوتا ہے مگر وہ پھر بھی بے چینی کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔ اس کے برعکس بہت سے افراد اپنے پاس کچھ نہ ہونے کے باوجود سکون اور اطمینان سے مالا مال دکھائی دیتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ احساسِ شُکر اور توکل من اللہ ہے۔ رب العزت کو اپنے بندوں کی تھوڑے کو زیادہ سمجھنے اور ہر حال میں خوش رہنے والی ادا سب سے زیادہ بھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے پاک کلام’’ قرآن مجید‘‘ میں خدا تعالیٰ نے انسانوں کو کئی مقامات پر شُکر گزاری کے فوائد بتلا کر ناشُکری کی سزا سے آگاہ کیا ہے۔

نجانے کیوں زمین کے اِس خطے جہاں سے ہمارا تعلق ہے وہاں بیشمار مثبت احساسات کے ساتھ ساتھ تشکر کا احساس بھی خاتمے کے دہانے پر آکھڑا ہے۔ ہم انسان مجموعی طور احسان فراموش بن چکے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اپنے اردگرد موجود لوگوں سے حمایت اور مہربانی حاصل کرنا اپنا حق تصور کرنے لگے ہیں مگر جب بات شُکر ادا کرنے کی آتی ہے تو بخل سے کام لیتے ہیں۔ ایک پرُسکون جیون تک رسائی صرف اور صرف شُکر کے راستے سے گزر کر ممکن ہے، میری مانیں آپ ابھی اور اسی وقت اُس راہ پر چلنے کا عزم کرلیں، ربِ کائنات کے کرشمات سے مزین سہانا سفر آپ کے پہلے قدم کا بے صبری سے منتظر ہے۔ 

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عیدالفطر اورگردشی زرکی رفتار

ملک بھر سے موصولہ اطلاعات، رپورٹوں، جائزوں سے یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ عیدالفطر 2025 کو انتہائی جوش و خروش، روایتی انداز میں، مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کے لیے پاکستانی عوام نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بازاروں، مارکیٹوں، شاپنگ پلازوں اور دیگرکاروباری مراکز میں عید کی خریداری کے سلسلے میں بے پناہ رش دیکھا گیا۔

عوام کا جم غفیر تھا، جوکہ اپنے لیے من پسند کپڑوں، گارمنٹس، جوتے،گھڑیاں، رومال، ٹوپیاں، خواتین اپنے من پسند لباس، ڈوپٹے، حجاب، چوڑیاں، سینڈل، مصنوعی زیورات، مہندی اور بہت سی اشیا کی خریداری میں مصروف تھیں۔گھروں میں مہمانوں کی خاطر تواضح کی خاطر بڑے پیمانے پر مٹھائیوں کی خریداری ہوئی۔ صدر کراچی کے ایک مٹھائی فروش کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ گزشتہ سالوں کی نسبت دگنی مٹھائی فروخت ہوئی۔

بعض دکانداروں نے رعایتی سیل بھی لگا رکھی تھی جس سے عوام نے خوب فائدہ اٹھایا۔کچھ دکاندار ایسے بھی تھے جنھوں نے نہایت ہی کم قیمت پر ریڈی میڈ گارمنٹس، شلوار قمیض فروخت کے لیے پیش کر رکھے تھے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ غریب افراد بھی اپنے لیے خریداری کرسکیں، جب کہ بعض افراد نے اس موقعے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ البتہ ایسے بھی دکاندار تھے جنھوں نے اپنی اشیا کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی نسبت 50 سے 60 فی صد زائد اضافہ وصول کیا۔

اسلام نے عیدالفطر کو معاشی اور مالی عبادت کے ساتھ جوڑا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسا حکم دیا گیا کہ عید الفطر کی نماز سے قبل فطرانہ کی رقم غریبوں، مستحق افراد، ضرورت مندوں میں تقسیم کر دی جائے اس کے علاوہ رمضان المبارک میں زکوٰۃ، خیرات، صدقہ کی ادائیگی میں زور شور پیدا ہو جاتا ہے۔ یوں تو سارا سال زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں لیکن عوام الناس کی ایک بہت بڑی اکثریت اس ماہ مقدس میں زکوٰۃ، صدقہ، خیرات کرتی نظر آتی ہے اور یوں ماہ رمضان المبارک میں یہاں تک کہ نماز عیدالفطر سے قبل تک مالیاتی اعتبار سے فطری نمو، دولت کی ریل پیل کے باعث معاشی نمو میں بابرکت اضافہ اور گردش زر کی رفتار تیز سے تیز تر ہو کر معیشت کو جمود سے نکال باہر کرتی ہے۔

پاکستان میں فطرانے کی رقم فی کس 220 سے 240 روپے اور دیگر اشیا کے مطابق اس میں مزید اضافہ کرکے فطرانے کی رقم ادا کی جاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق عموماً بعض غریب افراد کی بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طرح فطرے کی رقم ادا کر دیں۔ یوں کہا جاتا ہے کہ آبادی کے 60 تا 80 فی صد افراد فطرے کی ادائیگی کرتے ہیں۔

ہم اسے احتیاطاً 70 فی صد آبادی سمجھ لیتے ہیں جس کے باعث اندازہ ہے کہ تقریباً 60 ارب سے 80 ارب روپے بطور فطرانہ ادا کیا گیا ہوگا۔ ظاہر سی بات ہے یہ رقم جب مستحقین تک پہنچی ہوگی تو وہ سارا کا سارا خرچ ہو گیا ہوگا۔ کیونکہ اس سے قبل وہ اپنی ضروریات پر خرچ نہ کر سکے اور اب جب ان کی جیب میں کچھ پیسے آگئے ہیں تو وہ رقم گردش زر میں تیزی لے کر آتی ہے۔پاکستان کا شمار ان اسلامی ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہر سال مجموعی طور پر کھربوں روپے کئی اقسام کے مذہبی اور دینی اسلامی فرائض اور جوش و جذبے کے تحت غربا، مساکین، مستحقین، ضرورت مند اقربا، یتیموں، بیواؤں، معذور افراد، بوڑھے افراد، مالی طور پرکمزور خاندانوں اور دیگر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

جہاں تک زکوٰۃ کی کل مجموعی رقم کی ادائیگی کا تعلق ہے اس بارے میں اندازہ لگانا بھی نہیں چاہیے، کیونکہ اس کی مقدار کا قطعاً کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ سرکار بینکوں کے ذریعے جو رقم اکٹھی کرتی ہے اس کی مقدار انتہائی قلیل ہے کیونکہ عوام کا اس سلسلے میں زکوٰۃ کی تقسیم کے بارے میں حکومتی نظام پر اعتبار نہیں ہے، لہٰذا لوگ اپنے طور پر زکوٰۃ دیتے ہیں۔ صدقات خیرات کرتے ہیں، راشن بیگز تقسیم کرتے ہیں۔ ایک راشن بیگ میں 5 سے 8 یا 10 ہزار روپے تک بھی اشیا ہوتی ہیں۔

ایسے ملک بھر میں لاکھوں پیکٹ اور بوریوں کی شکل میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ پھر کپڑے بھی تقسیم ہوتے ہیں ان میں سلے اور ان سلے بھی ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نقد رقم تقسیم کی جاتی ہے، اس میں ہر مستحق اپنے طور پر اپنے زیورات اور دیگر آمدن جمع پونجی اور بہت سی باتوں کا خیال کرکے زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے اور اس ماہ مقدس میں صدقات، خیرات بھی کرتا ہے۔ یہ مجموعی رقم مل کر ملک کے غریب عوام کی جیب میں جب چلی جاتی ہے تو اس کی خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں اور وہ یہ رقم جب خرچ کرتا ہے تو زر کی گردش تیزی سے بڑھ جاتی ہے اور امیر کے ساتھ ساتھ غریب کی بھی عید کی خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چین کا امریکی ٹیرف کے خلاف اپنے ترقیاتی مفادات کا ہر صورت تحفظ کرنے کااعلان
  • ’’ ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ‘‘ (حصہ اول)
  • انٹارکٹیکا کے مہنگے دورے پر ایرانی صدر نے اپنے نائب کو برطرف کر دیا
  • وقت آگیا ہے ٹرمپ اپنے غلط اقدامات کو روک لیں، چین
  • آئیں مل کر اپنی آوازیں تلاش کرتے ہیں!
  • عیدالفطر اورگردشی زرکی رفتار
  • دادو: ایس ایچ او نے اپنے ہی تھانے کی اے ایس آئی سے شادی کرلی
  • اپنے مادی جسم سے باہر پرواز کا تجربہ
  • محسن اعظم ﷺ کا خُلق عظیم