Express News:
2025-04-06@15:38:14 GMT

ڈارک سائیکالوجی

اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT

 انسان کی منفی سوچ ایک ایسی حالت ہے جو نہ صرف فرد کی ذہنی و جذباتی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے رویے، فیصلوں اور تعلقات پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے، جب انسان بار بار منفی پہلوؤں پر غور کرتا ہے، تو وہ مایوسی، خوف، حسد اور غصے جیسے جذبات کا شکار ہو جاتا ہے۔

ایسی سوچ انسان کو خود اعتمادی سے محروم کر کے زندگی کی خوبصورتی کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ ذہنی بیماریوں، جیسے ڈپریشن اور اینگزائٹی میں اضافہ ہوا ہے۔علم نفسیات کے موضوعات میں ایک اہم موضوع ڈارک سائیکالوجی ہے، جو انسانی ذہن کی ان نفسیاتی تکنیکوں کا مطالعہ کرتی ہے، جنھیں دوسرے افراد پر اثر انداز ہونے، قابو پانے یا ان کے خیالات، احساسات اور رویے کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ اصطلاح عام طور پر ان منفی یا اخلاقی لحاظ سے قابل اعتراض طریقوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو جذباتی، ذہنی یا سماجی استحصال پر مبنی ہوتے ہیں۔ڈارک نفسیات میں کئی نفسیاتی رویے شامل ہوتے ہیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:

ماہرانہ طور پر قائل کرنا (Manipulation) دوسروں کو اپنے مفاد میں قابو پانے یا ان سے کوئی مخصوص کام کروانے کے لیے چالاکی اور نفسیاتی حربے استعمال کرنا۔نفسیاتی استحصال کسی کی کمزوریوں، خوف یا احساسات کو اس کے خلاف استعمال کرنا ہے۔

اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی جذباتی کمزوریوں کو پہچانیں اور دوسروں کی باتوں پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ جو لوگ آپ کے جذبات، ہمدردی یا ندامت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اُن کی چالاکیوں کو سمجھنا اور بروقت ردِعمل دینا بہت اہم ہے۔ ہمیشہ اپنے فیصلے خود سوچ سمجھ کر کریں اور اگر کوئی آپ پر دباؤ ڈالے یا بار بار آپ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے تو صاف الفاظ میں اپنی حدود کا اظہار کریں۔

خود اعتمادی، تنقیدی سوچ اور واضح گفتگو آپ کو ان منفی رویوں سے بچا سکتی ہے۔نفسیاتی استحصال ایک ایسا خاموش ظلم ہے جو انسانی ذہن و دل پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے۔ یہ استحصال محض جسمانی نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی دباؤ کی صورت میں ہوتا ہے، جس میں ایک شخص دوسرے کی خود اعتمادی، توقیر ذات اور ذہنی سکون کو مجروح کرتا ہے۔

استحصال کرنے والا اکثر الفاظ، رویوں یا خاموشی کے ذریعے دوسرے کو کنٹرول کرنے، شرمندہ کرنے یا کمتر محسوس کروانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے یا رہنے والے افراد اکثر خود کو بے بس، تنہا اور بے وقعت محسوس کرتے ہیں۔نارسیسزم (خود پسندی) ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان حد سے زیادہ خود کو اہم، برتر اور قابل ِ پرستش سمجھنے لگتا ہے۔

نارسیسٹ افراد اپنی ذات کے سحر میں گرفتار ہوتے ہیں اور دوسروں کے احساسات، خیالات یا ضروریات کو کم اہمیت دیتے ہیں۔ وہ تعریف کے طلبگار، تنقید سے چڑنے والے اور اکثر جھوٹی برتری کے خول میں چھپے ہوتے ہیں۔ بظاہر پُر اعتماد نظر آنے والے یہ لوگ دراصل اندر سے عدمِ تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے تعلقات سطحی ہوتے ہیں، کیونکہ وہ دوسروں کو محض اپنی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نارسیسزم نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے اردگرد کے لوگوں کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ ایسے رویوں کو سمجھنا اور ان کے اثرات سے خود کو بچانا بہت ضروری ہے، خاص طور پر قریبی رشتوں میں یہ رویے عام ہوتے ہیں جو گھر اور خاندان میں نفاق ڈال دیتے ہیں۔سائیکو پیتھی بھی سیاہ نفسیات کا اہم حصہ ہے۔ ایسے لوگ ہمدردی سے محروم ہوتے ہیں، دوسروں کے درد کو محسوس نہیں کرتے اور جھوٹ بولنے یا دھوکا دینے میں کسی قسم کی ندامت محسوس نہیں کرتے۔

سائیکوپیتھی کا شکار افراد بظاہر خوش اخلاق، دلکش اور ذہین لگ سکتے ہیں، لیکن ان کے اندرونی رویے میں خودغرضی، جارحیت اور بیرحمی چھپی ہوتی ہے۔ وہ اکثر سماجی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق، سائیکوپیتھی کا تعلق جینیاتی، ماحولیاتی اور دماغی ساخت سے ہوتا ہے۔ اس بیماری کا بروقت علاج اور نفسیاتی رہنمائی ضروری ہوتی ہے تاکہ مریض معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔

اس کے علاوہ تاریک نفسیات کا ایک اور موثر حربہ گیس لائٹنگ ہے۔ یہ ایک مؤثر نفسیاتی حربہ ہے جس میں کوئی شخص دوسروں کو بار بار جھوٹ بول کر یا حقیقت کو مسخ کر کے ان کی یادداشت، ادراک پر شک کرواتا ہے۔ اس عمل کا مقصد کسی کو اس کے ذہنی توازن پر شک میں مبتلا کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی بات یا احساسات پر بھروسا نہ کر سکے۔ یہ رویہ اکثر قریبی رشتوں، جیسے کہ ازدواجی تعلقات، دوستی، یا کام کی جگہوں پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گیس لائٹنگ کا شکار فرد دھیرے دھیرے خود پر اعتماد کھو دیتا ہے، الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور اپنی شخصیت کو کمزور محسوس کرنے لگتا ہے۔

یہ ایک طرح کا جذباتی اور ذہنی استحصال ہے، جسے پہچان کر اس سے بچنا اور مناسب مدد حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ سیاست میں ڈارک سائیکالوجی کا اطلاق عوام کو ایک خاص بیانیے پر قائل کرنے کے لیے جذباتی کرنا یا غلط معلومات کا استعمال کرتے ہوئے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں۔عوامی جذبات کو خوف، نفرت، یا حب الوطنی کے جذبات کے ذریعے ابھارتے ہوئے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔

مخالفین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے گیس لائٹنگ، بہتان تراشی، اور دیگر نفسیاتی حربے شامل ہیں۔کاروباری دنیا میں ڈارک نفسیات مارکیٹنگ اور اشتہارات کے ذریعے صارفین کی نفسیات کا استحصال کر کے انھیں غیر ضروری مصنوعات خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔ کارپوریٹ سیاست کے وسیلے دفتر کے ماحول میں دھوکا دہی، افواہیں پھیلانے یا دوسروں کی محنت کا کریڈٹ لینے جیسی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں جو ہماری سماجی اور سیاسی ماحول کا حصہ ہیں۔ذاتی اور سماجی تعلقات میں ڈارک نفسیات میں زہریلے تعلقات (Toxic Relationships) کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی شخص کو جذباتی طور پر کنٹرول کرنے اور اسے احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دوستی اور سوشل نیٹ ورکس میں اثر و رسوخ کا طریقہ آج کل عام ہے۔ گروہی دباؤ، بلیک میلنگ، یا کسی شخص کو تنہائی میں ڈال کر اسے قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ڈارک نفسیات کے منفی اثرات افراد اور معاشرے پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔ تاہم، ان سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

نفسیاتی آگاہی کے توسط سے لوگوں کو تعلیم دی جائے کہ وہ ان حربوں کو پہچان سکیں۔اعتماد اور خود آگہی کے ذریعے اپنی ذہنی طاقت اور جذباتی استحکام کو بڑھایا جائے تاکہ دوسروں کے قابو میں نہ آیا جائے۔حقیقت پسندی اور تنقیدی سوچ بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ 
 

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

انسٹاگرام کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام صارفین کا ایک ہردلعزیز فیچر ختم کرنے کا منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

’کانٹینٹ نوٹس‘ نامی یہ فیچرصارفین کو اپنی پوسٹ پر ایک نوٹ شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے جو صرف ان کے فالوورز دیکھ سکتے ہیں۔

انسٹاگرام کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے پوسٹ یا ریل پر نوٹ چھوڑنے کی صلاحیت کو ختم کرنا شروع کر دیا ہے اور لوگ آنے والے ہفتوں میں پوسٹس پر انہیں نہ دیکھ سکیں گے اور نہ ہی شیئر کر پائیں گے۔

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری نے 26 مارچ کو ایک انسٹاگرام ریل میں اس تبدیلی کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے چند مہینے پہلے کانٹینٹ نوٹس متعارف کرائے تھے تاکہ انسٹاگرام کو مزید سماجی اور مزید دلچسپ بنایا جا سکے لیکن حقیقت میں زیادہ تر لوگوں نے اس فیچر کو اپنانا نہیں چاہا۔

موسری نے مزید کہا کہ انسٹاگرام وقت کے ساتھ 'زیادہ پیچیدہ' ہو گیا ہے، اور وہ اس چیز کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے فیچرز کو بند کیا جائے جو زیادہ استعمال نہیں ہوتے۔ لیکن کچھ انسٹاگرام صارفین کانٹینٹ نوٹس کے ختم ہونے پر افسردہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے 2 پولیس افسران کیلیے بین الاقوامی اعزاز
  • انسٹاگرام کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ
  • طوطے کے بعد کوا بھی انسانوں کی طرح بولنے لگا، ویڈیو وائرل
  • بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا فیصلہ
  • بیڈ کے نیچے ’جِن‘ ہے، چھوٹے بچے کا خوف حقیقت نکلا
  • اپنے مادی جسم سے باہر پرواز کا تجربہ
  • بانی سے ملاقات کرنے نہیں دی جارہی، عمر ایوب
  • سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنا آپکی ذہنی صحت کیلئے تباہ کن، مگر کیسے ؟ جانیں
  • معروف ماہرِ نفسیات پروفیسر سید ہارون احمد انتقال کر گئے