غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں فلسطینی امدادی کارکنوں کو موقع پر ہی مار ڈالنے کے بارے قابض اسرائیلی فوج کے متضاد بیانات اور سفید جھوٹ نے غاصب صیہونی رژیم کے عبری میڈیا کو بھی بولنے پر مجبور کر دیا ہے اسلام ٹائمز۔ غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں واقع شہر رفح میں 15 فلسطینی امدادی کارکنوں کو اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنانے اور انہیں اجتماعی قبر میں دفن کر دینے کے قابض و سفاک صیہونی فوج کے اقدام سے متعلق غاصب اسرائیلی فوج کے دھوکے دہی و سفید جھوٹ پر مبنی بیان نے غاصب اسرائیلی رژیم کے عبرانی زبان کے صیہونی میڈیا کو بھی بولنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس حوالے سے عبری زبان کے صیہونی ای مجلے واللا کے رپورٹر و تجزیہ کار بارک رفید نے اپنی رپورٹ میں قابض صیہونی فوج کے اس گھناؤنے جرم کے بارے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج کئی دنوں سے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں وقوع پذیر ہونے والے اس خطرناک واقعے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے کہ جس میں فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے متعدد اراکین کو صیہونی فوج کی اندھا دھند فائرنگ میں مار ڈالا گیا تھا۔

بارک رفید نے لکھا کہ اسرائیلی فوج کا ایک دعوی یہ بھی تھا کہ ایمبولینسز اور فائر ٹرک انتباہی لائٹس (بیکنز) کے بغیر اس علاقے میں داخل ہوئے تھے لہذا ان کی شناخت نہیں ہو سکی، لیکن اب ایک ایسی ویڈیو جاری کر دی گئی ہے کہ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ دعوی بھی سفید جھوٹ تھا۔ صیہونی تجزیہ کار نے تاکید کی کہ یہ واقعہ اسرائیلی فوج اور بین الاقوامی میڈیا کے درمیان تعلقات میں ایک گہری  دراڑ و انتہائی خطرناک موڑ ہے! اسرائیلی صحافی نے لکھا کہ صیہونی فوج اور اس کے ترجمان نے اپنے ابتدائی ردعمل میں دنیا کے تمام میڈیا سے کھلا جھوٹ بولا تھا اور صرف اس ایک جھوٹ کی وجہ سے ہی اسرائیل کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ اس واقعے کہ جو بظاہر ایک جنگی جرم ہے، کے نقصان سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اپنی رپورٹ کے آخر میں بارک رفید نے مزید لکھا کہ فوجی صحافیوں کو نام نہاد "موراگ ایکسس" آپریشن کے بارے اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیانات کی پیروی کے بجائے، ہلال احمر کے طبی عملے کی "سزائے موت" پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے کہ جو ایسا لگتا ہے کہ جنگ (غزہ) کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ سنگین جرائم میں سے ایک ہے۔

ادھر اسرائیلی نیوز چینل کان نے بھی لکھا ہے کہ صیہونی فوج نے رفح میں طبی ٹیموں کو سر عام "سزائے موت" دے دینے کے بارے، جاری کیا گیا اپنا بیان ایک مرتبہ پھر بدل دیا ہے اور اس مرتبہ دعوی کیا ہے کہ یہ لوگ حماس کی ایک گاڑی کے قریب پہنچ چکے تھے۔ صیہونی چینل کے مطابق اسرائیل فوج نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ اندھا دھند فائرنگ کے ذریعے "سزائے موت" پانے والے 15 افراد میں سے 6 حماس کے رکن تھے اور باقی ایمبولینس کے اہلکار!!

معروف صیہونی اخبار یدیعوت احرونوت نے بھی اس حوالے سے لکھا ہے ہے کہ رفح میں نشانہ بننے سے قبل ایمبولینسوں اور طبی عملے کی نیویارک ٹائمز کی جانب سے شائع ہونے والی ویڈیو نے اسرائیلی فوج کو ایک نئی مشکل میں ڈالتے ہوئے اسے اپنے سابقہ بیانیے کو 3 مرتبہ بدلنے پر مجبور کیا ہے۔
-

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج کے صیہونی فوج سفید جھوٹ علاقے میں کے بارے

پڑھیں:

جنوبی لبنان میں ایک کار پر صیہونی فوج کا ڈرون حملہ

الدروہ کے علاقے میں بنت جبیل یارون روڈ پر ایک کار کو قابض حکومت کی فوج نے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔ حملے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جنوبی لبنان میں بنت جبیل یارون روڈ پر اسرائیلی فوج کے ڈرون حملے میں ایک کار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ لبنانی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک کار پر ڈرون حملہ کیا۔ النشرہ کے رپورٹر نے اطلاع دی ہے کہ الدروہ کے علاقے میں بنت جبیل یارون روڈ پر ایک کار کو قابض حکومت کی فوج نے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا۔ حملے اور اس میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیلی فوج انسانی ڈھال کے طور پر فلسطینی شاوِش استعمال کر رہی ہے، اسرائیلی فوجی کا انکشاف
  • صیہونی فوج کی بمباری سے مزید 120 فلسطینی شہید، حماس کا اسرائیل کو انتباہ
  • پی ایس ایل میں کچھ نیا کیوں نہیں ہورہا؟ علی ترین نے پی سی بی پر سوالات اٹھا دیے
  • صیہونی فوج کی بمباری سے مزید 120 فلسطینی شہید، حماس نے اسرائیل کو خبردار کردیا
  • قابض انتظامیہ سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر کشمیریوں کو ہراساں کر رہے ہیں، روح اللہ مہدی
  • Darkness at Noon
  • 17 نشستوں کے ساتھ وزارت عظمٰی پر قابض ہونے والے شخص کا 3 سالہ دور اقتدار ملکی تاریخ کا تاریک ترین دور ہے
  • کراچی کے شہری 12 اپریل کو سفید پرچم لے کر گھروں سے نکلیں، آفاق احمد
  • جنوبی لبنان میں ایک کار پر صیہونی فوج کا ڈرون حملہ