کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کا قتل معمہ بن گیا، شوہر زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 6th, April 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں تھانہ سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کے علاقے فقیرا گوٹھ میں ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کا قتل معمہ بن گیا، پولیس نے تفتیش کے دوران شک کی بنیاد پر شوہر کو حراست میں لے لیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے فقیرا گوٹھ پریشان چوک کے قریب گزشتہ روز ڈکیتی کی واردات میں حاملہ خاتون کی ہلاکت کا مقدمہ نمبر 467 سال 2025 بجرم دفعہ 397 کے تحت مقتولہ کے شوہر عرفان کی مدعیت میں درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا۔
ترجمان ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعے کی دوپہر فقیرا گوٹھ پریشان چوک پر مبینہ ڈکیتی مزاحمت میں حاملہ عورت کی ہلاکت کے دلسوز واقعہ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ابتدائی طور پہ شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کو کہیں جاتے ہوئے ڈکیتی کا نشانہ بنایا گیا جس میں ملزمان نے فائرنگ کی اور حاملہ بیوی جاں بحق ہوگئی تاہم پولیس نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور تو شک سامنے آیا کہ واقعے کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔
پولیس نے واردات کا ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کی دفعہ کے تحت درج کرلیا اور اس حوالے سے تفتیش جاری رکھی۔ ترجمان کے مطابق تفتیش کے دوران مزید شواہد جمع کیے گئے جس سے واضح ہوا کہ معاملہ ڈکیتی مزاحمت کا نہیں تھا جبکہ مقتولہ کے شوہر کی جانب سے جو جائے وقوعہ بتایا گیا وہ درست نہیں اور ہلاکت کا مقام کہیں اور ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں شوہر کے کردار کو مشکوک جانتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی ہلاکت گھر میں ہی ہوئی تھی جس کو ڈکیتی مزاحمت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی جبکہ ہلاکت میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق ہلاکت میں استعمال ہوا اسلحہ اور پولیس تحویل میں لیے گئے شوہر کو مزید کارروائی کے لیے شعبہ تفتیش ضلع شرقی کے حوالے کیا گیا۔
پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں مزید شواہد اکٹھا کرکے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈکیتی مزاحمت پولیس نے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی سے کتنے افغان واپس بھیجے جا رہے ہیں، حراست میں کتنے ہیں؟
کراچی سے تقریباً 16 ہزار 138 افغان سٹیزن شپ کارڈز (اے سی سی) رکھنے والوں کی وطن واپسی شروع کا آغاز ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اے سی کارڈ والے افغانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم، افغان سٹیزن کارڈ کیا ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے کارروائی شروع کی ہے جس کے دوران اب تک 150 سے زائد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کا منصوبہ (آئی ایف آر پی) یکم نومبر 2023 سے جاری ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی تکمیل کے بعد اب وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کی ہدایت سے سندھ حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ تمام اے سی سی ہولڈرز کو ان کے آبائی ملک میں واپس بھیجیں۔
رضاکارانہ واپسی کی مدت تمام15 فروری سے 31 مارچ 2025 تک افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب یکم اپریل 2025 سے ’جبری‘ وطن واپسی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: افغان سیٹزن کارڈ والے باشندوں کی واپسی:اب تک کتنے افغان باشندے واپس جاچکے ہیں؟
افغان شہریوں کی وطن واپسی کے لیے مرکزی کیمپ امین ہاؤس سلطان آباد، کیماڑی میں قائم کیا گیا ہے۔
پولیس اور سماجی ورکرز کے اعدادوشماردریں اثنا ڈان کے مطابق ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا ہے کہ کراچی میں مجموعی طور پر اے سی سی رکھنے والے افغانیوں کی تعداد 16 ہزار 138 ہے جن کی تعداد مشرقی اور مغربی اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا کا کہنا ہے کہ اب تک 162 اے سی سی ہولڈرز کو کیمپ میں لایا گیا ہے جبکہ ان میں سے کچھ کو پی او آر (رجسٹریشن کا ثبوت) ہونے پر چھوڑ دیا گیا۔
مزید پڑھیں: مختلف ادوار میں پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد، اب کتنے رہ گئے؟
ڈان کے مطابق دوسری جانب’جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے مہاجرین‘ کی بانی رکن مونیزا کاکڑ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ اب تک شہر کے مختلف علاقوں میں ’کریک ڈاؤن‘ میں 500 سے 600 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دریں اثنا کراچی کے کچھ سماجی کارکنان نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کارروائی کی آڑ میں شہر میں قانونی طور پر آباد افغان شہریوں کو بھی تنگ کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان انخلا افغان سٹیزن کارڈ افغان شہریوں کی واپسی کراچی کراچی میں افغان شہری