دماغی امپلانٹ نے فالج سے متاثر مریضہ کی بولنے کی صلاحیت بحال کردی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
ایک دماغی امپلانٹ نے شدید فالج سے متاثر ایک خاتون کی آواز بحال کر دی۔ یہ کامیابی ان لوگوں کے لیے مواصلات کے حصول میں ایک اہم پیشرفت ہے جو بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔
پیر کے روز جرنل نیچر نیوروسائنس میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں تفصیل سے بیان ہونے والے اس امپلانٹ نے بات کرنے کے لیے پروستھیسس استعمال کرنے میں تاخیر کے مسئلے کو حل کیا ہے۔
محققین کی ٹیم (جس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے محققین بھی شامل تھے) نے ایک مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے جو دماغی اشاروں کو آواز میں ’نیئر-ریئل ٹائم‘ میں تبدیل اور اسٹریم کرتا ہے۔
مطالعے کے مصنف گوپالا انومانچیپلی کا کہنا تھا کہ ہمارا اسٹریمنگ کا طریقہ کار ایلیکسا اور سری جیسی ڈیوائسز کی طرح ہی ہی تیز بولنے کی ڈیکوڈنگ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
ایک اور مصنف چول جون چو نے کہا کہ ہم جو کچھ ڈیکوڈ کر رہے ہیں وہ اس وقت کے بعد کا ہے جب ایک خیال آ چکا ہوتا ہے، جب ہم نے فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ کیا کہنا ہے، ہم نے جو الفاظ استعمال کرنے ہیں اور ہم نے اپنے vocal-tract پٹھوں کو کیسے حرکت دینی ہے۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
برطانیہ نے جوابی ٹیرف عائد کرنے کے لیے امریکی مصنوعات کی فہرست تیار کر لی
رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کے اثرات اور ممکنہ جوابی اقدامات کے لیے برطانوی حکومت کی کاروباری طبقے سے مشاورت جاری ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد برطانیہ نے اِن امریکی مصنوعات کی فہرست تیار کی ہے جن پر جوابی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ 417 صفحات پر مشتمل فہرست پر کسی چیز کے ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس پر ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کاروبار اور تجارت کے محکمے کے مطابق اس فہرست میں امریکہ سے درآمد کی جانے والی 27 فیصد اشیا شامل ہیں جن کے برطانیہ کی معیشت پر محدود اثرات ہوں گے۔ ان مصنوعات میں اعلیٰ نسل کے گھوڑے، بچوں کے کپڑے، خام تیل، بندوقیں اور بربن شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کے اثرات اور ممکنہ جوابی اقدامات کے لیے برطانوی حکومت کی کاروباری طبقے سے مشاورت جاری ہے۔ برطانیہ کے بزنس سیکریٹری جوناتھن رینلڈز نے کہا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے امریکہ کے ساتھ معاہدہ ممکن اور مفاد میں ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے پاس یہ حق ہے کہ اگر معاہدہ طے نہیں پاتا تو اپنی ضرورت کے تحت جوابی اقدام کرے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹامر کا کہنا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ملک کے مقابلے امریکہ کے ساتھ سب سے زیادہ تعاون کرتا ہے مگر اس معاملے میں کوئی بھی اقدام قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ یا تو جوابی کارروائی کریں یا تحمل کی حکمت عملی اپنائیں۔ دوسرا راستہ بہتر ہے۔