فرانس میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مکمل تعاون کریں گے: ممتاز زہرہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
فرانس میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مکمل تعاون کریں گے: ممتاز زہرہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
پیرس (آئی پی ایس )فرانس میں پاکستان کی سفیرممتاز زہرہ بلوچ نے پاکستانی صحافیوں سے ملاقات کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق ممتاز زہرہ بلوچ نے پیرس میں پاکستانی سفارت خانہ میں پاکستانی میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران پاکستان اور فرانس کے تعلقات اور فرانس میں موجود پاکستانی کمیونٹی سے متعلق مسائل کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔
پاکستانی سفیر نے اس موقع پر فرانسیسی معاشرے میں پاکستان کے نقطہ نظر اور ثقافت کو فروغ دینے میں میڈیا کے نمائندوں کے کردار کو سراہا اور تارکین وطن کو سہولت فراہم کرنے میں سفارت خانہ پاکستان کے مکمل عزم کا اظہار کیا۔آخر میں ممتاز زہرہ بلوچ نے شرکا کو یقین دلایا کہ سفارتخانہ پاکستان ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں پاکستان ممتاز زہرہ
پڑھیں:
شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تقریب
شاہراہ قراقرم کی تعمیر 1966ء میں شروع ہوئی تھی اور 1978ء میں مکمل ہوئی۔ اس سڑک کے پاکستانی سیکشن کی تعمیر کے دوران 778 پاکستانی اور 110 چینی کارکنوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں سے 88 چائنیز چائنہ یادگار میں مدفون ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مزدوروں اور انجینیئرز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چائینہ یادگار دنیور گلگت میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ چین کے سفارتخانے کے تعاون سے اوورسیز چائنیز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان اور محکمہ پولیس کے اشتراک سے منعقدہ تقریب میں چائنہ یادگار میں مدفون چینیوں کے لواحقین، اوورسیز چائنیز اور مقامی افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر چائینیز یادگار پر شمعیں روشن کی گئیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈی آئی جی پولیس گلگت ہیڈ کوارٹر خواجہ نوید احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات بے مثال ہیں، شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، اس اہم شاہراہ کی تعمیر سے گلگت بلتستان سمیت ملک میں تعمیر و ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ واضح رہے کہ شاہراہ قراقرم کی تعمیر 1966ء میں شروع ہوئی تھی اور 1978ء میں مکمل ہوئی۔ اس سڑک کے پاکستانی سیکشن کی تعمیر کے دوران 778 پاکستانی اور 110 چینی کارکنوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں سے 88 چائنیز چائنہ یادگار میں مدفون ہیں۔