تعلیم یافتہ افراد کو سوشل میڈیا پر صرف صارف نہیں بلکہ رہنماء بن کر ابھرنا ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اگر تعلیم یافتہ افراد قلم کی جگہ خاموشی اور بصیرت کی جگہ بے نیازی کو اپنا لیں تو پھر میدان خالی رہ جائے گا اور خالی میدان ہمیشہ وہی لوگ بھر دیتے ہیں، جو جاہل ہیں اور پروپیگنڈہ پھیلاتے ہیں۔ یاد رکھیں، علم کے حامل اگر سچ بولنے سے گریز کریں تو جھوٹ کی آواز سچ بن جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ افراد سوشل میڈیا پر فقط صارف اور تماشائی بن کر نہ رہیں بلکہ ایک راہنماء بن کر اپنا کردار ادا کریں۔یعنی علم کی روشنی بانٹیں، دوسروں کو صراط مستقیم کی رہ دکھائیں اور الفاظ سے انقلاب برپا کریں۔ تحریر: محمد حسن جمالی
سوشل میڈیا، آج کی دنیا کا سب سے طاقتور اور مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہاں الفاظ گولیوں کی مانند چلتے ہیں، ایک پوسٹ، ایک تصویر یا ایک ویڈیو لاکھوں دل و دماغوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس میدان میں تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی صرف ایک صارف اور تماشائی کی نہیں، بلکہ ایک راہنماء کی ہونی چاہیئے۔ اس حوالے سے آج کی دنیا میں مسلمانوں کے عظیم راہنماء، بے بدیل بصیرت کے مالک رہبر اور حالات حاضرہ کی نبض پر ہاتھ رکھنے والی عظیم شخصیت آیت اللہ خامنہ ای کے ارشادات اور فرمودات چراغ راہ ہیں۔ ان کی نظر میں سوشل میڈیا عصر حاضر کی حساس، مؤثر اور فیصلہ کن جنگ لڑنے کا محاذ ہے۔ ان کے مطابق یہ میدان ایسا ہے، جہاں توپ و تفنگ کی بجائے نظریات، افکار، الفاظ اور ثقافتی اثر و رسوخ سے جنگ لڑی جا رہی ہے۔
آپ نے بارہا اس بات پر تاکید فرمائی کہ سوشل میڈیا ایک خالی جگہ نہیں، بلکہ دشمن اس میں پوری قوت سے سرگرم عمل ہے۔ اگر مؤمن، باشعور اور تعلیم یافتہ افراد اس میدان کو خالی چھوڑ دیں گے تو دشمن اس خلا کو فوراً پر کر دے گا۔ ایک موقع پر سوشل میڈیا کے استعمال کی اہمیت کو یوں اجاگر کیا کہ فرمایا: "اگر میں رہبر نہ ہوتا تو سوشل میڈیا کی ایک ٹیم بناتا اور میں اس ٹیم کی سربراہی اپنے ہاتھ میں لیتا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دین مبین اسلام کی حقیقی رخ کی ترجمانی کرتا اور لوگوں کے ذہن سازی کے لیے اس سے بھرپور طریقے سے استفادہ کرتا۔ لیکن اب میں جس مقام پر ہوں کہ میرے پاس اس کام کیلیے وقت نہیں ہے، لہذا یہ کام آپ لوگ کریں۔"
رہبر معظم کے نزدیک سوشل میڈیا کا درست استعمال صرف ایک تکنیکی یا تفریحی عمل نہیں بلکہ ایک عظیم فکری، اخلاقی اور انقلابی جہاد ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ہم اس میدان میں پیچھے ہٹ جائیں تو دشمن آگے بڑھ جائے گا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اہل علم، خصوصاً نوجوان، سوشل میڈیا پر شعور، بصیرت اور ہدفمند سرگرمی کے ساتھ موجود ہوں۔ ان کے نزدیک یہ ایک مقدس فریضہ ہے کہ ہر فرد اپنے حصے کی روشنی لے کر اس فکری اندھیرے کو چمکائے۔آپ نے بارہا نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر موجودگی کو نعمت قرار دیا ہے، لیکن یہ شرط بھی رکھی کہ یہ موجودگی شعور کے ساتھ ہو نیز فرمایا کہ سچ کی ترویج، جھوٹ اور فتنہ کی نفی، اخلاقیات کا فروغ اور اسلامی اقدار کی نمائندگی ہی اس جہاد کا اصل ہدف ہے۔
ان کے مطابق اگر تعلیم یافتہ طبقہ خاموش رہے اور اپنا کردار ادا نہ کرے تو گمراہ عناصر معاشرے کی فکری رہنمائی کا دعویٰ کرنے لگیں گے۔ سچ بولنے والے اگر پیچھے ہٹیں تو جھوٹ بولنے والے غالب آجاتے ہیں۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے، جو معاشروں کی تشکیل یا تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر یہ ہتھیار اہل علم کے ہاتھ میں ہو، تو یہ روشنی پھیلاتا ہے؛ اگر جاہلوں کے پاس ہو تو تاریکی کو بڑھاتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ تعلیم صرف انسان کو کتابی معلومات سے مالا مال نہیں کرتی، بلکہ یہ انسان میں تمیز، فہم، برداشت اور بصیرت کی روشنی بھی پیدا کرتی ہے۔ جب یہ بصیرت سوشل میڈیا جیسے بااثر پلیٹ فارم پر منتقل ہوتی ہے تو وہ معاشروں کی تشکیل، سوچوں کی اصلاح اور اخلاقی اقدار کے احیاء کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
لیکن تشوشناک بات یہ ہے کہ بیشتر تعلیم یافتہ افراد اس طاقتور ذریعہ اظہار کو یا تو نظر انداز کرتے ہیں، مختلف گروپس میں صرف مشاہدہ پر اکتفا کرتے ہیں اور یا پھر اسے بے مقصد تفریح کا ذریعہ بنا کر اس کی افادیت کھو دیتے ہیں۔ آج جب جھوٹ سچ کا لبادہ اوڑھ کر پھیلایا جا رہا ہے، جب کردار کشی کو اظہار رائے سمجھا جا رہا ہے، جب نفرت انگیز بیانیے کو مقبولیت کی ضمانت سمجھا جا رہا ہے تو ایسے میں خاموشی اختیار کرنا یا لاتعلقی برتنا دراصل جہالت پنپنے کے لئے مزید موقع دینا ہے۔ تعلیم یافتہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر راہنمائی کا کردار ادا کریں۔ وہ جھوٹی خبروں کی تصدیق کریں، نفرت انگیزی کا جواب دلیل، شائستگی اور حکمت سے دیں، علم، تہذیب اور اخلاق کا پرچار کریں۔ اسی طرح انہیں چاہیئے کہ وہ نوجوان نسل کو راہ دکھائیں، ان کی رہنمائی کریں کہ سوشل میڈیا صرف سیلفیاں اور طنز و مزاح کا مرکز نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں پوری قوم کی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔
اگر تعلیم یافتہ افراد قلم کی جگہ خاموشی اور بصیرت کی جگہ بے نیازی کو اپنا لیں تو پھر میدان خالی رہ جائے گا اور خالی میدان ہمیشہ وہی لوگ بھر دیتے ہیں، جو جاہل ہیں اور پروپیگنڈہ پھیلاتے ہیں۔ یاد رکھیں، علم کے حامل اگر سچ بولنے سے گریز کریں تو جھوٹ کی آواز سچ بن جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ تعلیم یافتہ افراد سوشل میڈیا پر فقط صارف اور تماشائی بن کر نہ رہیں بلکہ ایک راہنماء بن کر اپنا کردار ادا کریں۔یعنی علم کی روشنی بانٹیں، دوسروں کو صراط مستقیم کی رہ دکھائیں اور الفاظ سے انقلاب برپا کریں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر بلکہ ایک کی روشنی کی جگہ
پڑھیں:
پیپلزپارٹی والے متنازع نہری منصوبے پر صدر مملکت سے سوال کریں تو بہتر ہوگا، اعظمیٰ بخاری
لاہور:وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے متنازع نہری منصوبے پر پی پی رہنما کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی والے اس حوالے سے صدر پاکستان سے سوال پوچھ لیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے چوہدری منظور کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ والے کہتے ہمارا پانی ہے آپ کہتے یہ پنجاب کا پانی ہے، پیپلزپارٹی پہلے آپس میں طے کرلے یہ کس کا پانی ہے۔
انہوں نے چوہدری منظور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پنجاب میں رہ کر پنجاب کی لڑائی نہیں لڑ سکتے؟
ہمیشہ نہروں پر سیاست کرنا سندھ کا کام رہا ہے لیکن یہاں یہ نہیں ہوتا، کسانوں کے ساتھ کھڑے ہونے سے پہلے چیک کرلیں کسان آپکے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب نہ کسی کا حق چھینتا ہے نہ کسی کو اپنا حق کھانے دیتا ہے کیونکہ پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متنازع کینال منصوبے پر تنقید اور وزیراعلی پنجاب سے سوال کرنے کی بجائے صدر پاکستان سے پوچھ لیں تو بہتر ہوگا۔ پیپلزپارٹی گھر کی لڑائی میڈیا پر لڑنے کی کوشش نہ کرے۔