ایسا کیوں ہے ہمیشہ ن لیگ کے دور میں چینی اور چکن کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اپریل2025ء) چینی اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہونے پر مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ نے سوالات اٹھا دیے۔ تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک اور عید الفطر گزر جانے کے باوجود ملک میں چینی اور چکن کی قیمتیں بے قابو ہو جانے پر مشیر خزانہ خیبرپختونخواہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ ایسا کیوں ہے ہمیشہ ن لیگ کے دور میں چینی اور چکن کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں؟ بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک اور عید گزرنے کے بعد بھی پنجاب میں مرغی مٹن اور بیف کی قیمتوں پر قابو نہ پایا جا سکا۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں زندہ مرغی کا سرکاری ریٹ 383 روپے فی کلو ہے جبکہ 515 روپے کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔ مرغی کے گوشت کاسرکاری ریٹ 595 ہے جبکہ 760 روپے کلو میں فروخت کیا جارہا ہے۔(جاری ہے)
مٹن کا سرکاری ریٹ 1 ہزار 6 سو مقرر ہے، جو ہزار روپے زائد یعنی 2 ہزار 6 سو روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ جبکہ چینی کی قیمت بھی 180 روپے کی سطح سے نیچے نہ آ سکی۔
دوسری جانب وفاقی ادارہ شماریات نے عید کے بعد پہلے ہفتے کے دوران مہنگائی سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے جس کے مطابق عید کے بعد چکن، سبزیاں، بیف، مٹن سمیت 15 اشیاء مزید مہنگی ہو گئیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں اضافے کی رفتار 0.20 فی صد رہی، حالیہ ہفتے کے دوران 15 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 10 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 26 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں، حالیہ ہفتے کے دوران چکن کی قیمت میں 85 روپے 81 پیسے فی کلو، آلو کی قیمت 2 روپے فی کلو، پیاز 3 روپے 18 پیسے فی کلو مہنگے ہوئے۔ ایک ہفتے کے دوران گڑ کی قیمت 2 روپے فی کلو، سرسوں کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 39 پیسے فی کلو، بیف کی قیمت میں 5 روپے 56 پیسے فی کلو اور مٹن کی قیمت میں 2 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریارت کے مطابق ٹماٹر، سیگریٹ، چینی، جلانے کی لکڑی، کپڑا بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں جبکہ ایک ہفتے کے دوران لہسن کی قیمت میں 35 روپے 99 پیسے فی کلو ، کیلا 11 روپے 08 روپے فی درجن سستا ہوا، انڈے کی قیمت 12 روپے 68 پیسے فی درجن کم ہو گئی۔ یہاں واضح رہے کہ جہاں عید الفطر کے بعد ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ ہوا، وہیں دوسری جانب حکومت کی جانب سے مارچ میں مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آ جانے کا دعوٰی کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے دعوٰی کیا جا رہا ہے کہ مارچ کے ماہ میں مہنگائی کی شرح 1 فیصد سے بھی کم رہی۔
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہفتے کے دوران روپے فی کلو کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
بجلی کی قیمت میں تبدیلی کے بعد بلوں میں کتنی کمی ہوگی؟
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لئے 7.41 پیسے جبکہ صنعتی صارفین کے لئے 7.69 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے، 4 کروڑ صارفین میں سے ایک کروڑ 80 صارفین کا بل پہلے ماہانہ 2 ہزار روپے آتا تھا، ان کا بل اب ایک ہزار روپے سے بھی کم آئے گا۔
نجی سوشل میڈیا ویب سائٹ وی نیوز کے مطابق اویس لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے لائف لائن کسٹمر سے 4 روپے 78 پیسے فی یونٹ بجلی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے جس کے بعد 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے لائف لائن کسٹمر سے نو روپے 37 پیسے فی یونٹ چارجز وصول کئے جا رہے ہیں۔
ایک سے 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین سے 14 روپے 67 پیسے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے جو کہ اب اٹھ روپے 52 پیسے وصول کئے جائیں گے۔اسی طرح 100 یونٹ سے 200 یونٹ تک استعمال کرنے والوں سے 17 روپے 65 پیسے وصول کئے جا رہے تھے، جس سے اب 11 روپے 51 پیسے وصول کئے جائیں گے۔ گزشتہ سال جون کے مقابلے میں اب تک ان صارفین کو 10 روپے 8 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ گھریلو صارفین سے گزشتہ سال جون میں 39.29 روپے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے، اس وقت معمولی کمی کے بعد 38.34 روپے وصول کئے جا رہے ہیں، ان صارفین کو 6 روپے 71 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 31.63 روپی فی یونٹ بجلی کے چارجز اصول کئے جائیں گے۔اسی طرح کمرشل صارفین سے اس وقت 71.06 روپے وصول کئے جا رہے تھے جن کو اب 8.58 روپے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 62.47 روپے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ انڈسٹریل صارفین سے جون 2024 میں 58.50 روپے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے تو ہم اب 10 روپے سے زائد کمی کے بعد 48.19 روپے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اب وزیراعظم نے ان سارے صارفین کو مزید 7 سے 9 روپے کا ریلیف دیا ہے اور اب ان صارفین سے 40 روپے 51 پیسے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی صارفین سے 2024 میں 43.38 روپے فی یونٹ اور اب 41.7 روپے فی یونٹ وصول کئے جا رہے تھے تاہم اب ان صارفین کو 7 روپے 18 پیسے کا ریلیف دیا گیا ہے اور اب ان صارفین سے 34.58 روپے فی یونٹ وصول کئے جائیں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ایک بڑا مسئلہ تھا، 2018 میں یہ قرضہ 702 ارب تھا، 2018 سے 2022 تک اس قرضے میں 1500 ارب سے زائد کا اضافہ ہوا، اور اب 2400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، لیکن اب اس گردشِی قرضے میں کمی آئے گی، اس سال بھی گردشی قرضے میں 9 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ 36 آئی پی پیز سے مذاکرات ہو چکے ہیں، جس سے پاور پلانٹس کی 3 سے 25 سال عمر کے دوران حکومت کو 3 ہزار 696 ارب روپے کی بچت ہو گی۔اویس لغاری نے کہا کہ جون تک تمام 4 کروڑ بجلی صارفین کے میٹرز کی آٹومیشن شروع کر دی جائے گی، جس سے آئندہ 3 سال میں ہر میٹر اور ٹرانسفارمر کا سسٹم آن لائن کر دیا جائے گا۔اویس لغاری نے کہا ہے کہ فی الوقت پہلے مرحلے میں 3 ڈسکوز کی نجکاری کے بین الاقوامی طرز پر زور و شور سے کام شروع ہے۔ ان 3 ڈسکوز میں آئیسکو ،گیپکو اور فیسکو شامل ہیں۔ اگر یہ نجکاری کامیاب ہو گی تو دوسرے مرحلے میں لیسکو، سیپکو ، میپکو کی نجکاری کریں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دکانوں، ورکشاپوں اور چھوٹے اداروں میں کام کرنیوالے ورکرز کی رجسٹریشن شروع کرنے کا حکم دیدیا
مزید :