طوطے کے بعد کوا بھی انسانوں کی طرح بولنے لگا، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
نئی دہلی(نیوز ڈیسک)طوطے تو باتیں کرنے کے لیے عام سمجھیں جاتے ہیں مگر کوے کا باتیں کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔
بھارت میں انسانوں کی طرح بات کرتے کوے کی ویڈیو نے انٹرنیٹ صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔
بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے پالگھر کے گاؤں میں ایسا کوا دیکھا گیا جس نے انٹرنیٹ صارفین کو دنگ کر دیا ہے، لیکن اڑنے یا چالاکی دکھا کر نہیں بلکہ اپنے الفاظ سے۔
رپورٹ کے مطابق منگلیا منکے نامی ایک شہری کو ایک درخت کے نیچے 15 دن کا زخمی کوا ملا جس وہ گھر لے آیا۔ چند دن بعد وہ کوا منکے خاندان کا ایک پیارا رکن بن گیا، جس کی دیکھ بھال ایک چھوٹے بچے کی طرح کی جانے لگی جس کے ساتھ وہ لوگ کھیلتے اور مستی کرتے۔
وقت گزرنے کے ساتھ، کوا ان میں گھل مل گیا اور خاندان کے ساتھ بات چیت بھی کرنے لگا، یہاں تک کہ کندھوں پر بیٹھ کر بات کرنا سیکھنے لگا۔
View this post on InstagramA post shared by India Recap (@indiarecap)
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیڑھ سالہ کوا حیرت انگیز طور پر صرف پرندوں کی طرح ہی نہیں بلکہ چند جملے بھی بولنا سیکھ گیا۔ کوا روانی سے ”ماں“ اور ”پاپا“ جیسے الفاظ بھی بولنے لگا اور یہاں تک کہ ”تم کیا کر رہے ہو؟“ جیسے سوالات بھی پوچھتا ہے۔ اور ”تم گھر کیوں آئے ہو؟“ جیسے جملے بول کر کوے نے سب کو حیرت میں مبتلا کردیا۔
بات کرنے والے کوے کی ویڈیوز بہت سوشل میڈیا پر مقبول ہوئیں، اور آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ اسے دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ یہاں تک کہ کچھ نے پرندے سے بات کرنے کی کوشش بھی کی۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ کوا دوسرے کووں کے ساتھ دن کے وقت پرواز کرنے کے بعد یہ غروب آفتاب تک گھر لوٹ جاتا ہے۔ منکے خاندان نے نے بتایا کہ یہ کوا کہیں دور نہیں جاتا اور نہ ہی جنگل کا رخ کرتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ پرندہ جانتا ہے کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے۔
مزیدپڑھیں:متحدہ عرب امارات میں عید الاضحیٰ کی تاریخ کا اعلان، پاکستان میں کب ہوگی؟
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
دماغی امپلانٹ نے فالج سے متاثر مریضہ کی بولنے کی صلاحیت بحال کردی
ایک دماغی امپلانٹ نے شدید فالج سے متاثر ایک خاتون کی آواز بحال کر دی۔ یہ کامیابی ان لوگوں کے لیے مواصلات کے حصول میں ایک اہم پیشرفت ہے جو بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوگئے ہیں۔
پیر کے روز جرنل نیچر نیوروسائنس میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں تفصیل سے بیان ہونے والے اس امپلانٹ نے بات کرنے کے لیے پروستھیسس استعمال کرنے میں تاخیر کے مسئلے کو حل کیا ہے۔
محققین کی ٹیم (جس میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے محققین بھی شامل تھے) نے ایک مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے جو دماغی اشاروں کو آواز میں ’نیئر-ریئل ٹائم‘ میں تبدیل اور اسٹریم کرتا ہے۔
مطالعے کے مصنف گوپالا انومانچیپلی کا کہنا تھا کہ ہمارا اسٹریمنگ کا طریقہ کار ایلیکسا اور سری جیسی ڈیوائسز کی طرح ہی ہی تیز بولنے کی ڈیکوڈنگ صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
ایک اور مصنف چول جون چو نے کہا کہ ہم جو کچھ ڈیکوڈ کر رہے ہیں وہ اس وقت کے بعد کا ہے جب ایک خیال آ چکا ہوتا ہے، جب ہم نے فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ کیا کہنا ہے، ہم نے جو الفاظ استعمال کرنے ہیں اور ہم نے اپنے vocal-tract پٹھوں کو کیسے حرکت دینی ہے۔