وزیر خزانہ کی بجٹ پر بات چیت کیلئے آئی ایم ایم مشن کے پاکستان آنے کی تردید
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے وفاقی بجٹ پر بات چیت کےلیے آئی ایم ایف مشن کے پاکستان آنے کی تردید کردی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے لوگ آتے اور جاتے رہیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ابھی گورننس اور ڈائیگناسٹک کا مشن آیا ہوا ہے، جس نے جولائی میں رپورٹ دینی ہے، بجٹ تجاویز پر بات چیت کےلیے آئی ایم ایف کا مشن مئی کے وسط یا آخر میں آئے گا۔
جیسے ہی آئی ایم ایف بورڈ منظوری دبگا 1 ارب ڈالرز مل جائینگے: محمد اورنگزیبوفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جیسے ہی آئی ایم ایف بورڈ منظوری دے گا 1 ارب ڈالرز مل جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کیا گیا، ہم نے آئی ایم ایف کے تمام بینچ مارکس پورے کیے، یہ پاکستان کا پروگرام ہے ہمیں اس کی ضرورت ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہماری ذمے داری ہے کہ مہنگائی میں کمی کے ثمرات عوام تک پہنچیں، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کےلیے ادارہ جاتی نظام بنا رہے ہیں، ملک میں معاشی استحکام آ چکا ہے اور معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کو اب پائیدار معاشی استحکام میں بدلنا ہے، ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف ئی ایم ایف نے کہا کہ ا ئی ایم
پڑھیں:
شرح سود میں نمایاں کمی ہوئی، مزید کمی کی گنجائش ہے ،وزیر خزانہ
جون کے آخر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر ہو جائیں گے
اس وقت ایل سی کھولنے اور کمپنیوں کو منافع باہر بھجوانے میں کوئی مشکلات نہیں
آئندہ مالی سال تنخواہ دار طبقے کو خود ٹیکس ادائیگی کا نظام لاگو ہو گا،پریس کانفرنس
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ شرح سود میں نمایاں کمی ہوئی ہے ، میرے خیال میں شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے ۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام ملک میں آ چکا ہے ، معاشی استحکام معاشی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے ، بیرونی محاذ میں کافی بہتری آئی ہے ، اس سال ترسیلات زر 36 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اندازہ ہے ۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ، جون کے آخر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر ہو جائیں گے ، اس وقت ایل سی کھولنے اور کمپنیوں کو منافع باہر بھجوانے میں کوئی مشکلات نہیں ہیں، اندرونی محاذ پر افراط زر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی میں کمی عوام تک منتقل ہونا چاہئے ، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی مہنگائی میں کمی کیلئے اقدامات لے رہی ہے ، ای سی سی نے مہنگائی پر خاص نظر رکھی ہوئی ہے ، ای سی سی مہنگائی کی مانیٹرنگ کیلئے نئے اقدامات کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں نمایاں کمی ہوئی ہے ، میرے خیال میں شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے ، پی ڈبلیو سی اور اوورسیز چیمبر نے اعتماد میں اضافہ کی رپورٹ دی ہے ، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے ، مقامی سرمایہ کاروں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عیدالفطر پر 870 ارب روپے کی خریداری ہوئی ہے ، گزشتہ مالی سال عیدالفطر پر 720 ارب روپے کی خریداری ہوئی تھی، پہلی ششماہی میں سیمنٹ کی پیداوار میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا، پہلی ششماہی میں کاروں کی فروخت میں 40 فیصد اور موٹرسائیکلوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔وزیر خزانہ نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے ، ہم نے آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک حاصل کیے ، اس دفعہ قومی مالیاتی معاہدہ اور زرعی انکم ٹیکس وصولی کیلئے اقدامات کیے گئے ، یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نے اسٹرکچرل بینچ مارک حاصل کیے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پہلی بار اہداف حاصل کرنے کیلئے صوبوں نے بھی اقدامات کیے ، امید ہے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط کی جلد منظوری دی جائے گی۔موسمیاتی تبدیلیوں پر بھی آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا ہے ، ہمیں ایک ارب ڈالر یک مشت نہیں ملیں گے بلکہ مرحلہ وار ملیں گے ، جیسے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف حاصل کریں گے رقم ملتی جائے گی، آئی ایم ایف کا آخری پروگرام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے ، پاکستان میں معاشی استحکام پہلے بھء آ چکا تاہم اب اس کو آگے لے کر جانا ہے ۔ہم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 10.8 فیصد کر دیا ہے ، ٹیکس وصولی کو بڑھایا اور گہرا کیا جا رہا ہے ، ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن سے فوائد حاصل ہو رہے ہیں، چینی، کھاد، تمباکو میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا مکمل اطلاق کر دیا گیا ہے ، سیمنٹ میں اسکا اطلاق ابھی مکمل نہیں کیا جا سکا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جائے گا، آئندہ مالی سال تنخواہ دار طبقے کو خود ٹیکس ادائیگی کا نظام لاگو ہو گا۔