’طرز زندگی میں تبدیلی کینسر سے بچ جانے والوں کی عمر کو بڑھاتی ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
کینسر ایک جان لیوا مرض ہے، تاہم آج کے جدید دور میں اس کا علاج بھی موجود ہے، اگر پہلے اسٹیج پر ہی اس کی تشخیص ہو جائے تو بچنے کے چانسز بہت زیادہ ہوتے ہیں، اس کے علاوہ صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان صحت مند خوراک کے ساتھ ساتھ ورزش کا بھی خیال رکھے اور وہ تمام تدابیر اختیار کرے جس سے انسانی جسم صحت مند رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں صحتمند بڑھاپے کے لیے درمیانی عمر میں کیا کھائیں؟
حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلیاں کینسر سے بچ جانے والوں کی عمر میں اضافہ کرتی ہیں۔
امریکا میں کی گئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کینسر سے بچ جانے والے صحت مند خوراک اور ورزش کے رہنما اصولوں پر قائم رہ کر موت کے اپنے جاری خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔
جرنل آف نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق کینسر سے بچ جانے والے اگر اپنے طرز زندگی میں تبدیلیاں کرتے ہیں اور تمباکو نوشی سے پرہیز کرتے ہیں تو موت کا مجموعی خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
کینسر کی تشخیص اکثر لوگوں کو یہ سوچنے کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ صحت مند زندگی کیسے گزار سکتے ہیں۔
امریکن کینسر سوسائٹی میں وبائی امراض کی تحقیق کے سینیئر پرنسپل سائنسدان ینگ وانگ نے کہاکہ بہت سے زندہ بچ جانے والے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے طویل عرصے تک زندہ رہنے کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے طرز زندگی میں کیا تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان صحت مند وزن کو برقرار رکھے، اس کے علاوہ ایسے کھانوں کا استعمال کرے جو اس کے جسم کو توانائی فراہم کریں۔
تحقیق کے مطابق جن افراد نے طرز زندگی میں نئے رہنما اصول اپنائے ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 24 فیصد کم تھا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق ایسے افراد میں دل کے امراض سے موت کا خطرہ 33 فیصد کم تھا اور کینسر سے موت کا خطرہ 21 فیصد کم تھا۔
جن لوگوں نے ورزش کو ترجیح دی ان میں موت کا مجموعی خطرہ 22 فیصد کم تھا، اور دل کے امراض کی وجہ سے موت کا خطرہ 26 فیصد کم تھا۔
یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ انسان کو صحت مند رہنے کے لیے طرز زندگی میں کون سے تبدیلیاں کرنی چاہییں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ تجویز کیا گیا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال کیا جائے، جبکہ پراسس شدہ گوشت اور دیگر کھانوں سے پرہیز کیا جائے۔
اس کے علاوہ ورزش کرنے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ قد کے حساب سے وزن کو برقرار رکھنے کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں برطانیہ میں صحت مند کھانا اب فی کیلوری دوگنا مہنگا
تحقیق کے نتائج کے مطابق الکوحل کے استعمال کو محدود کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا تبدیلیاں تحقیق سائنسدان صحت مند کھانے طرز زندگی کینسر کینسر سوسائٹی لمبی زندگی موت کا خطرہ وی نیوز.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا تبدیلیاں صحت مند کھانے طرز زندگی کینسر کینسر سوسائٹی لمبی زندگی موت کا خطرہ وی نیوز کینسر سے بچ جانے نتائج کے مطابق سے موت کا خطرہ طرز زندگی میں فیصد کم تھا تحقیق کے رہنے کے کے لیے میں کی
پڑھیں:
چین بنگلہ دیش کی معاشی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، چیف ایڈوائزربنگلہ دیش
بیجنگ :بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے 26 سے 29 مارچ تک بو آؤ فورم فار ایشیا کی سالانہ کانفرنس 2025 میں شرکت کے لیے چین کے صوبہ ہائی نان اور بیجنگ کا دورہ کیا۔ گزشتہ سال اگست میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر بننے کے بعد بیجنگ میں یونس کا یہ پہلا دورہ تھا۔
چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس سال بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان افرادی و ثقافتی تبادلوں کا سال بھی ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش چین تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ چین بنگلہ دیش کی معاشی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس کے ذریعے بنگلہ دیشی نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر ملے گی۔
محمد یونس کا ماننا ہے کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اصلاحات کو جامع طور پر گہرا کرے گا اور اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو وسعت دے گا اور ان اقدامات سے بنگلہ دیش کو دو مواقع میسر آئیں گے۔ سب سے پہلے چین کی صنعتی منتقلی ہے. اس سے بنگلہ دیش کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام صنعتی منتقلی کے سلسلے میں چین سے ٹیکنالوجیز سیکھ سکتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ بنگلہ دیش چین کی اعلی درجے کی صنعتوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں مدد کے لئے معاون صنعتوں کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ معاون صنعتوں کی ترقی سے بنگلہ دیش کو فائدہ پہنچےگا اور بڑی تعداد میں تکنیکی افرادی قوت بھی پیدا ہو گی۔
محمد یونس نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بنگلہ دیش کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور آزادانہ رسائی ہمیں چینی مارکیٹ میں داخل ہونے اور مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ہے جس نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو پر چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے اور بنگلہ دیش بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی ترقی نے پوری دنیا کی حوصلہ افزائی کی ہے اور چین نہ صرف ایک قابل اعتماد شراکت دار اور دوست ہے بلکہ جدیدکاری کے حصول کے لئے تمام ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لئے رول ماڈل بھی ہے۔
Post Views: 4