گنڈاپور حکومت نے کرپشن کے سابقہ ریکارڈ بھی توڑ ڈالے، اختیار ولی
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف جنرل باجوہ اور بیک ڈور سازشوں کے ذریعے حکومت میں آئی تھی، بانی پی ٹی آئی آج بھی کسی چور دروازے کی تلاش میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کیلئے منتیں کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ نون کے مرکزی راہنما اور وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے بیان پر ردعمل دے دیا۔ اختیار ولی خان نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومتیں پاکستان کی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومتیں ثابت ہوئیں، گنڈاپور حکومت نے کرپشن کے سابقہ ریکارڈ بھی توڑ ڈالے، علی امین بتائیں اب اینٹ انہیں ماری جائے یا بانی پی ٹی آئی کو۔؟ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جنرل باجوہ اور بیک ڈور سازشوں کے ذریعے حکومت میں آئی تھی، بانی پی ٹی آئی آج بھی کسی چور دروازے کی تلاش میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کیلئے منتیں کر رہا ہے۔
اختیار ولی نے کہا کہ فوج کرپشن میں لتھڑی تحریک انصاف قیادت کیساتھ بیٹھ کر اپنا دامن داغدار نہیں کرے گی، تحریک انصاف 8 حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے، بانی پی ٹی آئی بھی کنٹرول کھو چکے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے پورا پاکستان خوش جبکہ پی ٹی آئی والوں کو مرگی کے دورے پڑ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملک کی ترقی کی سمت بڑھنا شروع ہو چکا ہے۔ اختیار ولی نے کہا کہ اب وزیراعظم شہباز شریف ہر ماہ قوم کو ایک سے بڑھ کر ایک نئی خوشخبری دیا کرینگے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی تحریک انصاف اختیار ولی نے کہا کہ
پڑھیں:
اسد قیصر کا علی امین گنڈاپور کو مشورہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو مشورہ دے دیا۔
ایک بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی قیادت سے مطالبہ ہے کہ علی امین کے بیان کی تحقیقات کی جائیں، اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کا مؤقف قوم کے سامنے لایا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے بیانات انتہائی غیر ذمے دارانہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بیان کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں لیکن ہماری ساری توجہ بانی چیئرمین اور بے گناہ قیدیوں کی رہائی پر ہونی چاہیے۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ایسی باتوں سے گریز کرنا ملک اور بانی پی ٹی آئی کےلیے ضروری سمجھتے ہیں، پارٹی کے اندرونی معاملات کو ہوا دے کر رہائی کی جدوجہد کو کمزور نہیں کرنا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں کے پی میں بہتر گورننس پر دیں، علی امین امن و امان کی بحالی، بانی پی ٹی آئی و دیگر کی رہائی پر توجہ مرکوز رکھیں۔