وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی وزرا اور پارٹی رہنماؤں کا اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
راؤ دلشاد : وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی وزرا اور پارٹی رہنماوں کا اہم اجلاس ماڈل ٹاؤن میں ہوا
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تاڑر اور خواجہ سعد رفیق نے وزیراعظم سے ملاقات کی، وزیراعظم کی ملکی سیاسی صورتحال پر پارٹی رہنماوں سے مشاورت کی ، پارٹی راہنماوں نے بلاول بھٹو کی طرف سے وفاقی حکومت کے نہروں کے فیصلے پر بیان بازی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے پارٹی رہنماؤں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا خاصا ہے کہ ہم تمام فیصلے اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے کئے جاتے ہیں،اتحادی حکومت میں باہمی مثالی اعتماد سازی کی فضا خوش آئیند ہے
جعلی ڈاکٹر نے دل کی سرجری کرکے 7 مریضوں کی جان لے لی
.ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
کسی افغان کو زبردستی نہیں نکالیں گے، این ایف سی اجلاس نہ بلایا تو عوام کو لیکر نکلوں گا: گنڈا پور
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعلیٰ خیبر پی کے علی امین گنڈاپور نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہماری پارٹی کے لوگوں کو توڑا گیا۔ اس کا نتیجہ دہشت گردی کے شکل میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ افغانستان کے خلاف جنگ میں باقاعدہ اعلان کر کے حصہ لیا۔ ہم نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے ٹی او آرز بنائے، فیڈرل حکومت ٹی او آرز والے مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کیپیسٹی کی کمی ہے، یہ فیڈرل گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ عوام کا تحفظ کریں۔ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن اطلاعات کے بعد ہوتی رہتی ہیں مگر یہ آپریشن باقاعدہ طور پر فیڈرل ادارے کے تحت کیا گیا۔ تیس ارب روپیہ ہم نے پولیس کو دیا۔ جب سے ہماری حکومت ہے ہم نے صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے جس کے اچھے رزلٹ آئیں گے۔ جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا اس حطے میں امن لانا ناممکن ہے۔ اب اگر انہوں نے ہتھیار اٹھایا ہے تو ان سے اس طرح نہ نمٹا جائے، پہلے آپ کو دل جیتنے پڑیں گے۔ افغان مہاجرین کے معاملہ پر ہمارا واضح موقف ہے۔ ہمارے صوبے میں جو افغان مہاجرین جانا چاہتے ہیں ان کو ہم خوش آمدید کہیں گے۔ خیبر پی کے بالکل بھی کسی کو اس طرح نہیں نکالے گی، یہ نہ ہماری پالیسی نہ ہی روایات ہے۔ ملک میں دہشگردی کے حالات سے متعلق قوم کو بتانا چاہتا ہوں۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق ہماری اب بھی دہشگردی سے نمٹنے کی پالیسی مذاکرات کے ذریعے ہی ہے۔ ہماری حکومت کو ختم کرنے کے لیے زور لگایا گیا۔ ہمارے ممبران کو توڑا گیا۔ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوگیا۔ ہمیں افغانستان سے مذاکرات کی اجازت دی جائے۔ اس سب کا بہت نقصان ہورہا ہے۔ کاٹلنگ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پہلے بھی یہاں ہمارے ایک ایس ایس پی بھی شہید ہوئے۔ کپیسٹی کی کمی ہے۔ 10 بے گناہ شہری اس میں شہید ہوئے۔ ہر چیز پر سیاست نہ کی جائے۔ ہمارے شہری شہید ہوئے۔ وفاقی حکومت نے اسے سیاسی رنگ دیا۔ اس آپریشن سے متعلق ہماری پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ یہ وفاقی اداروں نے آپریشن کیا۔ آنکھیں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کولیٹرل ڈیمج ہورہا ہے۔ ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنی پولیس کو 30 ارب روپے دیے ہیں۔ وفاقی حکومت نے جو بیانات دیے وہ قابل مذمت ہیں۔ صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اس ایکشن پلان کے بہت اچھے نتائج آرہے ہیں۔ لوگ ہم پر اعتماد کر رہے ہیں۔ عوام فورسز کے ساتھ کھڑے ہوکر دہشتگردی کا خاتمہ کرے گی لیکن جو وفاقی حکومت کی پالیسی ہے اس کے بہت خوفناک نتائج ہوں گے۔ لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھایا اس کی وجہ تلاش کی جائے۔ لوگوں کے دلوں کو جیتا جائے، اعتماد کا رشتہ بحال کیا جائے۔ ہم پولیس کو مضبوط کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت بارڈرز سکیورٹی سے متعلق اقدامات نہیں کرتی تب تک نتائج حاصل نہیں ہوں گے۔ افغان پناہ گزینوں سے متعلق بھی ہم پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بارڈر پر چھوڑنا مناسب نہیں۔ ہمارے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ زبردستی افغان پناہ گزینوں کو نہیں نکالے گی‘ این ایف سی کے مطابق مطلوبہ فنڈز نہیں دیے جارہے۔ اپریل میں این ایف سی بلانے کی کمٹمنٹ کی گئی تھی لیکن وہ کمٹمنٹ پوری نہیں کی۔ صدر مملکت کی صحتیابی کے لیے دعا گو ہوں۔ اپریل کا مطلب اپریل ہے۔ اگر یہ حق نہ دیا گیا تو پورے صوبے کی عوام کے ساتھ نکلوں گا اور اپنا حق لے کر رہوں گا۔ نیٹ ہائیڈل کا 75 ارب روپے بھی ہمیں نہیں دیے گئے۔ ہم نے فنڈز سے لوگوں کی ڈیویلپمنٹ کے کام کرنے ہیں۔ کرم میں مسئلہ بنا تو اس کا تدارک صوبائی حکومت اپنے فنڈز سے کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت غیر سنجیدگی دکھا رہی ہے۔ ٹائم لائن میں نے دے دی ہے، اس پر ہر صورت عملدرآمد کرنا ہوگا۔ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی۔ بانی پی ٹی آئی ڈیل نہیں کرے گا۔ بانی پی ٹی آئی ایک مقصد کے لیے جیل میں ہے۔ مذاکرات کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ جو خبریں چلیں ایسی کوئی بات نہیں۔ بانی چیئرمین نے دہشتگردی اور بد امنی سے متعلق سب سے زیادہ گفتگو کی۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی مجھے اپنے لیے کچھ نہیں کہتا۔ میں بطور خان کا سپاہی بانی پی ٹی آئی کی جنگ لڑتا رہوں گا۔