بی این پی سے مذاکرات کیلئے حکومتی وفد لک پاس پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) سے مذاکرات کیلئے حکومتی وفد لک پاس پہنچ گیا، حکومتی وفد میں صادق سنجرانی، غزالہ گولہ اور راحیلہ درانی شامل ہیں۔
بلوچستان حکومت کا وفد صادق سنجرانی کی قیادت میں بی این پی سربراہ سردار اختر مینگل سے مذ ا کرات کیلئے مستونگ کے علاقے لکپاس دھرنا گاه پہنچ گیا۔
ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا ہے کہ اگر اختر مینگل بضد رہیں گے تو حکومت کے پاس آپشنز موجود ہیں۔
وفد میں میر صادق سنجرانی کے علاوہ ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ وزیر تعلیم مس راحیلہ درانی شامل ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر نذیر بلوچ حاجی زاہد بلوچ میرحمل کلمتی، میر جمال ناصر مینگل شریک ہوئے۔
حکومتی وفد سردار اختر مینگل سے مذاکرات کر رہا ہے جبکہ اس سے قبل بھی دو بار حکومتی وفود نے سردار اختر مینگل سے رابطہ کیا لیکن ڈیڈ لائن بدستور برقرار ہے۔
بی این پی کے سربراہ نے حکومت کو تین مطالبات پیش کیے ہیں۔
دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی لکپاس میں دھرنے پر بیٹھے اختر مینگل سے ملاقات ہوئی، جس میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سردار اختر مینگل اختر مینگل سے حکومتی وفد بی این پی
پڑھیں:
مستونگ، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اختر مینگل کے دھرنے میں شرکت
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اس موقع پر مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار اور ڈاکٹر ماہرنگ سمیت دیگر کی رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کوئٹہ کے نواحی علاقے مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل کے دھرنے میں شرکت کرتے ہوئے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مجلس وحدت مسلمین کے جاری بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان میں بدترین سکیورٹی صورتحال کے باوجود، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت نے مستونگ دھرنے میں شرکت کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ صوبے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔ رہنماؤں نے اپنے خطاب میں ماہرنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن کے بغیر ملک میں حقیقی استحکام ممکن نہیں، اور اس مقصد کے لئے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔ یہ دھرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔