راولپنڈی: افغان شہریوں کیخلاف آپریشن میں تیزی،140 کو حراست میں لے لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
راولپنڈی میں افغان شہریوں کے خلاف آپریشن میں تیزی میں آ گئی جب کہ مزید 140 افغان باشندوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ راولپنڈی سے اب تک 190 افغان بانشدوں کو حراست میں لیا، راولپنڈی تمام باشندوں کو حاجی کیمپ میں قائم عارضی کیمپ میں منتقل کردیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق راولپنڈی مزید کاروائی کے بعد تمام افراد کو افغانستان ڈیپورٹ کردیا جائے گا۔
یاد رہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی میپنگ کا آغاز کردیا گیا جب کہ ایک لاکھ سےز یادہ افراد کی نشاندہی بھی کرلی گئی، پشاور میں1 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افغان سیٹزن کارڈ ہولڈر کی نشاندہی کرلی گئی ہے، جن کے خلاف کارروائی ہوگی۔
Post Views: 1.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی سے کتنے افغان واپس بھیجے جا رہے ہیں، حراست میں کتنے ہیں؟
کراچی سے تقریباً 16 ہزار 138 افغان سٹیزن شپ کارڈز (اے سی سی) رکھنے والوں کی وطن واپسی شروع کا آغاز ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اے سی کارڈ والے افغانوں کو ملک چھوڑنے کا حکم، افغان سٹیزن کارڈ کیا ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے کارروائی شروع کی ہے جس کے دوران اب تک 150 سے زائد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کا منصوبہ (آئی ایف آر پی) یکم نومبر 2023 سے جاری ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی تکمیل کے بعد اب وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کی ہدایت سے سندھ حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ تمام اے سی سی ہولڈرز کو ان کے آبائی ملک میں واپس بھیجیں۔
رضاکارانہ واپسی کی مدت تمام15 فروری سے 31 مارچ 2025 تک افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب یکم اپریل 2025 سے ’جبری‘ وطن واپسی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: افغان سیٹزن کارڈ والے باشندوں کی واپسی:اب تک کتنے افغان باشندے واپس جاچکے ہیں؟
افغان شہریوں کی وطن واپسی کے لیے مرکزی کیمپ امین ہاؤس سلطان آباد، کیماڑی میں قائم کیا گیا ہے۔
پولیس اور سماجی ورکرز کے اعدادوشماردریں اثنا ڈان کے مطابق ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا ہے کہ کراچی میں مجموعی طور پر اے سی سی رکھنے والے افغانیوں کی تعداد 16 ہزار 138 ہے جن کی تعداد مشرقی اور مغربی اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا کا کہنا ہے کہ اب تک 162 اے سی سی ہولڈرز کو کیمپ میں لایا گیا ہے جبکہ ان میں سے کچھ کو پی او آر (رجسٹریشن کا ثبوت) ہونے پر چھوڑ دیا گیا۔
مزید پڑھیں: مختلف ادوار میں پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد، اب کتنے رہ گئے؟
ڈان کے مطابق دوسری جانب’جوائنٹ ایکشن کمیٹی برائے مہاجرین‘ کی بانی رکن مونیزا کاکڑ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ اب تک شہر کے مختلف علاقوں میں ’کریک ڈاؤن‘ میں 500 سے 600 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
دریں اثنا کراچی کے کچھ سماجی کارکنان نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کارروائی کی آڑ میں شہر میں قانونی طور پر آباد افغان شہریوں کو بھی تنگ کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان انخلا افغان سٹیزن کارڈ افغان شہریوں کی واپسی کراچی کراچی میں افغان شہری