معاشی استحکام آ چکا، ترسیلات زر 36 ارب ڈالر تک لیکرجائیں گے: وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ معاشی استحکام ملک میں آ چکا ہے، مہنگائی 6 دہائیوں کی کم ترین سطح 0.7 فیصد پر ہے، ترسیلات زر میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر حکومت کی گہری نظر ہے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام ملک میں آ چکا ہے، معاشی استحکام کو اب پائیدار معاشی استحکام میں بدلنا ہے، معاشی استحکام معاشی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے، بیرونی محاذ میں کافی بہتری آئی ہے، اس سال ترسیلات زر 36 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اندازہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، کوشش ہے ضروری برآمدات میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، جون کے آخر تک ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 13 ارب ڈالر ہو جائیں گے، اس وقت ایل سی کھولنے اور کمپنیوں کو منافع باہر بھجوانے میں کوئی مشکلات نہیں ہیں، اندرونی محاذ پر افراط زر میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی مہنگائی میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، ای سی سی نے مہنگائی پر خاص نظر رکھی ہوئی ہے، ای سی سی مہنگائی کی مانیٹرنگ کیلئے نئے اقدامات کئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں نمایاں کمی ہوئی ہے، میرے خیال میں شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش موجود ہے، پی ڈبلیو سی اور اوورسیز چیمبر نے اعتماد میں اضافہ کی رپورٹ دی ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، مقامی سرمایہ کاروں بھی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے، ہم نے آئی ایم ایف کے اسٹرکچرل بینچ مارک حاصل کئے ، اس دفعہ قومی مالیاتی معاہدہ اور زرعی انکم ٹیکس وصولی کیلئے اقدامات کئے گئے، یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان نے اسٹرکچرل بینچ مارک حاصل کیے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پہلی بار اہداف حاصل کرنے کیلئے صوبوں نے بھی اقدامات کئے، امید ہے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط کی جلد منظوری دی جائے گی، موسمیاتی تبدیلیوں پر بھی آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا ہے، ہمیں ایک ارب ڈالر یک مشت نہیں ملیں گے بلکہ مرحلہ وار ملیں گے، جیسے ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف حاصل کریں گے رقم ملتی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے، پاکستان میں معاشی استحکام پہلے بھی آ چکا تاہم اب اس کو آگے لے کر جانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 10.
وفاقی وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس ادائیگی کو آسان بنایا جائے گا، آئندہ مالی سال تنخواہ دار طبقے کو خود ٹیکس ادائیگی کا نظام لاگو ہوگا۔
Post Views: 1ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: معاشی استحکام محمد اورنگزیب
پڑھیں:
نفرت،گالی نہیں‘ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں: دانیال چودھری
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپور ٹرسے) پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا ہے کہ اڑان پاکستان پروگرام سے قومی معیشت کو ترقی دیں گے۔ نفرت،گالی گلوچ اور جلائو گھیرائو کی سیاست پر نہیں بلکہ ترقی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ خیبر پی کے حکومت کی کرپشن کی نئی نئی داستانیں سامنے آ رہی ہیں، باچا خان یونیورسٹی میں بوگس بورڈ بنایا گیا، سینکڑوں غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں۔ خیبر پی کے میں بلین سونامی ٹری کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی گئی، ہماری حکومت ای گورننس اور ڈیجیٹلائزیشن، عوام کو ریلیف دینے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تمام سرکاری ٹھیکے ای پورٹل پر منتقل کر دیئے گئے، کسانوں کو سستے ٹریکٹر اور نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کئے، دوسری جانب ایک صوبائی حکومت اپنے نوجوان طبقہ کو جلائو گھیرائو سکھا رہی ہے۔ حکومت نے دن رات محنت کر کے بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا ہے، معاشی استحکام سے غیر ملکی سرمایہ کاری، کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ ان خیالات کا انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز دن رات کوشاں ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک پیج پر ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر جو ختم ہو رہے تھے وہ بہتر ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب معصوم شہریوں اور تارکین وطن کو سول نافرمانی پر اکسایا جاتا رہا۔ بجلی کی قیمت میں جو ریلیف دیا گیا ہے وہ معاشی استحکام کی علامت ہے۔