اپنے بیان میں وزیر آبپاشی سندھ نے کہا کہ اگر وزیراعظم نے متنازع کینالز منصوبے کو ختم نہیں کیا تو پھر پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی، کینالز کے معاملے پر کسی بھی حد تک جائیں گے اور اس منصوبہ کو ختم کروائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نہروں کے معاملے پر کوئی سیاست نہیں کررہی ہے، سندھ کے عوام اور پیپلز پارٹی کا ایک ہی موقف ہے کہ متنازع کینالز نا منظور، متنازع کینالز کے خلاف سندھ کے عوام سراپا احتجاج ہیں اور آپکو یہ احتجاج سیاست لگ رہا ہے؟۔ جام خان شورو نے اپنے جاری کردہ بیان میں مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو پیغام دیا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو کینالز کے معاملے پر ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہونگے، شہباز شریف کے ساتھ نہیں، عظمی بخاری کو پانی کے معاملے کا الف ب تک نہیں پتا، ن لیگ متنازع کینالز کی ترجمانی کرنے کی بجائے اس منصوبے کو ہمیشہ کے لئے ختم کرے۔

وزیر آبپاشی کا کہنا تھا کہ سندھ میں زراعت سمیت پینے کے لئے پانی ہی میسر نہیں ہے، زمینیں بنجر، کسان پریشان ہیں، مال مویشی پیاسے ہیں، اس لئے وزیراعظم شہباز شریف کو چاہیئے کہ وہ متنازع کینالز نامنظور کا اعلان کریں۔ جام خان شورو نے ن لیگ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعظم نے متنازع کینالز منصوبے کو ختم نہیں کیا تو پھر پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی، کینالز کے معاملے پر کسی بھی حد تک جائیں گے اور اس منصوبہ کو ختم کروائیں گے، سندھ کے آبپاشی نظام کا انحصار دریائے سندھ پر ہے، اس وقت زراعت کے ساتھ ساتھ پینے کے لئے بھی پانی موجود نہیں ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ سندھ کے عوام اور پیپلز پارٹی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ دریا سندھ پر متنازع کینالز منصوبہ نا منظور، وفاق سی سی آئی کا اجلاس فورا طلب کرے اور کینالز منصوبہ کو ہمیشہ کے لئے دفن کرے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: متنازع کینالز سندھ کے عوام کے معاملے پر پیپلز پارٹی کینالز کے کے ساتھ کو ختم کے لئے کہا کہ

پڑھیں:

مسلم لیگ ن کے ناسمجھ لوگ آئین پڑھے بغیر بیان دے دیتے ہیں: شرجیل میمن

کراچی (نوائے وقت رپورٹ،سٹاف رپورٹر) سینئرصوبائی وزیر شرجیل انعام نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے واضح الفاظ میں کہا کہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے نہ کہ شہباز شریف کے ساتھ، مسلم لیگ (ن) میں کچھ ناسمجھ لوگ ہیں جو آئین پڑھتے نہیں اور بیان دے دیتے ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلاول نے خطاب میں ملک کے موجودہ مسائل پر روشنی ڈالی، سندھ کے سب سے بڑے مسئلے کینالز پر واضح پالیسی بیان دیا۔ بلاول نے واضح الفاظ میں کہا کینالز نا منظور ہیں، کسی بھی صورت میں کینالز کو بننے نہیں دیا جائے گا۔ پانی کے بارے میں ابھی تک پنجاب حکومت واضح نہیں کر سکی کہ پانی کہاں سے آئے گا۔ پیپلز پارٹی کسی صورت کینالز نہیں بننے دے گی، بیرونی ہاتھ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم کسی صورت ملک کو نقصان پہنچننے نہیں دیں گے۔ بینظیر بھٹو نے کالا باغ ڈیم والے مسئلے پر دھرنا دیا تھا۔ این ایف سی ایوارڈ زرداری نے دیا، آصف علی زرداری نے ملک کے ہر کونے کی آواز کو سنا تھا اور کالا باغ ڈیم کے مسئلے پر فیصلہ دیا تھا، این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی خود مختاری پر بھی آصف علی زرداری کے دور میں کام ہوا تھا۔ خیبر پی کے کا نام بھی آصف علی زرداری نے ہی رکھا تھا۔ بلوچستان کے لیے پیکج کا اعلان بھی زرداری نے کیا تھا، مشکل حالات میں پاکستان کھپے کا نعرہ بھی زرداری نے لگایا تھا، اٹھارہ اپریل کا کینالز کے مسئلے پر حیدرآباد میں جلسہ تاریخی ہو گا۔ مخالفین جو چاہتے ہیں ملک کو استحکام نہ ہو ان کے کہنے پر فیصلے نہیں ہوتے فیصلہ ہماری لیڈر شپ کرتی ہے۔ لیڈر شپ ہمیشہ صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرتی ہے۔ کینالز پر باقی پارٹیاں جو تقریریں کر رہی ہیں وہ کینالز پر کم پیپلز پارٹی کے خلاف زیادہ کر رہی ہیں، عظمیٰ بخاری کو آئین پڑھنا آتا ہے، پنجاب کی وزیر اطلاعات جیسا شخص اطلاعات کے منصب پر بیٹھ کر غلط بیان دے رہا ہے۔ عظمیٰ بخاری کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی اور پنجاب حکومت آمنے سامنے آئے، پیپلز پارٹی کینالز پر سیاست نہیں کر رہی، پیپلز پارٹی ایک سلجھی ہوئی سیاست کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اپنے لوگوں کے حقوق کی حفاظت کر رہی ہے۔ سندھ میں سات کروڑ لوگ بستے ہیں۔ سندھ کے لوگوں کو پتہ ہے پیپلز پارٹی والے مر جائیں گے لیکن سندھ کے مفاد میں کوئی سودا نہیں کریں گے۔ کوئی عقلمند انسان عظمیٰ بخاری جیسا بیان نہیں دے سکتا، اگر عظمیٰ بخاری کو پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو بیٹھ کر حل کریں نہ کہ غلط بیانات دیں۔ پی ٹی آئی نے ان مدرسوں کو فنڈنگ کی جن کے ذریعے دہشت گردی کو پھیلایا گیا، پی ٹی آئی نے کہا طالبان کے دفاتر یہاں کھولے جائیں۔ پی ٹی آئی کے لیے دعا ہے کہ اللہ انہیں بچا کر رکھے، ہمارے قائدین اور ورکرز کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی نے کہا تھا پی ٹی آئی سے بات کرنے کو تیار ہیں، پی ٹی آئی نے منع کر دیا، پیپلز پارٹی چاہتی ہے صوبے چلیں کام ہو۔ مشکل حالات میں بھی پیپلز پاٹی نے پاکستان مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کا وفد وزیر اعظم سے مل چکا ہے، پیپلز پارٹی واضح پیغام دے چکی ہے کہ کینالز پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ہم نے ہر فورم پر کینالز مسئلے پر بات کی، خطوط بھی لکھے، ہمیں امید ہے کینالز مسئلے پر پیپلز پارٹی سرخرو ہو گی۔ ہم پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ زرادری نے اپنا سارا پاور پارلیمنٹ کو دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کبھی نہیں گھبرائی، سندھ کے حقوق کے لیے جو زرداری نے کیا وہ کسی نے نہیں کیا، وزیر اعظم سے اپیل ہے پاکستان کو مضبوط کریں اور کینالز کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسلم لیگ ن کے ناسمجھ لوگ آئین پڑھے بغیر بیان دے دیتے ہیں: شرجیل میمن
  • پیپلز پارٹی کینالز کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی، شرجیل میمن
  • شرجیل انعام میمن کا پیپلز پارٹی کے موقف کی وضاحت اور کینالز پر استقامت کا عزم
  • مسلم لیگ (ن) کے نہ سمجھ لوگ آئین نہیں پڑھتے اور بیان دے دیتے ہیں، شرجیل میمن
  • مسلم لیگ (ن) کے نہ سمجھ لوگ آئین نہیں ہڑھتے اور بیان دے دیتے ہیں، شرجیل میمن
  • سسٹم میں پانی نہیں تو یہ کینالز کیسے بنارہے ہیں؟ وزیر آب پاشی سندھ کا سوال
  • کینالز کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • کینال تنازع: پیپلز پارٹی نے پیچھے نہ ہٹنے کا فیصلہ کرلیا
  • نہروں پر سیاست سندھ کا کام ہے، پیپلزپارٹی گھر کی لڑائی میڈیا پر لڑنے کی کوشش نہ کرے، عظمیٰ بخاری