جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مرکزی مجلس عاملہ کا تین روزہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
تنظیم کے آئندہ مستقبل اور فعالیت کے حوالے سے اہم فیصلہ جات کئے جائیں گے، اجلاس سے خصوصی خطاب قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے اعلیٰ سطحی ادارے مرکزی مجلس عاملہ کا تیسرا اجلاس جمعہ سے کراچی میں شروع ہوگیا ہے، جس میں ملک بھر سے اراکین مجلس عاملہ شرکت کر رہے ہیں اور ہمہ وقت مرکزی مجلس نظارت جے ایس او پاکستان کا اہم اجلاس بھی منعقد ہوگا، دونوں اجلاسات میں تنظیم کے آئندہ مستقبل اور فعالیت کے حوالے سے اہم فیصلہ جات کئے جائیں گے، اجلاس سے خصوصی خطاب قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کریں گے۔
.ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سانحہ چلاس کے متاثرین کو 13 سال بعد بھی انصاف نہ ملنا ریاست کے اوپر سوالیہ نشان ہے، انجمن امامیہ گلگت
مرکزی انجمن امامیہ نے پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ سانحے میں قتل کیے گئے مسافروں کی شناخت ریاستی اداروں کے جاری کردہ شناختی کارڈز سے کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا قتل ایک سنگین ریاستی چیلنج بن کر ابھرا۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر نے ملکی سالمیت اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ملت جعفریہ کے شہداء نے اپنے خون سے اس سازش کو ناکام بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 3 اپریل 2012ء کو چلاس میں پیش آنے والے اندوہناک سانحے کو 13 سال گزر چکے ہیں، مگر آج تک اس کے متاثرین کو انصاف نہ مل سکا۔ ریاستی اداروں کی ناک کے نیچے درجنوں نہتے مسافروں کو بے دردی سے سنگسار کیا گیا، لیکن واضح فوٹیجز اور شناخت کے باوجود قاتلوں اور سازشی عناصر کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔ مرکزی انجمن امامیہ نے پریس ریلیز میں مزید کہا ہے کہ سانحے میں قتل کیے گئے مسافروں کی شناخت ریاستی اداروں کے جاری کردہ شناختی کارڈز سے کی گئی تھی، جس کے بعد ان کا قتل ایک سنگین ریاستی چیلنج بن کر ابھرا۔ مٹھی بھر شرپسند عناصر نے ملکی سالمیت اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن ملت جعفریہ کے شہداء نے اپنے خون سے اس سازش کو ناکام بنایا۔ سانحے کے متاثرین اور ان کے لواحقین نے ریاست سے انصاف کا تقاضہ کیا، لیکن 13 سال گزرنے کے باوجود صرف روایتی بیانات سامنے آئے اور کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں شیعہ برادری کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کیوں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی؟ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات کے مطابق، ملک میں دیرپا امن صرف تب ہی ممکن ہے جب دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ سانحہ چلاس جیسے واقعات کے بعد بھی مسلح جتھے ان علاقوں میں متحرک ہیں، جو ایک سنگین خطرہ ہے۔ انجمن نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی قوت کو بروئے کار لا کر ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کا سدباب ہو سکے۔ سانحے کے دوران جہاں کچھ جتھے نہتے مسافروں پر حملہ آور تھے، وہیں کچھ باشعور اور انسان دوست افراد نے متاثرین کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم، انصاف کی عدم فراہمی ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو آج بھی ریاستی نظام پر اٹھایا جا رہا ہے۔