حکومت نے 5 احتساب عدالتیں ختم کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
لاہور: وفاقی حکومت نے لاہور کی 5 احتساب عدالتیں ختم کر کے ان کو دیگر عدالتوں میں منتقل کر دیا۔ احتساب عدالت نمبر 1 کو التیجکوئل پراپرٹی ٹربیونل، نمبر 8 کو التیجکوئل پراپرٹی ٹربیونل 3 اور نمبر 3 کو اسپیشل کورٹ کسٹم ملتان میں منتقل کر دیا گیا۔ اسی طرح، احتساب عدالت نمبر 6 کو اسپیشل کورٹ کسٹم لاہور جبکہ نمبر 7 کو اسپیشل کورٹ سنٹرل گجرات میں منتقل کر دیا گیا۔ گزشتہ سال فروری میں پشاور کی چار احتساب عدالتوں کو ختم اور دیگر چار کورٹس قائم کی گئی تھیں۔ ان عدالتوں کی جگہ دو اینٹی نارکوٹکس، ایک ایف آئی اے اور ایک بینکنگ کورٹ قائم کی گئی تھی، چاروں عدالتوں میں ججز بھی تعینات کیے گئے تھے۔ جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ دو اینٹی نارکوٹکس کورٹس پشاور میں کام کریں گی، ایک عدالت اینٹی کرپشن امیگریشن ایبٹ آباد اور بینکنگ کورٹ ڈی آئی خان میں قائم کی گئی تھی
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گلگت، محکمہ اینٹی کرپشن کے دو افسران کیخلاف کرپشن کے الزام کی تحقیقات کا آغاز
شہری نے شواہد کے ساتھ یہ انکشاف کیا کہ وہ ان افسران کو بڑی رقم ادا کر چکا ہے اور اس کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان میر وقار احمد نے اس بدعنوانی کے کیس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ اینٹی کرپشن گلگت بلتستان کے دو افسران کیخلاف کرپشن کے الزام کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔ شہری کی شکایت پر تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان نے محکمے کے دو افسران کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے جن پہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ رشوت لینے میں ملوث پائے گئے ہیں، شہری کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے ان افسران کے خلاف بھاری رشوت طلب کرنے اور ہراساں کرنے کے سنگین الزامات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ شہری نے شواہد کے ساتھ یہ انکشاف کیا کہ وہ ان افسران کو بڑی رقم ادا کر چکا ہے اور اس کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ گلگت بلتستان میر وقار احمد نے اس بدعنوانی کے کیس پر فوری ایکشن لیتے ہوئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ملوث افسران کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن میں ملوث سرکاری اہلکاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے خبردار کیا کہ کوئی بھی سرکاری اہلکار اگر بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اسے سخت ترین قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھائیں اور کسی بھی غیر قانونی مطالبے کی فوری اطلاع اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو دیں تاکہ کرپٹ عناصر کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ محکمے میں بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دریں اثناء ڈائریکٹر جنرل میر وقار نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو بدعنوانی اور کرپشن سے پاک کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔