امریکا کی جانب سے نیا ٹیرف باقاعدہ فارمولے کے تحت ہے، سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے نیا ٹیرف سسٹم باقاعدہ فارمولے کے تحت ہے جو تمام ممالک پر یکساں اصولوں کی بنیاد پر لاگو ہوتا ہے۔
امریکی ریاست اوکلاہوما میں پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ” اپنا“ کے اسپرنگ کنونشن کے موقع پر امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں امریکا اور پاکستان کے تجارتی تعلقات، داخلی سیاست، سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں اور دیگر اہم امور پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے جو نیا ٹیرف سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، وہ ایک باقاعدہ فارمولے کے تحت ہے جو تمام ممالک پر یکساں اصولوں کی بنیاد پر لاگو ہوتا ہے، تاہم ہر ملک کی برآمدات، مصنوعات اور تجارتی حجم مختلف ہونے کی وجہ سے اس پالیسی کے اثرات بھی ہر ملک پر مختلف ہوتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں پر یہ ٹیرف مختلف شرح سے لاگو ہوئے ہیں۔ امریکا ایک وسیع و عریض منڈی ہے جس کی طلب کو کوئی ایک ملک یا چند ممالک بھی مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے۔ جنوبی ایشیائی ممالک، خصوصاً پاکستان اور بھارت، اس طلب کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ یہ امریکی حکومت، بالخصوص صدر کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ مقامی صنعت کو فروغ دے کر زیادہ سے زیادہ روزگار پیدا کریں۔ اسی مقصد کے تحت یہ ٹیرف متعارف کروائے گئے ہیں۔ تاہم، پاکستان اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے امریکی اسسٹنٹ ٹریڈ رپریزنٹیٹو سے ملاقات کی ہے جس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ایسی نرمی حاصل کی جائے جو دونوں ممالک کےلیے تجارتی لحاظ سے مفید ہو۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی پالیسی کے حوالے سے تقابلی جائزے کو انہوں نے غیر موزوں قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی اپنی مخصوص مصنوعات، پالیسیز اور تجارتی حکمت عملی ہوتی ہے۔ اگرچہ بھارت آئی ٹی کے شعبے میں ایک مستحکم حیثیت رکھتا ہے، پاکستان بھی اب ایک ابھرتا ہوا مثبت کھلاڑی بن کر سامنے آ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چاہیے وہ اپنی پیداواری صلاحیت، قومی مفاد اور مہارت کو مدِنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر تعلقات قائم کرے، نہ کہ یہ سوچے کہ دوسرے ممالک کیا کر رہے ہیں؟ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے جس کی آبادی 25 کروڑ سے زائد ہے اور اس کی پالیسیاں اس کی اپنی قومی ضرورتوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔
امریکا میں پی ٹی آئی سے منسلک افراد کی سرگرمیوں اور قانون شکنی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ قانون کی پاسداری لازمی ہے۔ اگر کوئی شخص امریکی یا کسی بھی ملک کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس سے قانون کے مطابق ہی نمٹا جانا چاہیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ بطور سفیر وہ بین الاقوامی اور داخلی قوانین کے احترام کو ضروری سمجھتے ہیں اور یہی طرزِ عمل دنیا کو منظم اور پُرامن سمت میں لے جا سکتا ہے۔
پاکستانی سیاست کے اثرات اور امریکا میں سرگرمیوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست اس کا داخلی معاملہ ہے اور ہر ملک کی طرح پاکستان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے داخلی معاملات خود حل کرے، کسی بھی بیرونی مداخلت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے امریکا کی کانگریس میں پاکستان سے متعلق پیش کیے گئے بل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں ہر سال ہزاروں بل پیش کیے جاتے ہیں جن میں سے صرف چند ہی قانون کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت پرانے اور مضبوط ہیں اور انہیں مزید مستحکم کرنا پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ موجودہ امریکی صدر نے بھی اپنی ابتدائی تقریر میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا جو ایک مثبت اشارہ ہے۔
امریکا میں بانی پی ٹی آئی کی حمایت میں جاری تحریک کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات ہر ملک کے داخلی معاملات ہوتے ہیں۔ اگر امریکا میں کچھ افراد بانی پی ٹی آئی کی حمایت کر رہے ہیں تو یہ پاکستان کی اندرونی سیاست سے تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان بیرونی مداخلت کا قائل نہیں اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے۔ ہر ملک کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا حق حاصل ہے۔
اس سوال پر کہ کیا امریکی کانگریس میں پیش کیا گیا بل پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے زمرے میں آتا ہے؟ سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ اگر پاکستان کے داخلی معاملات پر کسی بھی سطح پر بات کی جائے، تو یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے جو دنیا کے ایک پیچیدہ اور حساس خطے میں 75 برس سے قائم ہے۔ پاکستان کو نہ صرف اپنے مسائل کا سامنا کرنا آتا ہے بلکہ وہ اپنی خودمختاری کا دفاع بھی بخوبی کرنا جانتا ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سفیر رضوان سعید شیخ نے ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کہ پاکستان پاکستان کی امریکا میں پاکستان کے امریکا کی نے کہا کہ انہوں نے ہر ملک کے تحت
پڑھیں:
ٹرمپ ٹیرف پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بڑھانے کیلیے موقع
اسلام آباد:امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جو اس ٹیرف کو امریکا کو ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
امریکا نے پاکستانی اشیا پر 29 فیصد ٹیرف لگایا ۔ امریکا اور چین کے درمیان ٹیرف کی جنگ پاکستانی مصنوعات جیسے مکئی، گوشت اور کھیلوں کے سامان کے لیے مزید راستے کھولنے والی ہے۔
تفصیل کے مطابق امریکا کو پاکستانی برآمدات میں گارمنٹس کا حصہ 3.2 بلین ڈالر ہے، ہوم ٹیکسٹائل 1.5 بلین ڈالر ہے۔
مزید پڑھیں: غلط پالیسیوں کی وجہ سے ٹیکسٹائل اسپننگ ملیں بند ہونے کے خدشات
بنگلہ دیش گارمنٹس کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مقابلہ کرتا اور چین گھریلو ٹیکسٹائل میں کلیدی حریف ہے۔ چین کے لیے 54فیصد اور بنگلہ دیش پر 37فیصد ٹیرف لگایا گیا۔گارمنٹس میں پاکستان کو بنگلہ دیش سے 8 فیصد فائدہ ہے اور گھریلو ٹیکسٹائل میں چین کے مقابلے میں 25فیصد فائدہ ہوا ہے۔
بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان کے لیے کچھ شعبوں میں ابھی بھی امریکی ٹیرف میں چھوٹ ہے۔ پاکستان نے امریکہ کو 130 ملین ڈالر مالیت کی پلاسٹک PET برآمد کی تھی اور اس زمرے میں ڈیوٹی کی چھوٹ برقرار ہے۔
مزید پڑھیں: ٹیکسٹائل سیکٹر میں بہتری کے لیے حکومت کو تجاویز پیش
پاکستان پر امریکی محصولات کے کل اثرات کا تخمینہ 600 سے ٓ700ملین ڈالر کا لگایا گیا ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو تجارتی رخ تبدیل کرنے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ مکئی پیدا کرنے والا بڑا ملک اور چین اس کا اہم خریدار ہے۔ ان دونوں کے درمیان ٹیرف کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کے پاس چینی مارکیٹ کا حصہ حاصل کرنے کا موقع ہے۔ اسی طرح پاکستان چین کو گوشت کی برآمدات کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ وزارت تجارت کے ایک عہدیدار نے کہا ملک میں ڈالر کا کوئی بحران نہیں ہوگا۔