سی ڈی اے میں تقرر و تبادلے ،، من پسند آفیسران کو ایک سے زائد عہدوں پر نوازنے کی روش برقرار ، کس کس کو کون کونسے مزید عہدے مل گئے ، دستاویز سب نیوز پر ۔۔۔۔
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
سی ڈی اے میں تقرر و تبادلے ،، من پسند آفیسران کو ایک سے زائد عہدوں پر نوازنے کی روش برقرار ، کس کس کو کون کونسے مزید عہدے مل گئے ، دستاویز سب نیوز پر ۔۔۔۔ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے ،، من پسند آفیسران کو ایک سے زائد عہدوں پر نوازنے کی روش برقرار رکھی گئی ہے۔سب نیوز کو دستیاب تقرر و تبادلوں کے تحریری احکامات کے مطابق گریڈ 19کے ڈائریکٹر آصف مجید کو ڈائریکٹر ایونٹ اربن تھری تعینات کر دیا گیا ہے وہ اس سے قبل تعیناتی کے منتظر تھے۔گریڈ 18کے فہد جاوید کو ڈائریکٹر میگا پارکس اوپی ایس ،ڈپٹی ڈائریکٹر اختر رسول کو ڈائریکٹر انوائرمنٹ ایسٹ سے ڈائریکٹر ایونٹ اربن ون،تھری اور نرسری،ڈپٹی ڈائریکٹر رانا کاشف کو ڈائریکٹر انوائرمنٹ ویسٹ سے ڈپٹی ڈائریکٹر زو،محمد بلال خلجی کو ڈائریکٹر زو اور ڈی ڈی فاریسٹ سے ڈائریکٹر فورسٹ اور ڈائریکٹر ایونٹ،ادریس انجم کو ڈائریکٹر ایونٹ اربن 2کے ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹرای پی سی کا چارج دیدیا گیا۔
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حماد اظہر نے پی ٹی آئی میں تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا
پشاور(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے سیکریٹری جنرل اور قائم مقام صدر حماد اظہر نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ حماد اظہر نے اعلان کیا کہ وہ پی ٹی آئی کے تمام عہدے چھوڑ رہے ہیں اور آئندہ بطور کارکن اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اپنے بیان میں حماد اظہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سینیٹر اعظم سواتی نے بتایا کہ عالیہ حمزہ کو کام کرنے میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے پوچھنے پر اعظم سواتی نے ان کا نام لیا۔
حماد اظہر کے مطابق جب انہوں نے عالیہ حمزہ سے استفسار کیا تو انہوں نے کسی بھی رکاوٹ پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا آسان حل موجود ہے، کیونکہ ان کے اختیارات پہلے ہی چار ریجنل صدور کو جون 2024 میں منتقل کیے جا چکے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے حلقے کی تنظیم بھی ان کی مشاورت یا مرضی کے بغیر بنائی گئی۔
حماد اظہر نے بتایا کہ وہ پہلے بھی دو بار استعفیٰ دے چکے تھے، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اب وہ تیسری اور حتمی بار عہدہ چھوڑ رہے ہیں اور یہ استعفیٰ ناقابل واپسی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ وہ کسی بھی پارٹی عہدے کے خواہشمند نہیں ہیں لیکن بطور کارکن اپنے قائد کے لیے کام کرتے رہیں گے۔