افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ دہشتگردوں کے زیرقبضہ ،ہتھیار پاکستانی شہریوں اور مسلح افواج کیخلاف استعمال ہورہے ہیں، پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس )پاکستان نے عالمی برادری سے دہشتگردوں کے زیرقبضہ ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آریا فارمولا اجلاس میں پاکستان نے نام نہاد بلوچ لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گردوں گروپوں کے جدید اور مہلک غیرقانونی ہتھیاروں کے حصول اور استعمال پرتشویش کا اظہار کیا۔پاکستانی مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد گروپوں کے پاس افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے غیر قانونی ہتھیار موجود ہیں۔

پاکستان کے شہریوں اور مسلح افواج کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ دہشتگرد تنظیموں کو مخالف ملک کی بیرونی امداد اور مالی معاونت بھی حاصل ہے۔پاکستانی قونصلر نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی شراکت دار افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کے ذخیریکو بازیاب کروائیں اور دہشتگرد گروپوں کی ہتھیاروں تک رسائی کو روکا جائے۔ غیرقانونی ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ کو بند کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: افغانستان میں

پڑھیں:

امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے محصولات کو  ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، چینی حکومت 

بیجنگ :حال ہی میں، امریکہ نے مختلف بہانوں سے چین سمیت اپنے تمام تجارتی شراکت داروں پر غلط انداز میں محصولات عائد کیے ہیں، جو نہ صرف تمام ممالک کے جائز حقوق و  مفادات  اور عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ  قوائد  پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام  اور عالمی معاشی نظام کے استحکام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں.چینی حکومت اس کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔ امریکہ کا یہ عمل بنیادی معاشی قوانین اور مارکیٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، کثیر الجہتی تجارتی مذاکرات میں طے پانے والے مفادات کے توازن کے نتائج کو نظر انداز کرتا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ امریکہ نے طویل عرصے سے بین الاقوامی تجارت سے بڑے منافع کمائے ہیں۔

 

امریکہ انتہائی  دباؤ ڈالنے اور اپنے مفادات کے حصول کے لئے محصولات کو  ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، جو سراسر  یکطرفہ ، تحفظ پسندی اور معاشی غنڈہ گردی کا  عمل ہے. امریکہ “برابری” اور “انصاف” کے نام نہاد تعاقب کے جھنڈے تلے زیرو سم گیمز میں مصروف ہے، جو بنیادی طور پر “امریکا فرسٹ” اور “امریکہ استثناء” کا تعاقب ہے،محصولات کے ذریعے موجودہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظام کو تباہ کر رہا ہے، امریکہ اپنے مفادات کو بین الاقوامی برادری کے عوامی مفادات سے بالا رکھتا ہے، اور دنیا کے تمام ممالک کے جائز مفادات کی قیمت پر امریکی بالادستی کے مفادات کی خدمت کر رہا ہے۔اس کی  بین الاقوامی برادری کی جانب سےیقیناً  مخالفت کی جائے گی۔ چین قدیم تہذیب اور آداب کا حامل ملک ہے۔ چینی عوام لوگوں کے ساتھ خلوص اور اعتماد کے ساتھ سلوک کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ ہم افراتفری  پیدا نہیں کرتے، نہ ہی ہم اس سے  ڈرتے ہیں۔ دباؤ اور دھمکیاں چین کے ساتھ صحیح  سلوک نہیں ہیں.

 

چین نے اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ چین اور امریکہ کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی بنیاد باہمی  فائدے اور مشترکہ کامیابیوں پر مبنی ہونی چاہئے۔ امریکہ کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک اور دنیا کے عوام کی مشترکہ توقعات  کے مطابق  دونوں ممالک کے بنیادی مفادات کے تحفظ کے  لئے  چین کی معیشت اور تجارت کو دبانے کے سلسلے میں  محصولات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بند کرے اور چینی عوام کے جائز ترقیاتی حقوق کو پامال کرنا بند کرے۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور اشیاء کے لئے دوسری سب سے بڑی صارف مارکیٹ کی حیثیت سے ، چاہے بین الاقوامی صورتحال میں کتنی ہی  تبدیلیاں رونما کیوں نہ ہوں ، بیرونی دنیا کے لئے چین کے دروازے  وسیع  سے وسیع  تر ہیں اور ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔  ہم اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو فروغ دینا جاری رکھیں گے، قواعد و ضوابط، انتظام اور معیارات کے لحاظ سے ادارہ جاتی کھلے پن کو مسلسل وسعت دیں گے، اعلیٰ سطح کی تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی پالیسیوں کو نافذ کریں گے، ایک فرسٹ کلاس کاروباری ماحول تخلیق کریں گے جو مارکیٹ پر مبنی، قانون پر مبنی اور بین الاقوامی نوعیت کا ہو تاکہ باہمی فائدے اور جیت کے نتائج حاصل کرنے کے لیے دنیا کے ساتھ ترقی کے مواقع  کا اشتراک کیا جائے۔

 

اقتصادی گلوبلائزیشن ہی انسانی معاشرے کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔ ڈبلیو ٹی او کی مرکزیت اور قواعد پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام  نے عالمی تجارتی ترقی، اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ کھلا پن اور تعاون زمانے کا رجحان ہے، اور دنیا کو کبھی بھی  تنہائی اور علیحدگی کی حالت میں واپس نہیں جانا چاہیئے اور نہ ہی واپس جائے گی. باہمی فائدے اور جیت کے نتائج عوام کی امنگیں ہیں ۔   بیگر دا نیبر پالیسی  اور ہمسایہ ممالک کی معاشی غنڈہ گردی بالآخر خود کو نقصان پہنچائےگا۔ یہ بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقتصادی گلوبلائزیشن کو زیادہ کھلی، جامع، باہمی فائدہ منداور متوازن سمت میں فروغ دے۔ ترقی دنیا کے تمام ممالک کا  حق ہے نہ کہ چند ممالک کا۔ بین الاقوامی معاملات کو تمام ممالک کو مشترکہ مشاورت کے ذریعے سنبھالنا چاہئے اور دنیا کا مستقبل اور تقدیر تمام ممالک کے مشترکہ کنٹرول میں ہونی چاہئے۔ تجارتی جنگوں اور ٹیرف جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا ، اور تحفظ پسندی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ تمام ممالک کو وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فوائد کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے حقیقی کثیر الجہتی کی پاسداری کرنی چاہئے، ہر قسم کی یکطرفہ تحفظ پسندی کی مشترکہ طور پر مخالفت کرنی چاہئے، اور  اقوام  متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام   اور عالمی تجارتی تنظیم کی مرکزیت پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام برقرار رکھنا چاہیئے۔ ہمیں یقین ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک جو عدل و انصاف پر یقین رکھتے ہیں، تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے ہو کر اپنے مفاد کے مطابق  انتخاب کریں گے ۔ دنیا کو غنڈہ گردی کی بجائے  انصاف  کی ضرورت ہے!

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے محصولات کو  ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، چینی حکومت 
  • ٹی ٹی پی اور بی ایل اے امریکی ہتھیار ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں، پاکستان
  • پاکستان کا عالمی برادری سے دہشتگردوں کے زیرقبضہ ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستان کا دہشت گردوں کے ہتھیاروں کے حصول اور استعمال پر اظہار تشویش
  • عالمی برادری افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہونے کیخلاف کارروائی کرے، پاکستان
  • پاکستان کا دہشتگردگروہوں کے زیر قبضہ ہتھیاروں کیخلاف عالمی اقدام کا مطالبہ
  • افغانستان اور پاکستان میں سوویت اور نیٹو کے اسلحے کی تجارت تاحال جاری
  • افغانستان اور پاکستان میں امریکی اسلحے کی تجارت کا انکشاف
  • کابل فال کے وقت افغان ایئر فورس طالبان کے خلاف امریکی ایئر کرافٹس کیوں استعمال نہیں کرپائی؟