اسلام آباد:

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کل(پیر)سے شروع ہوں گے۔

آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں  30 محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کرے گا علاوہ ازیں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے تخمینہ جات کے حوالے سے بھی امور کا جائزہ لے گا۔

وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے 2 ماہ میں پاکستان میں گورننس میں بہتری اور کرپشن کے خاتمے کے لیے دوسرا وفد پاکستان بھجوایا ہے، جو  گورننس، بدعنوانی کے تشخیصی جائزے کی تیاری کے لیے ابتدائی کام مکمل کرے گا۔

مشن کا مقصد 6 بنیادی ریاستی افعال میں گورننس، بدعنوانی کے خطرات کا ابتدائی جائزہ لینا ہے، جن میں مالیاتی شعبے کی نگرانی، مارکیٹ ضوابط، قانون کی حکمرانی اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن تقریباً 30 محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کرے گا۔وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، منصوبہ بندی کمیشن، نجکاری کمیشن، آڈیٹر جنرل، نیب، ایف آئی اے، اوگرا و دیگر حکام سے بھی مذاکرات ہوں گے۔

آئی ایم ایف کا وفد بینکنگ سیکٹر اور کنسٹرکشن کے شعبے میں مسابقت کا بھی جائزہ لے گا۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کے لیے

پڑھیں:

دہشتگردی کا خاتمہ… ترقی وخوشحالی کا ضامن

پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی جو صورت حال ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے اربابِ اختیار کا عزم اور حکومت کی پالیسی کے بارے میں بھی کوئی ابہام نہیں ہے۔ دہشت گردی کی جو جہتیں اور پرتیں ہیں، وہ بھی آہستہ آہستہ کھل رہی ہیں۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو پروان چڑھانے کی جو وجوہات ہیں وہ بھی خاصی حد تک منظرعام پر آ چکی ہیں۔ گزشتہ روز پاک فوج کے سربراہ کی زیرصدارت کورکمانڈر کانفرنس ہوئی ہے۔ اس میں بھی ہر قیمت پر بلا تفریق دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

میڈیا میں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر صدارت 268 ویں کور کمانڈر کانفرنس نے مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لیے شہدائے افواج ِ پاکستان ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ فورم کو خطے کی موجودہ صورت حال، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں پاکستان کی حکمتِ عملی کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔ کانفرنس میں علاقائی اور داخلی سلامتی کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

فورم نے ہرقیمت پر بلاتفریق دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے ملک دشمن عناصر ، سہولت کاروں اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی، کسی کو بھی بلوچستان میں امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بلوچستان کے استحکام اور خوش حالی میں خلل ڈالنے والے مذموم سیاسی مفادات اور سماجی عناصر کو بلوچستان کے عوام کی غیر متزلزل حمایت سے فیصلہ کن طور پر ناکام بنایا جائے گا۔ بلوچستان میں تمام ملکی اور غیرملکی عناصر کا اصل چہرہ، گٹھ جوڑ اور انتشار پھیلانے اور پروان چڑھانے کی کوششیں پوری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہیں۔کور کمانڈرز کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ ایسے عناصر اور ایسی کوششیں کرنے والوں کوکسی بھی قسم کی معافی نہیں دی جائے گئی ۔

فورم نے نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار کے تحت’’ عزمِ استحکام‘‘ کی حکمتِ عملی کے تیز اور موثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ فورم نے دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کے تعاون سے مشترکہ نقطہ نظر کی اہمیت کو بھی اْجاگر کیا ۔شرکاء کانفرنس نے اعادہ کیا کہ ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون پر پوری استقامت سے عمل درآمد کریں گے، قانون کی عملداری میں کسی قسم کی نرمی اور کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔

آرمی چیف نے پاکستان بھر میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم شدہ ضلعی رابطہ کمیٹیوں کے آغاز کو بھی سراہا۔آرمی چیف نے بغیر کسی رکاوٹ کے نیشنل ایکشن پلان کے تیز نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں حکومتی ہدایات کے مطابق تمام ادارے پائیدار ہم آہنگی ، مربوط کوششوں اور تعاون کو یقینی بنائیں۔ پاک فوج حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردوں کی مالی اعانت کے خلاف سخت قانونی اقدامات میں مکمل تعاون فراہم کرے گی، غیر قانونی سر گرمیاں دہشت گردی کی مالی معاونت سے اندرونی طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔

حالیہ عرصے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف خاصی نتیجہ خیز کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کو خاصا نقصان ہوا ہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کو پروموٹ کرنے والے خیالات ونظریات کو مسترد کیا جائے۔ دہشت گردوں کی جب تک فنانس لائف لائن موجود ہے، اس وقت تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ بلوچستان میں دہشت گرد ایک منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی ان کی اسٹرٹیجی واضح نظر آتی ہے۔

پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ جو علاقے ہیں، وہ دہشت گردوں کے لیے سازگار ہیں۔ افغانستان کی حکومت اس قابل نہیں ہے کہ وہ پورے افغانستان میں اپنی رٹ قائم کر سکے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی عبوری حکومت میں شامل مختلف گروہ اپنے اپنے مفادات کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ افغانستان کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہ ایک ریاست سے زیادہ بے آئین علاقہ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایک ایسا علاقہ جہاں آج بھی وار لارڈز کا کنٹرول ہے۔ ایسی صورت میں دہشت گرد اور انتہاپسند گروہوں کے لیے یہ علاقہ محفوظ پناہ گاہ کے لیے آئیڈیل ہے۔ پاکستان کے لیے یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ماضی میں کیپٹل ازم اور سوشلزم کے درمیان جو نظریاتی چپقلش جاری رہی، اس کی وجہ سے افغانستان، ایران اور پاکستان میں دائیں بازو کے نظریات اور سوچ کو سرکاری سرپرستی حاصل رہی ہے۔ اس وجہ سے اس پورے خطے میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ نے جنم لیا اور کولڈ وار کی وجہ سے اس مائنڈ سیٹ نے سیاست، معیشت اور معاشرت پر بالادستی حاصل کر لی۔ آج ان تین ملکوں میں دائیں بازو کی سوچ طاقت ور حلقوں تک میں موجود ہے۔ بہرحال اب چونکہ کولڈ وار ختم ہو چکی ہے اور دنیا میں نئے نظریات اور صف بندیاں ہو رہی ہیں، اس تناظر میں پاکستان نے بھی لازمی طو رپر تبدیل ہونا ہے۔

امریکا میں ٹرمپ کی شکل میں جو سوچ پیدا ہوئی ہے، اس نے عالمی تجارت کو خاصی حد تک متاثر کیا ہے۔ اس کے اثرات پوری دنیا کے ممالک پر پڑ رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی نئے حالات کا سامنا ہے۔ ان حالات میں انتہاپسندی کا کلچر مسائل کو زیادہ پیچیدہ اور گھمبیر بنا رہا ہے۔ پاکستان میں جو مخصوص گروہ اور مائنڈسیٹ انتہاپسندی کو پروموٹ کرنے میں مصروف ہے، وہ درحقیقت پاکستان کے مفادات کے برعکس کام کر رہا ہے۔ پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے یہاں امن کا قیام، جمہوری اقدار کی پاسداری اور آئین وقانون کی حکمرانی قائم کرنا لازم ہو چکا ہے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں چونکہ سماجی سیٹ اپ اس قسم کا ہے کہ یہاں معاشی تقسیم کی مختلف تہیں نہیں ہیں۔ یا تو بالادست طبقہ ہے اور دوسرا وہ طبقہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سماج کے خدوخال قدیم قبائلی اور سرداری اقدار اور روایات کو لیے ہوئے ہیں۔ تعلیم کا فقدان ہے، انفرااسٹرکچر کی کمی ہے، حکومتی سسٹم بھی قبائلی وڈیروں اور سرداروں کے زیرنگیں ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیاں اور کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ درمیانے طبقہ کا وجود نہیں ہے۔

صوبائی حکومتوں کی جوابدہی کی روایت بھی موجود نہیں ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو جو مالی اور انتظامی اختیارات ملے ہیں، اس کے مقابلے میں اگر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو وہ انتہائی کم ہے۔ علاقائی سیاست بھی قبیلوں کے درمیان تقسیم ہے۔ اس قسم کی سیاست بھی مسائل کو پیدا کرنے کا سبب ہے۔ ملک کی مین اسٹریم پاپولر پارٹیز کا تنظیمی ڈھانچہ بھی قبائلی اور سرداری نظام کے گرد گھومتا ہے۔ اس وجہ سے بھی غیرقانونی سرگرمیوں کو روکنا خاصا مشکل کام ہو چکا ہے۔

اس قسم کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے وفاق پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کو غیرمعمولی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومتوں کے حوالے سے بھی سرکاری خزانے کے اخراجات اور خرچ کا کوئی ایسا میکنزم تیار ہونا چاہیے، جس سے پتہ چل سکے کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کا تخمینہ اور حجم کتنا ہے اور ان محکموں کی کارکردگی کیا ہے۔ صوبے کے ٹیکس ریونیوز کی وصولی کی شرح کیا ہے اور کتنا ٹیکس اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ماضی کی روایت کی پاسداری جاری رہے اور سرکاری اخراجات کا کوئی حساب اور تخمینہ نہ ہو۔

پارلیمنٹیرینز اور سیاسی قیادت کو بھی اپنے طرزعمل اور سیاسی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا۔ ماضی کی سیاست اب نہیں چل سکتی۔ صوبائی منافرت پھیلانے سے بھی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ہر صوبے کو اعداد وشمار سامنے رکھ کر اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بات کرنی ہو گی۔ اب چونکہ سردجنگ کا دور تبدیل ہو چکا ہے، ترقی یافتہ ملکوں سے امدادیں اور گرانٹس بھی ماضی کی طرح نہیں مل سکتیں۔ محض وفاق کو نشانہ بنانے سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ قوم پرستی کی سیاست کا یہ مطلب نہیں کہ کسی ایک صوبے یا مخصوص کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلائی جائے۔

قوم پرستی کی سیاست کا مطلب اپنی قوم کے لیے ترقی کی منصوبہ بندی کرنا اور اس پر وسائل خرچ کرنا ہے۔ دہشت گردی پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ صوبوں کے لیے بھی ترقی کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں دہشت گردی کی تمام شکلوں کی بیخ کنی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
 

متعلقہ مضامین

  • گورننس میں بہتری اور کرپشن کا خاتمہ، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کل شروع ہونگے
  • دہشتگردی کا خاتمہ… ترقی وخوشحالی کا ضامن
  • پاکستان میں آئی ایم ایف مشن کا دورہ گورننس میں بہتری اور بدعنوانی کے خاتمے پر توجہ
  • آئی ایم ایف 30 محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کیلئے مذاکرات کرے گا
  • گورننس میں بہتری: آئی ایم ایف کا دوسرا جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا
  • آئی ایم ایف وفد کی پاکستان آمد، بجٹ، گورننس، اخراجات میں کمی پر مذاکرات ہونگے
  • آئی پی پیز کیساتھ مذاکرات سے 3696 ارب کی بچت ہوئی: اویس لغاری
  • آئی ایم ایف وفد پاکستان پہنچ گیا، گورننس اور بجٹ پر مذاکرات ہوں گے
  • آئی ایم ایف کا وفد گورننس اور کرپشن جائزے کیلئے پاکستان پہنچ گیا