مظفر گڑھ سے 19 افغان باشندے طورخم بارڈر روانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
فائل فوٹو
مظفر گڑھ سے 19 افغان باشندوں کو تحویل میں لے کر ڈی پورٹ کرنے کے لیے طورخم بارڈر روانہ کر دیا گیا۔
مظفر گڑھ میں بھی افغان شہریوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری ہے۔
31 مارچ کی مہلت ختم ہونے کے بعد ضلع مظفر گڑھ سے بھی افغان شہریوں کو تحویل میں لیا جا رہا ہے۔
چمن میں آج باب دوستی پر افغان شہریوں کا بائیو میٹرک کیا جائے گا، لنڈی کوتل میں بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کیمپ میں کام جاری ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر مظفر گڑھ عرفان ہنجراہ کے مطابق اب تک کی کارروائی کے دوران 19 افغان شہریوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے، تحویل میں لیے جانے والے افغان شہریوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر مظفر گڑھ نے بتایا ہے کہ افغان شہریوں کو ضروری جانچ پڑتال کے بعد افغانستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے طورخم بارڈر پر روانہ کر دیا گیا۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افغان شہریوں تحویل میں مظفر گڑھ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا سے کسی افغان باشندے کو زبردستی نہیں نکالوں کا، علی امین کا واضح اعلان
اسلام آباد:خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت افغان باشندوں کو زبردستی نہیں نکالے گی تاہم اگر کوئی رضاکارانہ طور پر جانا چاہے تو ہم ان کو بھجوا دیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان میں جب تک امن نہیں ہوگا اس پورے خطے میں امن نہیں ہوسکتا۔
ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان لوگوں نے ہتھیار اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعتماد کا رشتہ بنانا پڑے گا، جب تک افغانستان اور بارڈر ایریاز میں امن نہیں ہوتا حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کے پی میں ہم زبردستی لوگوں کو افغانستان نہیں بھجوائیں گے، صوبے کی پولیس اور صوبے کی انتظامیہ کسی کو بھی زبردستی نہیں نکالے گی، ہم کیمپ لگائیں گے جو رضاکارانہ طور پر جانا چاہے ان کو بھجوائیں گے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ دفترخارجہ کے کہنے پر ہی ہم افغانستان کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں، افغان مہاجرین کے حوالے سے وفاق کی پالیسی غلط ہے۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان میں اس لیے ہے کہ یہ اسلامی ملک ہے، جہاں سے غزوہ ہند ہونی ہے وہ یہی خطہ ہے، امریکا اور پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں لکھا ہے اس خطے میں معدنیات ہیں اور اس کے بعد سے یہاں دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات پاکستان کے لیے ہوں گے، اگر کوئی راستہ نکلتا ہے تو مذاکرات ہونے چاہئیں،
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ پریشانی امن و امان اور دہشت گردی کا تھا۔