ڈہرکی؛ لڑکی کے اغوا کا ڈراپ سین، نکاح کے اوپر نکاح، والدین ہی قصور وار نکلے
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
جہانگیر عالم: ڈہرکی میں اغوا ہونے والی لڑکی سامنے آگئی، نکاح کے اوپرنکاح سے نالاں لڑکی دربدربھٹکتی رہی۔
تفصیلات کےمطابق سلمی ملک کا کہنا تھا کہ والدین زبردستی دوسری شادی کروارہے تھے، پہلے رشتہ دارزاہدسے شادی نکاح کرایاگیا، اب نکاح کے اوپرنکاح کرکہ دوسری جگہ شادی کروا رہےتھے۔
دودن بعد دوسرا نکاح تھا گھرسے بھاگ آئی تھی، علاقے کے معزز جام زوہیب کے پاس پناہ لی تھی، جان کوخطرہ لاحق تھا۔
اس سے قبل سلمی کے اہلخانہ نے پولیس اسٹیشن میں احتجاج کیا تھا، پولیس نے سلمی کے والد کی مدعیت میں جام غلام محمد ڈہر سمیت 6 افراد پر مقدمہ درج کیا۔
پولیس نے سلمی کو برآمد کرکے مقامی عدالت پیش کیا، عدالت نے سلمی کی رضامندی کے پیش نظر شوہر کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔
افغانیوں کا انخلا، لاہور میں افغانی باشندوں کی تعداد کتنی؟
.ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی: جعلی پولیس بن کر آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ڈکیتی، اغوا میں ملوث 2 ملزمان گرفتار
کراچی میں 2 افراد کو جعلی پولیس اہلکار بننے اور آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ڈکیتیوں اور اغوا کی وارداتوں کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ضلع شرقی پولیس کے ترجمان کے بیان کے مطابق مشتبہ افراد نجی ڈیجیٹل سائٹ سے ڈیٹا چوری کرتے تھے اور ڈیلیوری حاصل کرنے کے لیے صارفین سے رابطہ کرتے تھے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گاہکوں سے رابطہ کرنے کے بعد، مشتبہ افراد جعلی پولیس یونیفارم پہن کر صارفین کی دہلیز پر پہنچ کر گھروں میں ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں کرتے۔‘گلشن اقبال اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نعیم راجپوت نے جرائم کے کئی مقامات سے حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے 2 ملزمان کو شناخت کرنے کے بعد گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان کے قبضے سے 30 بور کے دو غیر قانونی پستول بمعہ ایمونیشن، موبائل فون، مسروقہ گھڑیاں سمیت دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کے زیر استعمال گاڑی، جس پر جعلی نمبر پلیٹ BKY-361 موجود تھی، کو پولیس نے قبضے میں لے لیا اور کار کے ریکارڈ کی بنیاد پر معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔تفتیش کے بعد گرفتار ملزمان نے گھر پر ڈکیتی کے دوران لوٹی گئی اشیا کی نشاندہی کی۔ ان میں پولیس کی تین وردیاں، آٹھ چوری شدہ موبائل فون، درجنوں موبائل فون کور، درجنوں یونیفارم بیجز، مختلف موبائل سمز اور 20 بیگز شامل ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اشیا ڈکیتی کی درج ذیل وارداتوں کے دوران چوری کی گئیں۔
6 مارچ کو گلشن اقبال بلاک 1 میں ایک گھر میں گھس کر چار موبائل فون، ایک ایل ای ڈی ٹی وی، طلائی زیورات، گھڑیاں اور نقدی لوٹی گئیں۔ اس کے بعد وہ متاثرہ کو اغوا کر کے کراچی کے مختلف مقامات پر اے ٹی ایم میں رقم نکالنے کے لیے لے گئے. جس کے بعد وہ فرار ہوگئے۔ واقعے سے متعلق مقدمہ گلشن اقبال تھانے میں درج کیا گیا۔
8 فروری کو گلشن اقبال بلاک 13D میں ایک اور واقعے میں ملزمان پولیس کی مذکورہ وردی میں اپنا تعارف کرانے کے بعد ایک اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور متاثرہ کا موبائل فون، اے ٹی ایم کارڈ اور کار کے کاغذات لے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور کراچی کے مختلف اے ٹی ایمز اور ایزی پیسہ کی دکانوں پر لے گئے اور اسے زبردستی رقم نکالنے پر مجبور کیا۔اس کے بعد وہ گاڑی لے کر فرار ہوگئے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ گلشن اقبال میں درج کیا گیا ہے۔دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کراچی کے اندر اور باہر متعدد وارداتیں کر چکے ہیں جن کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جبکہ مزید مقدمات کو گرفتاری اور تفتیش کے لیے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔