پاکستان کا عالمی برادری سے دہشتگردوں کے زیرقبضہ ہتھیاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کے قبضے میں موجود غیر قانونی ہتھیاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آریا فارمولا اجلاس میں پاکستان نے بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد گروپوں کے جدید اور مہلک غیر قانونی ہتھیاروں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا پاکستانی مشن کے قونصلر سید عاطف رضا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان دہشت گرد گروپوں کے پاس افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر مالیت کے غیر قانونی ہتھیار موجود ہیں جو پاکستان کے شہریوں اور مسلح افواج کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کو مخالف ملکوں سے بیرونی امداد اور مالی معاونت بھی مل رہی ہے جو ان کے لیے خطرہ بن چکی ہے قونصلر عاطف رضا نے عالمی برادری سے یہ مطالبہ کیا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے ہتھیاروں کے ذخیرے کو بازیاب کیا جائے اور دہشت گرد گروپوں تک ہتھیاروں کی رسائی کو روکا جائے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر قانونی ہتھیاروں کی بلیک مارکیٹ کو بند کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عالمی امن اور پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے
.ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دہشت گرد گروپوں ہتھیاروں کے
پڑھیں:
کشمیری خواتین کیخلاف مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے، کشمیر وومن کانفرنس
مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبرویزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز برسلز میں کشمیر کونسل یورپ کے زیراہتمام ”انٹرنیشنل وومن کانفرنس“ کے مقررین نے کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی خاموشی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یورپی پریس کلب برسلز میں منعقدہ کانفرنس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں خواتین پر ہونے والے مظالم کا پردہ چاک کیا گیا۔کانفرنس کے مقررین میں چیئرمین کشمیر کونسل یورپ علی رضا سید، یورپی خاتون ایلا فاروقی، کشمیری خاتون اسکالر آمنہ اقبال اور نوجوان کشمیری دانشور وصی سید شامل تھے۔ کانفرنس کی نظامت کے فرائض انسانی حقوق کی کارکن نوین قیوم نے انجام دیے۔ مقررین نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز منظم طریقے سے خواتین کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ 1991ء میں کنن پوشپورہ میں سو کے لگ بھگ خواتین کی اجتماعی آبروریزی کا دلدوز واقعہ اور 2009ء میں آسیہ اور نیلوفر کی آبروریزی اور بہیمانہ قتل جیسے دردناک واقعات آج بھی کشمیریوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ مجرم بھارتی فوجی آزادانہ گھوم رہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں خواتین کی آبرویزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، انہوں نے کہا کہ کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔ کانفرنس میں 30 سے زائد خواتین نے شرکت کی، جنہوں نے کشمیری خواتین کے حق میں آواز بلند کی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری خواتین سمیت کشمیریوں پر مظالم کے بارے میں اپنی خاموشی توڑے، مظالم بند کروائے اور انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز اور محمد یاسین ملک سمیت تمام کشمیری اسیران کی رہائی کیلئے کردار ادا کرے۔چیئرمین کشمیر کونسل ای یو علی رضا سید نے اس موقع پر کہا کہ امن کا تعلق انصاف سے ہے اور جب تک کشمیریوں کو انصاف نہیں مل جاتا تب تک جنوبی ایشیا میں دیرپا خوشحالی اور پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔