چھبیس نومبر احتجاج: پی ٹی آئی کے 88 کارکنان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
چھبیس نومبر احتجاج: پی ٹی آئی کے 88 کارکنان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 5 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس) پی ٹی آئی کے 88 کارکنان کو شناخت پریڈ کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر سپرا کے سامنے ملزمان کو پیش کیا گیا جہاں پراسیکوشن نے تمام ملزمان کی شناخت کرانے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔
پراسیکوشن نے موقف اختیار کیا کہ ملزمان سے اسلحہ اور دیگر اشیاء برآمد کرنی ہیں۔
عدالت نے پراسیکوشن کی درخواست پر پی ٹی آئی کارکنان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
پی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے وکلاء انصر کیانی، سردار محمد مصروف، زاہد ڈار اور مرتضی طوری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف تھانہ کوہسار اور ترنول میں مقدمات درج ہیں۔
.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی کے
پڑھیں:
مصطفیٰ عامر کیس: ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے جج کا اختیارات واپس لینے پر سپریم کورٹ سے رجوع
کراچی کے علاقے ڈیفنس کے رہائشی مصطفیٰ عامر کیس میں ملزم ارمغان کا جسمانی ریمانڈ نہ دینے والے جج سید ذاکر حسین نے اختیارات واپس لینے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
سابق منتظم جج اے ٹی سی سید ذاکر حسین نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا، عدالت نے درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل سندھ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور شکایت کنندہ کو نوٹس جاری کردیا۔
ارمغان کو 2 سیکیورٹی کمپنیز، ایک باکسر ایسوسی ایشن سیکیورٹی گارڈز فراہم کرتے تھے، ارمغان کو سامان پہچانے والی کوریئر کمپنی کو بھی نوٹس کیا گیا ہے۔
سید ذاکر حسین کی اپیل میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 18 فروری کو پراسیکیوشن کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا ہے، دو رکنی بینچ نے منتظم جج کے اختیارات کسی اور عدالت منتقل کرنے کی سفارش کی ہے۔
سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے اے ٹی سی جج کے خلاف سخت ریمارکس دیے گئے ہیں، فاضل جج سے نہ تو کوئی جواب طلب کیا گیا نہ موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔
مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مختلف پہلوؤں،پس پردہ عوامل اور محرکات پر باہم گفت و شنید اور تبادلہ خیال کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اداروں سے سوالات و جوابات سمیت مزید ضروری تفصیلات کی طلبی کا اعادہ کیا گیا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ موقف پیش کرنے کا موقع نہ دینا آئین کے آرٹیکل 10-A کی خلاف ورزی ہے، درخواست گزار کیخلاف سخت ریمارکس کو خارج کیا جائے تاکہ عدالتی کیریئر پر لگے داغ صاف ہوسکیں۔