امریکی صدر نے حوثیوں کو نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو شیئر کردی، ’اب کوئی حملہ نہیں ہوگا‘ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز پر یمن کیخلاف امریکی کارروائی پر مشتمل ویڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو بلیک اینڈ وائٹ فوٹیجز پر مشتمل ہے، جس ممکنہ طور پر کسی فوجی ڈرونز یا دوسرے طیاروں سے شوٹ کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں تقریباً عمودی زاویے سے کئی درجنوں افراد کو نشانہ بناتے دکھایا گیا۔
These Houthis gathered for instructions on an attack.
They will never sink our ships again! pic.twitter.com/lEzfyDgWP5
— Donald J. Trump (@realDonaldTrump) April 4, 2025
ویڈیو میں نشانہ بنائے جانے والے ان افراد سے متعلق امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’یہ حوثی ایک حملے کی منصوبہ بندی کے لیے اکٹھے ہوئے تھے‘۔
ویڈیو میں نیم دائرے کی صورت میں جمع افراد کو دکھایا گیا ہے، تاہم فوراً ہی اس مقام پر کے وسط میں روشنی نمودار ہوتی ہے، جس کے بعد دھواں اٹھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ نے یمن میں حوثی باغیوں پر فوجی حملوں کی خبر کیوں لیک کی؟
فوٹیج ایک وسیع شاٹ تک کاٹتی ہے جس میں حملے کے مقام پر دھواں اور سڑک کے اوپر کھڑی کئی گاڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ حملے کے مقام پر ایک وسیع گڑھا دکھانے کے لیے کیمرہ پھر قریب سے کاٹتا ہے۔ تاہم کسی بھی لاش کی آسانی سے شناخت نہیں ہو پاتی۔
اس حوالے سے امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ’اب ان حوثیوں کی طرف سے کوئی حملہ نہیں ہوگا، وہ ہمارے جہازوں کو دوبارہ کبھی نہیں ڈبوئیں گے‘۔
امریکی دعوے کے مطابق یہ حملے حوثیوں کی جانب سے امریکی بحری جہازوں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
دوسری طرف حوثیوں سے تعلق رکھنے والے ذرائع ابلاغ نے اس ہفتے درجنوں حملوں میں متعدد ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جس کا الزام انہوں نے امریکا پر عائد کیا ہے۔
حوثیوں کے مطابق بحیرہ احمر میں امریکی مفادات کیخلاف کارروائی دراصل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں کا ردعمل ہے۔
امریکی حکام کے مطابق علاقائی استحکام اور بحیرہ احمر میں آزادانہ آمد و رفت برقرار رکھنے کے لیے خطے میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین کی معاونت کے لیے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس کارل ونسن بھیجا جائیگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی صدر بحیرہ احمر حوثی ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ بردار بحری جہاز یمن یو ایس ایس کارل ونسن یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومینذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس کارل ونسن یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین امریکی صدر یو ایس ایس کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے 75 دن، کیا یہ واقعی ایک سنہری دور کا آغاز ہوگا؟
کراچی (نیوز ڈیسک) ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے پہلے ڈھائی ماہ میں معاشی پالیسیوں کے حوالے سے کئی بڑے فیصلے کیے، جن میں سخت ٹیرف، ٹیکس کٹوتیوں کی تجدید، اور ضابطوں میں نرمی شامل ہیں۔
اگرچہ ان اقدامات پر تنقید بھی ہوئی، لیکن ماہرین اور کچھ معتبر ذرائع کے مطابق، ان پالیسیوں کے کئی مثبت اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی وہی ہے جس کے لیے امریکیوں نے انہیں ووٹ دیا، انہوں نے دنیا بھر کےممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیسا سلوک ہم کرتے ہیں ویسے ہی کریں ۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ کامیاب ہوئی تو نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ امریکہ اپنی صنعتی عظمت دوبارہ حاصل کر لے گا۔ کیا یہ واقعی ایک “سنہری دور” کا آغاز ہوگا؟ ٹرمپ کے ٹیرف نے غیر ملکی کمپنیوں کو امریکہ میں سرمایہ کاری کے لیے مجبور کیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جو ممالک امریکی مصنوعات پر زیادہ ٹیکس لگائیں گے، انہیں بھی اسی طرح کے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے امریکی فیکٹریوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری شروع کی، خاص طور پر آٹو موٹیو اور اسٹیل کے شعبوں میں۔ عالمی کمپنیوں نے اپنی سپلائی چینز کو امریکہ منتقل کرنا شروع کیا، جس سے امریکی معیشت کو فائدہ ہوا۔
ٹرمپ کی امریکا پہلےپالیسی نے مینوفیکچرنگ سیکٹر میں نئی نوکریاں پیدا کیں۔ انہوں نے مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے کمپنیوں کو مراعات دیں۔ فروری 2025تک، مینوفیکچرنگ میں 50ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوئیں، جو کہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔
امریکی ملازمتوں کی واپسی سے دیگر ممالک میں لیبر مارکیٹ پر دباؤ کم ہوا۔ ٹرمپ نے تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کے لیے نئے اجازت نامے جاری کیے، جس سے توانائی کے اخراجات کم ہوئے۔ تیل کی عالمی قیمتیں مستحکم ہوئیں، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے اچھا رہا۔ وائٹ ہاؤس سے جاری فیکٹ شیٹ کے مطابق، ٹرمپ نے غیر ملکی تجارت کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے جوابی محصولات نافذ کر دیے ۔
یہ پالیسی نہ صرف امریکی معیشت کو مضبوط کرنے کا وعدہ ہے بلکہ کارکنوں کی حفاظت، صنعتی طاقت کی بحالی، اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کا عزم بھی ہے۔
تجارتی خسارے پر ضرب لگاتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ معیشت کے لیے زہر ہے۔ 10 فیصد بنیادی محصول سے اسے کم کرنے کی کوشش معاشی استحکام کی نوید ہے۔غیر ملکی حریفوں پر انحصار ختم کر کے، یہ پالیسی اہم سپلائی چینز کو محفوظ بناتی ہے، جو قومی سلامتی کے لیے سنگ میل ہے۔
امریکی محنت کشوں کو غیر منصفانہ تجارت سے بچانے کے لیے محصولات کا نفاذ نوکریوں کو محفوظ اور نئے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ کھوکھلی صنعتی بنیاد کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے، یہ پالیسی پیداوار کو وطن واپس لانے کی ترغیب دے رہی ہے۔
تمام ممالک پر 10 فیصد محصول عائد کر کے، ٹرمپ نے کہاہمارے ساتھ ویسا سلوک کرو جیسا ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں۔یہ منصفانہ تجارت کی طرف بڑا قدم ہے۔ سب سے بڑے خسارے والے ممالک پر زیادہ محصولات سے تجارت کو متوازن کرنے کا راستہ ہموار ہوگا۔ اگر شراکت دار جوابی کارروائی کریں تو محصول بڑھائیں، یا تعاون کریں تو کم کریں۔یہ لچک کامیابی کی ضمانت ہے۔
ادویات، سیمی کنڈکٹرز، اور توانائی جیسے شعبوں کو مستثنیٰ رکھ کر ملکی ضروریات کو ترجیح دی گئی ہے۔ امریکی مارکیٹ تک رسائی مراعات ہے، حق نہیں۔یہ اعلان عالمی سطح پر امریکہ کی طاقت بڑھا سکتا ہے۔
کرنسی ہیر پھیر اور 200 ارب ڈالر کے ویلیو ایڈڈ ٹیکس بوجھ کو کم کر کے امریکی کمپنیوں کو سہارا دیا جا رہا ہے۔ 225 سے 600 ارب ڈالر کے جعلی سامان کے نقصان کو روک کر، یہ پالیسی مسابقت اور صارفین کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے۔
1997سے کھوئی گئی پچاس لاکھ نوکریوں کو واپس لانے کا عزم امریکی خواب کو زندہ کر سکتا ہے۔ متوسط طبقے اور چھوٹے شہروں کو معاشی طاقت دے کر، یہ پالیسی سماجی انصاف کی طرف پیش رفت ہے۔ بائیڈن دور کے 49 ارب ڈالر کے زرعی خسارے کو پلٹا کر، ٹرمپ زراعت کو دوبارہ عروج پر لے جانا چاہتے ہیں۔
امریکا سب سے پہلے کے نعرے کے تحت، یہ محصولات عالمی منڈیوں میں امریکی دبدبہ بڑھائیں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ 10فیصد عالمی محصول سے معیشت 728ارب ڈالر بڑھے گی، 28 لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گی، اور ملکی آمدنی ساڑھے پانچ فیصد بہتر ہوگی۔
پہلے دور کے محصولات نے معیشت کو مضبوط کیا اور پیداوار واپس لائی۔ تحقیق بتاتی ہے کہ محصولات سے قیمتوں پر کم اثر پڑتا ہے، یعنی صارفین کے لیے سستی برقرار رہے گی۔ امریکی مصنوعات کی خریداری کو فروغ دے کر، یہ پالیسی گھریلو صنعتوں کو نئی زندگی دے گی۔ توانائی، ٹیکس کٹوتی، اور ضابطوں میں کمی کے ساتھ مل کر، یہ پالیسی امریکی خوشحالی کا نیا دور شروع کر سکتی ہے۔
Post Views: 1