بجلی ٹیرف ریلیف صرف تین ماہ کے لیے ہے:مشیر خزانہ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 5th, April 2025 GMT
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ بجلی ٹیرف ریلیف صرف تین ماہ کے لیے دیا گیا ہے جب کہ اس میں لائف لائن صارفین کے لیے کچھ بھی فائدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے بجلی ٹیرف میں ریلیف سے متعلق اعلان پر کڑیت نقید کرتے ہوئے مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا پیش کردہ عارضی پیکیج دراصل پی ٹی آئی حکومت کے سرمائی پیکیج کی نقل ہے، مگر اس سے نہ صنعت، نہ زراعت اور نہ ہی عوام کو کوئی حقیقی فائدہ ملنے والا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں دیا گیا سرمائی پیکیج اس عارضی اسکیم کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع بخش تھا۔ وزیراعظم کا پیش کردہ ٹیرف صرف 10 روپے پیٹرولیم لیوی اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹ پر مبنی ہے، جس میں آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی شرائط کا حصہ برائے نام ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ واقعی ریلیف ہے تو پھر عوام نے سردیوں میں بجلی کا استعمال کیوں کم رکھا؟ کیا اس نئے پیکیج سے کھپت بڑھے گی؟ مشیر خزانہ نے شہباز شریف کی جانب سے 1.
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی حکومت کے ارکان کے بیانات انتہائی غیرذمہ دارانہ ہوتے ہیں، علی امین گنڈاپور
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے بیانات انتہائی غیر ذمے دارانہ ہوتے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی کا حل ہمارے پاس ہے، اس جنگ کو جیتنے کےلیے آپ کو پہلے لوگوں کے دل جیتنا پڑیں گے۔
پن بجلی کا منافع ادا کرو، علی امین نے شہباز شریف کو مراسلہ لکھ دیاوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وزیراعظم شہبازشریف کو مراسلہ لکھ دیا اور مطالبہ کیا کہ وفاق پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے بقایاجات ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں دہشت گردی ختم ہوئی اور پھر ہماری حکومت ہی ختم کردی گئی، جس طرح بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہٹائی گئی ہمیں اس پر تحفظات ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کےلیے پورا زور لگایا گیا، کہا گیا جنرل باجوہ نے ہماری حکومت گرائی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ساری توجہ پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن پر رہی، مجھے وفاقی حکومت، وزرا اور وزیراعظم پر بہت افسوس ہے۔
علی امین گنڈاپور نے یہ بھی کہا کہ جب ان علاقوں کا پتہ نہ ہو کہ بارڈر کیسا ہے تو کیسے جنگ لڑی جاسکتی ہے، ہماری ذمے داری ہے کہ ہم نے اپنے شہریوں کو تحفظ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو خط لکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ہوتی ہے وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوتے رہتے ہیں، ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنی کپیسٹی بلڈنگ کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہم نے ورکنگ شروع کی ہوئی ہے، اس کے بڑے اچھے نتائج آرہے ہیں، کرک میں حملہ ہوا تو عوام نکلے کہ اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنی فورسز کےساتھ کھڑے بھی ہوں گے اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی کریں گے، وفاقی حکومت کے ارکان کے بیانات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوتے ہیں۔ اپیل کر رہا ہوں کہ جس بات چیت پر آپ نے آمادگی کی ہے اس پر عمل کریں، جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا تب تک پورے ریجن میں امن نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آپ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے، اس جنگ کو جیتنے کےلیے آپ کو پہلے لوگوں کے دل جیتنے پڑیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہمیں کہا افغانستان سے بات چیت کےلیے ٹی او آرز بنائیں، 2 سے3 مہینے ٹی اوآرز دیے ہوئے ہوگئے ہیں، ہمیں جواب نہیں ملا۔